محکمہ پبلک ہیلتھ خیبر پختونخوا میں 45کروڑ 19 لاکھ روپے کی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈیٹرجنرل کی رپورٹ کےمطابق سب سےبڑی بےقاعدگی ہری پور ڈویژن کےپانی بلوں میں کی گئی ہے اور پانی استعمال کرنے والے صارفین نے محکمہ آبنوشی ہری پور نے 36کروڑ 34 لاکھ روپے کی ادائیگی نہیں کی اور خطیر رقم کی وصول میں ناکام رہا ہے ۔
آڈٹ رپورٹ میں ٹیوب ویلزکی سولرائزیشن منصوبےمیں خلاف قانون کنسلٹنٹ کو 4کروڑ روپے کی ادائیگیوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے،یہ بھی انکشاف ہوا کہ بارہ کہو اسلام آباد کو پانی کی سپلائی والےٹیوب ویلوں کے بجلی بل بھی ہری پور ڈویژن نے ادا کئے جو کہ 20 لاکھ روپے بنتے ہیں ۔
اسی طرح ضلع خیبر کے آب نوشی منصوبوں میں 2 کروڑ 34 لاکھ روپےکی مشکوک ادائیگیاں کی گئیں ۔ضم قبائلی اضلاع کے پانچ واٹر اسکیموں کے ٹینڈر پر7 فیصد انکم ٹیکس وصول نہ کرنے پر 1 کروڑ 83لاکھ روپےکا خسارہ ہوا ۔
آڈٹ نےخیبر ڈویژن میں ترقیاتی کام شروع کرنے سے پہلے 46 لاکھ روپے کی ایڈوانس ادائیگیوں پر اعتراض لگایا گیا ہے۔





















