شعبہ توانائی کے گردشی قرض میں کمی کے لیے حکومتی کوششیں رنگ لے آئیں۔
وزارت توانائی کے مطابق سرکلر ڈیٹ کے خاتمے کے لیے 18 بینکوں کے کنسورشیم کے ساتھ 1275 ارب روپے کے قرض کا معاہدہ طے پا گیا ہے جبکہ صارفین کو اضافی سرچارج ادا نہیں کرنا پڑے گا اور موجودہ ڈیٹ سروسنگ سرچارج سے 5 تا 6 سال میں مکمل ادائیگی ہو جائے گی۔
موجودہ ڈیٹ سروسنگ سرچارج 3 روپے 23 پیسے ہے جبکہ فنانسنگ پر شرح منافع 3 ماہ کا کائبور مائنس 0.9 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
اس معاہدے سے پرانے مہنگے قرضے ختم ہوں گے اور نیا پیکج کم شرح سود پر حاصل ہوگا۔
معاہدے کے تحت 683 ارب روپے پاور ہولڈنگ لمیٹڈ کے قرضوں کی ادائیگی کے لیے مختص ہیں جبکہ 592 ارب روپے آزاد پاور پروڈیوسرز (آئی پی پیز) کو پرانی ادائیگیوں کی مد میں دیے جائیں گے۔
وزیراعظم شہباز شریف کی ہدایت پر قائم ٹاسک فورس کی کوششوں سے یہ تاریخی پیشرفت ممکن ہوئی اور 18 بینک آسان شرائط پر قرض فراہم کریں گے۔
وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے ایکس پر پیغام میں اسے تاریخی پیشرفت قرار دیا اور کہا کہ شہباز شریف حکومت نے تاریخ ساز توانائی اصلاحات کیں اور شعبہ توانائی میں گردشی قرضے کا دیرینہ مسئلہ کامیابی سے حل کر لیا گیا ہے۔





















