عوامی نیشنل پارٹی ( اے این پی ) کے مرکزی صدر اور سینیٹر ایمل ولی خان نے سینٹ میں دریائے سوات سے متعلق تحریک التواء جمع کرادی ہے جس میں دریا کے اردگرد متعدد غیرقانونی تعمیرات کے لیے این او سیز جاری کرنے پر سوالات اٹھائے ہیں۔
ایمل ولی خان کی جانب سے جمع تحریک التواء میں غیرقانونی این اوسیز اورادارہ جاتی غفلت پرشدید تشویش اور انکوائری کا مطالبہ کیا گیا ہے ۔
تحریک التواء میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ دریا کی باقاعدہ حدبندی نہیں کی گئی اور پشتوں کی عدم تعمیر کے باعث ہر سال سیلابی صورتحال پیداہوتی ہے۔
دریا کے اردگرد متعدد غیرقانونی تعمیرات کےلیے این او سیز جاری کیے گئے جن کی قانونی حیثیت اور شفافیت پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔
ایمل ولی خان نے این او اوسیز کے اجراء کے ذمے دار اداروں ، سفارش کنندگان اور فائدہ اٹھانے والوں کی مکمل تفصیلات سامنے لانے کا مطالبہ کیا ۔
تحریک التواء میں غیر قانونی این اوسیز کے اجرا کی شفاف انکوائری اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔






















