ای سی سی نے وزارت پٹرولیم کی جانب سے بھیجی گئی تیل کمپنیوں کا منافع بڑھانے کی سمری واپس کردی۔
ذرائع کے مطابق اقتصادی رابطہ کمیٹی نے تیل کمپنیوں کا منافع بڑھانے کی سمری سے متعلق وزارت پیٹرولیم اور اوگرا کو ڈیٹا کی دوبارہ جانچ پڑتال کی ہدایت کردی۔
وزارت پیٹرولیم نے اوگرا کی سفارش پر تیل کمپنیوں کا منافع بڑھانے کی سمری بھیجی تھی، تیل کمپنیوں نے ڈیٹائزیشن کو مارجن اور کاسٹ ریکوری سے مشروط کر رکھا ہے ، ایف بی آر کو تیل کمپنیوں کی ڈیجیٹائزیشن نہ ہونےاسٹاک مانیٹرنگ میں مشکلات کا سامنا ہے۔
آئل کمپنیز نے ڈیجیٹائزیشن کاسٹ کیلئے منافع بڑھانے کی تجویز دے رکھی ہے، پٹرول پر ایک روپے13 پیسےاور ڈیزل پر ایک روپے40 پیسے لیٹراضافے کے تجویز ہے۔
تیل کمپنیوں کا مؤقف ہے کہ پیٹرولیم مصنوعات پر سیل ٹیکس استثنٰی سے رواں سال 34 ارب روپے کا نقصان ہوا، سیلز ٹیکس استثنٰی سے پٹرولیم مصنوعات پر فی لیٹر 1روپے 87 پیسے نقصان اٹھانا پڑا۔




















