ٹرمپ نے کہا کہ جب سیکورٹی کی بات آتی ہے یوکرین کو سیکیورٹی کے حوالے سے بہت مدد ملے گی۔وہ دفاع کی پہلی لائن ہیں کیونکہ وہ یورپ ہیں، لیکن ہم ان کی بھی مدد کریں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی کیساتھ بیٹھ کر اوول آفس میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تھوڑے دن پہلے روسی صدر کے ساتھ اچھی ملاقات ہوئی ہے اور اس سے کچھ نکلنے کا امکان ہے۔ آج کی ملاقات بہت اہم ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ زیلنسکی کا ہمارے ساتھ ہونا اعزاز کی بات ہے، ان کے خیال میں ترقی ہو رہی ہے اور پیوٹن کی ملاقات سے بھی کچھ نکل سکتا ہے۔
زیلنسکی نے جنگ روکنے کی کوششوں پر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ قتل کو روکنے اور اس جنگ کو روکنے کے لیے آپ کی ذاتی کوششوں کا بہت شکریہ ادا کرتا ہوں ہم چاہتے ہیں کہ اس کا خاتمہ سب کے لیے اچھا ہو۔ یوکرین کے لوگوں نے نقصان اٹھایا ہے۔
ٹرمپ نے کہا کہ یوکرین کو سیکیورٹی کے حوالے سے بہت مدد ملے گی۔جب بھی سیکورٹی کی بات آتی ہے تو یوکرین کو بہت مدد ملے گی،وہ دفاع کی پہلی لائن ہیں کیونکہ وہ یورپ ہیں، لیکن ہم ان کی بھی مدد کریں گے۔
امریکی حکام کے مطابق یوکرین کے لیے آرٹیکل 5 طرز کی حفاظتی ضمانتوں کا وعدہ کیا گیا ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کا کیا مطلب ہے۔نیٹو معاہدے کے آرٹیکل 5 کے تحت رکن ممالک کو فوجی خطرات کی صورت میں ایک دوسرے کی مدد کرنا ضروری ہے۔
ایک سوال کے پوچھا گیا کہ کیا یوکرین کے لیے سیکیورٹی کی ضمانتوں میں امریکی فوجی بھی شامل ہو سکتے ہیں،جس کے جواب میں امریکی ٹرمپ نے کہا کہ شاید آج کے بعد ہم آپ کو بتا دیں گے۔ہم عظیم ممالک کے سات رہنماؤں سے بھی ملاقات کر رہے ہیں اور اس پر بات ہوگی۔
ٹرمپ نے کہا کہ انہوں نے صرف پیوٹن سے بالواسطہ بات کی ہے اور ملاقاتوں کے بعد فون پر گفتگو متوقع ہے۔پیوٹن میری کال کا انتظار کر رہے ہیں جب ہم اس میٹنگ سے فارغ ہو جائیں گے۔
یوکرین کے صدر زیلنسکی نے کہا کہ انہیں سب کچھ چاہیے، اور انہوں نے تربیتی مشن اور انٹیلی جنس شیئرنگ کا ذکر کیا جو یوکرینی فوج کو مضبوط بنانے کے لیے اہم ہیں۔یورپی رہنما بھی یوکرین کے تحفظ کے لیے پرعزم ہیں اور امریکا اس میں ان کی مدد کرے گا۔





















