سپریم کورٹ نے جناح ہاؤس حملہ کیس کے ملزم رضا علی کی ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دیدیا۔
جسٹس ہاشم کاکڑ کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ نے جناح ہاؤس حملہ کیس کے ملزم رضا علی کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔
بینچ کے رکن جسٹس ہاشم کاکڑ نے استفسار کیا کہ ملزم پر کیا الزام ہے؟ جس پر وکیل صفائی نے کہا کہ ملزم پر سب انسپکٹر کو پتھر مار کر زخمی کرنے کا الزام ہے، 2 افراد پر ایک ہی پولیس والے کو زخمی کرنے کا الزام ہے۔ شریک ملزم زین العابدین کی ضمانت منظور ہوچکی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے ریمارکس دیے کہ 2 لوگ ایک ہی پولیس والے کو زخمی کیسے کرسکتے ہیں؟ پراسیکیوٹر صاحب پولیس والے نے ایک ہی الزام دو لوگوں پر کیسے لگا دیا؟ زخمی افراد کی فہرست میں تو اس پولیس اہلکار کا نام بھی شامل نہیں۔
پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے عدالت کو بتایا کہ ملزم پر دیگر بھی کافی الزامات ہیں، جس پر جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ الزامات تو آپ ہر روز کوئی نہ کوئی نیا لگا دیں گے۔
پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ 4ماہ میں ٹرائل مکمل کرنے کا حکم دے چکی ہے، جس پر وکیل 4 ماہ کے حکم کے بعد ایک مہینے میں صرف فرد جرم عائد ہوئی، ٹرائل روزانہ نہیں ہو رہا، عدالت نے ایک ہفتے کی تاریخ دی ہے۔
جسٹس ہاشم کاکڑ نے کہا کہ پراسیکیوٹر صاحب جونیئر وکیل کیس کررہے ہوں تو زیادہ سختی نہ کیا کریں، آپ بھی کبھی جونیئر وکیل رہے ہیں، ضمانت ہو لینے دیں، پراسیکیوٹر صاحب ساس بھی کبھی بہو تھی۔ بعد ازاں عدالت نے ملزم رضا علی کی ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دیدیا۔






















