خیبرپختونخوا میں ایف بی آرکی ملی بھگت سے چھبیس کروڑ روپے مالیت کے سگریٹ چوری ہونے کا انکشاف ہوا ہے،سینیٹ کی قائمہ کمیٹی داخلہ نے ایف بی آر حکام کو وضاحت کے لیے طلب کرلیا۔
سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ کےاجلاس میں ایف بی آرکی ملی بھگت سے چھبیس کروڑ روپے مالیت کےسگریٹ چوری کا معاملہ سامنے آیا۔چئیرمین کمیٹی فیصل سلیم رحمان نےکہا خیبرپختونخوا میں سرکار نے خود چوری کی اور سرکار ہی اب تفتیش کر رہی ہے۔
حکام نےبتایا صوابی پولیس کے مطابق سگریٹ کے 2828 کارٹن سرکاری گودام سے چوری ہوئے جو ایف بی آر کے پاس تھا،ڈی سی کی درخواست پر مقدمہ درج ہوا،کمیٹی نے ہدایت کی ایف بی آر آئندہ اجلاس میں پیش ہوکربتائیں کہ ان کے افسر کیسے چوری میں ملوث ہیں؟۔
اجلاس میں خیبرپختونخوا میں پنجاب رینجرزکی تعیناتی کا معاملہ سامنے آیا،جوائنٹ سیکرٹری داخلہ کا کہناتھاکہ چیئرمین ایف بی آرکی درخواست پررینجرز تعینات کی ہے،ان لیند ریونیو افسروں کو ریکوری کے دوران دھمکیاں ملتی ہیں،اس وجہ س رینجرز اہلکاروں کو تعینات کیاگیا،کابینہ نے بھی تعیناتی کی اجازت دی ہے۔






















