آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ ساڑھے 17 ہزار سے 18 ہزار ارب روپے تک رہنے کا تخمینہ ہے۔
دستاویز کے مطابق آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ ساڑھے 17 ہزار ارب سے 18 ہزار ارب روپے تک رہنے کا تخمینہ ہے، ایف بی آر آئندہ مالی سال کے دوران 14 ہزار 307 ارب روپے جمع کرے گا۔
آئندہ مالی سال نئے بجٹ میں ایف بی آر 6 ہزار 470 ارب روپے کے ڈائریکٹ ٹیکس جمع کرے گا، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 11 سو 53 ارب حاصل ہونے کا تخمینہ ہے۔
سیلز ٹیکس کا ہدف 4943 ارب روپے مقرر کیا گیا، کسٹمز ڈیوٹی کی مد میں 1 ہزار 741 ارب روپے جمع ہونے کا تخمینہ ہے، پٹرولیم لیوی کا ہدف 13 سو 11 ارب روپے مقرر کیا گیا۔
دستاویز کے مطابق نان ٹیکس آمدن 2584 ارب روپے، صوبے 1220 ارب کا سرپلس دیں گے، آئندہ سال قرضوں پر سود ادائیگیوں کیلئے 8 ہزار 685 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے۔
آئندہ مالی سال کے دوران دفاع پر 2 ہزار 414 ارب روپے خرچ کیے جائیں گے، آئندہ مالی سال بجٹ میں ترقیاتی منصوبوں پر وفاق 1065 ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے، آئندہ مالی سال 6 ہزار 588 ارب روپے کا قرض حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔




















