بھارت کی جانب سے پاکستان کا پانی چرانے کےلیے دریائے چناب کے پانی کو دریائے راوی اور بیاس میں شامل کرنے کیلئے جسپہ ڈیم کی غیرقانونی تعمیر جاری ہے۔
آبی امور کے ماہر ارشد حسین عباسی کا کہنا ہے کہ دریائے چناب کے پانی کو دریائے راوی اور بیاس میں شامل کرنے کے پلان کے تحت جسپہ ڈیم 2 سے 3 سال میں مکمل بھی ہو جائے گا۔ بھارت نے جسپہ ڈیم پر کام 2022 میں ہی شروع کر دیا تھا، جسپہ ڈیم 2 سے 3 سال میں مکمل بھی ہو جائے گا۔
ارشد حسین عباسی نے کہا کہ مودی سرکار صرف ہماچل پردیش میں 29 ڈیمز بنا رہی ہے ۔ جس کے بعد جموں و کشمیر میں پانی کی آمد صرف 4 سے 7 فیصد رہ جائے گی۔ پاکستان کے حصے کے پانی پر ڈاکے کیلئے 23 کلومیٹر طویل پختہ سرنگ بھی بنائی جا رہی ہے۔ مقصد دریائے راوی کے پانی کو رنجیت ساگرڈیم میں ڈالنا ہے۔
ارشد حسین عباسی نے کہا کہ چناب مقدس دریا ہے،مودی سرکار اس کا تقدس پامال کر رہی ہے، غیر قانونی ڈیمز بننے سے دریائے چناب کا تقدس ختم ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سندھ طاس معاہدے کے مطابق پانی کا رخ نہیں موڑا جا سکتا، دریائے چناب میں پانی بلا روک ٹوک آنا چاہیے، مگر بھارت دریائے چناب سے پانی بیاس اور راوی کو منتقل کرنا چاہتا ہے۔ بھارت کا اس طرح پانی کو روکنا بہت بڑا جرم ہے، مسئلے کے حل کیلئے سندھ طاس معاہدہ اصل شکل میں بحال ہونا ضروری ہے۔






















