بیجنگ میں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس میں ہندوستان کو بار بار ہزیمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بھارتی وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے پاکستانی ہم منصب خواجہ آصف کے ریمارکس کا جواب دینے کیلئے وقت مانگا تو ان کی استدعا کو مسترد کر دیا گیا۔
وزیر دفاع خواجہ آصف نے جعفر ایکسپریس پر حملے سمیت پاکستان میں دہشت گردی اور کلبھوشن یادیو کو اپنے خطاب کا حصہ بنایا۔ بھارتی وزیر دفاع اور ان کے وفد نےاس پر احتجاج کیا اور مشترکہ اعلامیہ پر دستخط نہیں کئے۔
ایس سی او کے نو ارکان ایک جانب جبکہ بھارت تنہا رہا ۔ پاکستانی وزیر دفاع کو یہ فائدہ ہوا کہ وہ ریمارکس انڈیکس پر نمبر پانچ جبکہ بھارتی وزیر دفاع نمبر دو پر تھے۔
مشترکہ اعلامئے میں بھی بھارت پہلگام واقعہ کو پاکستان سے جوڑنے میں ناکام ہوا اور اس معاملے پر بھی سفارتی طور پر بالکل تنہا نظر آیا ۔ کسی رکن ملک نے بھارت کا ساتھ نہیں دیا۔
ایران کیخلاف اسرائیلی جارحیت کی تمام رکن ممالک نے مذمت کی جبکہ بھارت کا نکتہ نظر مختلف تھا ۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے اعلامیے سے واضح ہے کہ بھارت سفارتی طور پر تنہائی ہو گیا ہے۔






















