حکومت کی ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کے تناظر میں وزیراعظم شہبازشریف سے اتحادی جماعتوں کے وفود کی ملاقاتیں ہوئی ہے۔ پیپلز پارٹی، ایم کیو ایم، استحکام پاکستان پارٹی اور ق لیگ کے وفود شامل ہیں۔
ستائیسویں آئینی ترمیم پر پیپلز پارٹی کے وفد کی وزیراعظم سے ملاقات ہوگئی۔ ملاقات میں مجوزہ ترمیم کی شقوں اور مؤقف پر تفصیلی مشاورت کی گئی۔ پی پی کاوفدملاقات کے بعد سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کیلئے خصوصی طیارے کے ذریعے کراچی روانہ ہوگیا۔
پیپلزپارٹی کے وفد میں عرفان قادر، راجا پرویز اشرفم،نوید قمر اور شیری رحمٰن شامل تھے۔ حکومتی وفد میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، اعظم نذیر تارڑ اور احسن اقبال، رانا ثناء اللہ اور اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان شامل تھے۔
قبل ازیں وزیراعظم شہبازشریف سے خالدمقبول صدیقی کی قیادت میں ایم کیوایم وفد نے ملاقات کی، وفد میں گورنر سندھ کامران ٹیسوری،وفاقی وزیرصحت سید مصطفیٰ کمال، ڈاکٹر فاروق ستار، جاوید حنیف خان، سید امین الحق اور خواجہ اظہار الحسن شامل تھے۔
دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف سے استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان نے بھی ملاقات کی، وزیر مملکت برائے سمندر پار پاکستانیز عون چوہدری بھی ملاقات میں موجود تھے۔
چوہدری سالک حسین کی سربراہی میں ق لیگ کے وفد کی بھی وزیراعظم سے ملاقات ہوگئی،اعلامیے کے مطابق ملاقات میں مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم پر گفتگو اور مشاورت ہوئی۔
دوسری جانب ستائیسویں آئینی ترمیم کی منظوری کیلئے حکومت کی سرتوڑ کوششیں جاری ہیں۔ رابطوں میں تیزی آگئی۔ نمبر گیم پوری ہونے کا بھی دعویٰ کیا جارہا ہے۔
حکومت کو جے یو آئی کے بغیر ہی سینیٹ میں 65 ارکان کی حمایت ملنے کا یقین ہے۔ 96 کے ایوان میں پیپلزپارٹی کے 26۔ ن لیگ کے 20۔ بی اے پی کے 4۔ ایم کیوایم اور اے این پی کے 3،3 سینیٹرز موجود ہیں۔ اے این پی اور 7 آزاد سینیٹرز بھی ترمیم کے حق میں ووٹ ڈالیں گے۔
میڈیا سے گفتگو میں وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ مضبوط دفاع کیلئے ستائیسویں آئینی ترمیم کے ذریعے تبدیلیاں کریں گے، ہمارا دفاع کا طریقہ کار 1971 کا وضع کردہ ہے۔ 45 سال میں جنگی حکمت عملیاں بدل چکیں ۔ مضبوط عدلیہ، مضبوط دفاع اور مضبوط جمہوریت ہماری خواہش ہے۔ کوئی ایسی ترمیم نہیں لائیں گے جس سے آئین کی بنیاد کمزور ہو۔





















