اینٹی کرپشن کورٹ سندھ نے سابق ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی (ایس بی سی اے) منظور قادر کاکا سمیت 19 ملزمان کو نسلہ ٹاور کرپشن کیس میں بری کر دیا۔
نسلہ ٹاور کرپشن کیس میں پراسیکیوشن منظور قادر کاکا اور دیگر افسران پر زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ ثابت نہیں کرسکا جس پر عدالت نے ملزمان کو بری کردیا۔
اینٹی کرپشن کورٹ کے جج امین اللہ صدیقی نے کیس کا فیصلہ سنایا جس میں سابق ڈائریکٹر جنرل سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی منظورقادر کاکا ، سابق ڈائریکٹرعلی مہدی ، سابق ڈائریکٹر علی غفران ، سابق ڈپٹی ڈائریکٹر سمیع صدیقی اور علی ظفر سمیت 19 ملزمان کو بے گناہ قرار دیا۔
عدالت نے فیصلے میں قرار دیا کہ استغاثہ ملزموں پر زمین کی غیرقانونی الاٹمنٹ ثابت نہیں کرسکا۔
سپریم کورٹ کے حکم پر فروری 2022 میں شارع فیصل پر تعمیرشدہ نسلہ ٹاور کو غیر قانونی قرار دے کر ڈیمولیش کیا گیا تھا۔
ملزمان پر الزام تھا کہ انہوں نے نسلہ ٹاور کے بلڈر کو نقشے سے ہٹا کر غیرقانونی طور پر زمین الاٹ کی لیکن استغاثہ عدالت میں ملزموں کے خلاف ٹھوس ثبوت پیش نہیں کرسکا۔





















