وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دو ہفتوں میں اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تنازع میں امریکی شمولیت کا فیصلہ کریں گے۔
جمعرات کو پریس بریفنگ کے دوران وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری کیرولین لیوٹ نے کہا کہ ’’ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ آئندہ دو ہفتوں میں فیصلہ کریں گے کہ آیا امریکہ اسرائیل-ایران تنازع میں شامل ہوگا یا نہیں۔ ‘‘
ٹرمپ کے پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے لیوٹ نے صحافیوں کو بتایا کہ "اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ قریب مستقبل میں ایران کے ساتھ مذاکرات ہونے یا نہ ہونے کا کافی امکان ہے، میں اگلے دو ہفتوں میں یہ فیصلہ کروں گا کہ آگے بڑھنا ہے یا نہیں۔"
ٹرمپ حامیوں کو صدر پر بھروسہ رکھنے کی ہدایت
کیرولین لیوٹ کا کہنا تھا کہ تنازع میں امریکی شمولیت کے بارے میں خدشات رکھنے والے ٹرمپ کے حامیوں کو "صدر ٹرمپ پر بھروسہ" رکھنا چاہیے۔
لیوٹ نے امریکی صدر کی پہلی مدت صدارت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ نے اپنے "طاقت کے ذریعے امن" کے نقطہ نظر سے دنیا کو محفوظ رکھا۔

انہوں نے بتایا کہ ایران کے ساتھ رابطے جاری ہیں تاہم، انہوں نے یہ واضح نہیں کیا کہ امریکی صدر کو کیوں لگتا ہے کہ مذاکرات کا "کافی امکان" موجود ہے۔
ایران میں رجیم چینج کے بارے میں انتظامیہ کے موقف پر سوال کیا گیا تو لیوٹ نے کہا کہ صدر کی "اولین ترجیح" یہ یقینی بنانا ہے کہ ایران کامیابی سے جوہری ہتھیار نہ بنا سکے۔
کانگریس کی منظوری سے متعلق سوالات پر تبصرے سے انکار
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکریٹری نے ایران کے حکام کے وائٹ ہاؤس آنے یا اسرائیل، ایران تنازع میں امریکی شمولیت کے لیے کانگریس سے منظوری لینے جیسے سوالات پر تبصرہ کرنے سے بارہا انکار کیا۔
چینی مداخلت کا کوئی ثبوت نہیں ملا
پریس سیکرٹری کا کہنا تھا کہ دیکھیں گے کل ایرانیوں کیساتھ یورپی یونین کی ملاقات کیسی رہتی ہے جبکہ چین کی ایران جنگ میں فوجی مداخلت کا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کے پاس ایٹم بم بنانے کے لیے تمام ضروری سامان موجود ہے اور انہیں صرف رہبرِ اعلیٰ کے ایک فیصلے کی ضرورت ہے جس کے بعد اس ہتھیار کی تیاری مکمل ہونے میں چند ہفتے لگیں گے۔
ایران کبھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب تر نہیں رہا
ایک سوال کے جواب میں کیرولین لیوٹ نے کہا ’’ امریکی حکومت کا خیال ہے کہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے قریب تر نہیں رہا۔"
ترجمان نے بتایا کہ امریکہ تنازعہ میں پیش رفت پر "جاری نگرانی اور مشاہدہ" کر رہا ہے اور صدر ٹرمپ حال ہی میں ایک انٹیلیجنس بریفنگ میں شریک ہوئے ہیں جبکہ قومی سلامتی کونسل کی طرف سے بھی انہیں مسلسل بریفنگ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ "ہمارے اسرائیلی ہم منصبوں، سب سے زیادہ نمایاں طور پر وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو، کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں۔"
ترجمان نے یہ بھی واضح کیا کہ ٹرمپ نے ہمیشہ " سفارت کاری کو ترجیح دینا چاہا ہے، لیکن صدر طاقت کا استعمال کرنے سے گریز نہیں کرتے اگر ضروری ہو۔"






















