وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ کا دو روزہ سرکاری دورہ مکمل کرکے تہران روانہ ہوگئے۔
ترک وزیر دفاع نے وزیراعظم اور پاکستانی وفد کو رخصت کیا۔ وزیراعظم شہباز شریف ترکیہ اور ایران کے بعد آذربائیجان اور تاجکستان کا دورہ بھی کریں گے۔
اس سے قبل بھارت کےخلاف معرکہ حق میں حمایت پر دوست ممالک سے اظہار تشکر کے پہلے مرحلے میں وزیراعظم شہباز شریف کو ترکیہ کے 2 روزہ دورے پر استنبول میں ترک صدارتی محل پہنچنے پر رجب طیب اردوان نے انتہائی گرمجوشی سے خوش آمدید کہا ۔ وزیراعظم پاکستان اورترکیہ کے صدر کی پہلے ون آن ون ملاقات، پھر وفود کی سطح پر بات چیت ہوئی۔
ترک صدر نے سوشل میڈیا پر پیغام میں کہا وزیر اعظم پاکستان ، میرے عزیز دوست شہباز شریف اور وفد کی میزبانی کرکے خوشی ہوئی ۔ معیشت ، تجارت اور سیکیورٹی سمیت اہم امور پر گفتگو ہوئی ۔ ہم نے ناقابل شکست رشتوں، تعاون، یکجہتی اور بھائی چارے کو مزید مضبوط کیا ۔ وزیراعظم شہباز شریف کے ذریعے اپنے پاکستانی بھائیوں کو دلی محبت اور سلام پیش کرتا ہوں ۔ اللہ تعالی ہمارے اتحاد ، یگانیت اور بھائی چارے کو دائمی بنائے ۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر ترکیہ سے معرکہ حق اور آپریشن بنیان مرصوص میں پاکستان کی شاندار فتح ۔ مسلح افواج کے عزم و حوصلے، جذبہ قربانی اور پاکستانی عوام کی پرعزم حب الوطنی پر بات ہوئی ۔ پائیدار ترقی ، مشترکہ خوشحالی اور اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید بلندیوں تک پہنچانے کا عزم دہرایا گیا ۔ شہباز شریف کا اقتصادی تعاون اوردوطرفہ سرمایہ کاری بڑھانے پر زور ۔ سیاحت ، ثقافت، قابل تجدید توانائی،آئی ٹی،انفرا اسٹرکچر اور زراعت میں تعاون کےفروغ پر گفتگو ہوئی۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے بھی استنبول میں ترکیہ کے وزیردفاع یاسرگلر سے ملاقات کی۔ ترک بری فوج کے کمانڈر جنرل سلجُوق بائراکتار اوغلو بھی موجود تھے ۔ ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور اور پاک ترک برادرانہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔






















