وزیراعظم شہباز شریف نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی ہے جس کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
جمعرات کے روز وزیراعظم شہباز شریف 2 روزہ دورے پر دوشنبے پہنچے جہاں ائیرپورٹ پر تاجک وزیراعظم قاہر رسولزادہ نے ان کا پرتپاک استقبال کیا جبکہ تاجک نائب وزیر خارجہ شریفزادہ فرخ حمدین بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے۔
وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ اور معاون خصوصی طارق فاطمی بھی وزیراعظم کے ہمراہ ہیں۔
بعدازاں، وزیراعظم شہباز شریف نے تاجکستان کے صدر امام علی رحمان سے ملاقات کی جس کے دوران صدر امام علی رحمان نے تاجکستان کے عالمی اقدامات کے نفاذ میں پاکستان کے تعاون کو سراہا۔
ملاقات میں دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی پیشرفت پر اطمینان کا اظہار کیا گیا اور دونوں ملکوں کی قیادت نے مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کیلئے بات چیت جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔
وزیراعظم اپنے دورے کے دوران گلیشئرز کے تحفظ پر دوشنبے میں عالمی کانفرنس میں بھی شرکت کریں گے اور شرکا کو ماحولیاتی تبدیلی کے پاکستان پر اثرات اور ماحولیاتی تبدیلی سے تحفظ سے آگاہ کریں گے۔
ملاقات کا اعلامیہ
اعلامیہ کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا اور تاریخی اسٹریٹجک شراکت داری معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لیا گیا جبکہ دونوں رہنماؤں نے دوطرفہ اشتراک اور باہمی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور اسٹریٹجک شراکت داری کو بلندیوں کی نئی سطح پر لے جانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
اعلامیہ کے مطابق تجارت ، معیشت ، توانائی ، دفاع اور سیاسی شعبوں میں دوطرفہ تعلقات کا جائزہ لیا گیا اور دونوں رہنماؤں نے باہمی تعاون کے نئے شعبوں کی تلاش پر بھی اتفاق کیا۔
سرمایہ کاری ، تعلیمی روابط ، ثقافتی تبادلوں اور آئی ٹی کے شعبوں میں تعاون بڑھانے اور کاسا-1000 کو خطے کے لئے کلیدی منصوبہ بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
شہباز شریف نے 15 مئی کو دوشنبے میں کاسا-1000 کونسل کے اجلاس کو خوش آئند قرار دیا اور کونسل کے معاہدے پر جلد عملدرآمد کی یقین دہانی کرائی۔
ملاقات میں پاکستان تاجکستان کمیشن برائے تجارت کے 7ویں سیشن کے فیصلوں پرعملدرآمد کا عزم اور مختلف شعبوں میں بارہ جوائنٹ ورکنگ گروپ قائم کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اعلامیہ میں کہا گیا کہ خصوصی طور پر تیل اور گیس کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھایا جائے گا۔
فریقین نے دفاع اور سیکیورٹی کے شعبوں میں بڑھتے تعاون پر اطمینان کا اظہار اور انسداد دہشتگری اور انسانی اسمگلنگ کے خاتمے کے لئے مشترکہ اقدامات پر اتفاق کیا۔
وزیراعظم نے تاجکستان کے صدر کو جنوبی ایشیا کی تازہ صورتحال سے بھی آگاہ کیا اور حالیہ پاک، بھارت کشیدگی کے حوالے سے بھی بریف کیا گیا جبکہ تنازع کشمیر یو این قراردادوں اور کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق حل کرنے پر زور دیا۔






















