خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (ایس آئی ایف سی) کے قیام کے دوسرے سال میں توانائی کے شعبے میں اصلاحات کے باعث خودانحصاری کا سفر تیز تر ہوگیا ہے۔ بجلی چوری کے خلاف ٹاسک فورس نے 86 ارب روپے کی ریکوری کی ۔ گردشی قرضے پر قابو پانے کیلئے جامع حکمت عملی پر عمل درآمد شروع ہوگیا جبکہ گھریلو اور صنعتی صارفین کو ریلیف دینے کیلئے ٹیرف میں توازن لانے کی اسکیم بھی تیار کرلی گئی۔
سکھر میں 150 میگاواٹ پاور پراجیکٹ کی تعمیر سے جنوبی سندھ میں توانائی کی ضروریات کی تکمیل میں بہتری آئی۔ گلگت بلتستان میں ایک میگاواٹ کا سولر منصوبہ مکمل ہوگئے، جس سے ماحول دوست بجلی کی فراہمی شروع ہو گئی ۔
سعودی عرب کی 10 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کی امداد سے آزاد کشمیر میں 70 میگاواٹ کے دو ہائیڈرو منصوبوں پر عمل شروع ہوگیا ہے ۔ ایس آئی ایف سی کے تعاون سے چین کی کمپنی 'سِائنوٹیک سولر' کا تین گیگاواٹ کا سولر پلانٹ کراچی میں قائم کیا گیا جس سے بیٹری اور ای وی ٹرک پروڈکشن شروع ہو چکی ۔
این پی جی سی ایل اور چینی کمپنی کے درمیان 300 میگاواٹ سولر پلانٹ کے لیے 20 کروڑ ڈالر کا معاہدہ طے پا گیا ۔ شنگھائی الیکٹرک کی تھر کول بلاک ون میں سرمایہ کاری سے توانائی میں خود انحصاری کی راہ ہموار ہوگئی ۔ براؤن فیلڈ ریفائنری پالیسی کے تحت تین آئل ریفائنریوں کی اپگریڈیشن کیلئے 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے۔
ماڑی پٹرولیم کی 'غازیج فیلڈ' کے علاوہ اٹک ، وزیرستان اور دادو میں گیس کی نئی دریافتیں توانائی میں خود کفالت کی طرف پیش رفت ہے ۔ بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کی مجوزہ نجکاری سے سروس ڈیلیوری میں بہتری کی امید ہے۔ ایس آئی ایف سی کی قیادت میں توانائی ، پیٹرولیم اور قابلِ تجدید ذرائع میں اصلاحات، پائیدار ترقی کی بنیاد ہے۔





















