پاکستان تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) نے منفرد احتجاج کا سلسلہ شروع کرتے ہوئے پارلیمنٹ کے باہر اپنی ہی اسمبلی لگالی جبکہ اجلاس کی صدارت سابق اسپیکر اسد قیصر نے کی۔
اجلاس میں حکومتی اقدامات کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور پی ٹی آئی رہنماؤں نے قومی و صوبائی اسمبلیوں اور سینیٹ سے ارکان کی برطرفی کو انتقامی کارروائی قرار دیا۔
بیرسٹر گوہر نے بانی کے مقدمات ختم کرنے اور نااہل اپوزیشن ارکان کی بحالی کی قراردادیں پیش کیں جو متفقہ طور پر منظور کر لی گئیں۔
ثناء اللہ مستی خیل نے خطاب میں کہا کہ ہمیں مجبور کیا گیا، ہماری زبان بند کر دی گئی، ہم صرف چاہتے ہیں کہ اس ملک کو آئین و قانون کے مطابق چلایا جائے۔
انہوں نے قدرتی آفات کو عوام کے اعمال کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے آئینی پاسداری ناگزیر ہے۔
پی ٹی آئی رہنما داوڑ کنڈی نے ڈیرہ اسماعیل خان اور ٹانک میں سیلابی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے علاقے میں ہر سال اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے۔ ان مسائل کا مستقل حل ڈیموں کی تعمیر ہے۔
اجلاس کے دوران سیلاب سے جاں بحق ہونے والے افراد کے لیے فاتحہ خوانی بھی کی گئی۔
بعد ازاں پی ٹی آئی کی "اپوزیشن اسمبلی" کا اجلاس جمعہ تک ملتوی کر دیا گیا۔






















