وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ ایوان بالا میں موجود رکن کی کمپنی نے سیالکوٹ شہر کو تباہ کر دیا ہے، ایوان بالا میں لوگ مقبولیت نہ ہونے کے باوجود کیسے آجاتے ہیں۔
قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا کہ حالیہ سیلاب مین میڈ تباہی ہے، گلیشئر پگھل رہے ہیں، 12،14 سال میں کئی بار سیلابی صورتحال کا سامنا کرنا پڑا ہے، کے پی میں بھی تباہی ہوئی وہاں بھی تمام دریاؤں کی حدود میں انسانوں نے قبضہ کر رکھا تھا۔
وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ کبھی ہم اقوام متحدہ کو اپیل کرتے ہیں کبھی کسی کو لیکن اپنے اعمال ٹھیک نہیں کرتے، میرے ضلع میں دو دریا داخل ہوتے ہیں وہ ساری آبادیاں بہا کر لے گئے ہیں۔
خواجہ آصف کا کہنا تھا کہ ایوان بالا میں موجود رکن کی کمپنی نے سیالکوٹ شہر تباہ کردیا اور سڑکیں ناقص تعمیر کی گئی یہ لوگ کیسے ایوانوں میں آ جاتے ہیں ؟۔
ان کا کہنا تھا کہ دریاؤں میں ہوٹل بھی ہم لوگوں نے بنا رکھے ہیں، سیاسی دکانداری کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئے ڈیم بنانے میں دس پندرہ سال لگتے ہیں، سیکڑوں چھوٹے ڈیم بنائیں اور آبی ذخائر بننے چاہیے۔






















