بھارت کے شمال مشرقی علاقے میں مون سون کی موسلادھار بارشوں کے بعد سیلاب کے نتیجے میں 30 افراد ہلاک ہوگئے۔
بھارت کے شمال مشرقی ریاستوں میں معمولی سے زیادہ بارشوں نے نظام زندگی معطل کرکے رکھ دیا۔ مختلف واقعات میں 30 افراد ہلاک ہوگئے۔ منی پور میں شدید بارشوں سے سڑکیں تالاب بن گئیں، امدادی کارکن کشتیوں میں لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے لگے۔
سب سے زیادہ ریاست آسام میں 8 ہلاکتیں ہوئیں، اروناچل پردیش میں ندی نالوں میں طغیانی سے رابطہ سڑکیں بہہ گئیں۔ دریائے برہم پترا میں پانی کی سطح مسلسل بلند ہورہی ہے۔ دلی میں بھی شدید بارشیں ہوئیں۔ کئی علاقوں میں لوگوں کیلئے پیدل چلنا بھی دشوار ہوگیا۔
خیال رہے کہ بھارت میں ہر سال مون سون کے دوران اچانک سیلابوں اور لینڈ سلائیڈنگ کی وجہ سے درجنوں افراد ہلاک ہوجاتے ہیں۔ جون سے ستمبر تک جاری رہنے والا بھارت کا سالانہ مون سون سیزن شدید گرمی سے نجات اور پانی کے ذخائر کو بھرنے کے لیے انتہائی اہم ہوتا ہے، لیکن یہ ساتھ ہی ساتھ وسیع پیمانے پر تباہی اور ہلاکتیں بھی لاتا ہے۔
عالمی خبررساں ادارے کے مطابق بھارتی ریاست کیرالہ کے ساحل پر مون سون کی بارشیں معمول سے 8 دن پہلے شروع ہو گئی تھیں جو گزشتہ 16 سال میں مون سون کا سب سے جلد آغاز ہے، مون سون کے جلد آغاز کے باعث بھارتی شہر شدید بارشوں سے بری طرح متاثر ہوا۔





















