کھاد سیکٹر پر مسابقتی کمیشن کی جائزہ رپورٹ جاری کر دی گئی ہے جس میں کہا گیاہے کہ پاکستان میں کھاد کی سالانہ پیدوار 71 لاکھ ٹن تک ہے ۔
رپورٹ کے مطابق لاگت، گیس فراہمی کے مسائل اور پرانی کھاد پالیسی،فرٹیلائزر سیکٹر کے مسائل ہیں، کھاد کی بلیک مارکیٹنگ، ذخیرہ اندوزی اور اسمگلنگ کو بڑےچیلنجز کا سامنا ہے ۔
فرٹیلائزیر سیکٹر سے متعلق اسٹیک ہولڈرز سے رائے طلب کر لی گئی ہے جبکہ رپورٹ میں کھاد کی پیداوار، ترسیل اور ریٹیل میں مسابقتی مسائل اجاگر کیا گیاہے ۔
رپورٹ میں کہاگیا ہے کہ گیس سیکٹر اصلاحات کے ساتھ نئی فرٹیلائزر پالیسی تشکیل دی جائے، تمام فرٹیلائز رپلانٹس کو گیس اور ایل این جی تک منصفانہ رسائی دی جائے، فرٹیلائزر سیکٹر میں متبادل توانائی کو ترجیح دی جائے۔
یوریا کی قلت اوربلیک مارکیٹنگ روکنے کیلئے مؤثر مانیٹرنگ کی جائے، فرٹیلائزر پالیسی کی تیاری کیلئے سرکاری اداروں کے درمیان بہتر رابطہ قائم کیا جائے، مسابقتی قوانین کی خلاف ورزی پرکارروائی عمل میں لائی جائے گی ۔





















