وزیراعظم پاکستان محمد شہباز شریف اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کے درمیان ٹیلیفونک رابطہ ہوا جس میں جنوبی ایشیا کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
گزشتہ دو ہفتوں کے دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان یہ تیسرا ٹیلیفونک رابطہ ہے جو خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اہمیت کا حامل ہے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے جنوبی ایشیا میں کشیدگی کم کرنے کے لیے سیکرٹری جنرل کی سفارتی کوششوں کو سراہا اور کہا کہ ان کے مسلسل رابطے خطے میں امن کے لیے ان کی گہری دلچسپی کی عکاسی کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے خطے میں امن کے وسیع تر مفاد کو مدنظر رکھتے ہوئے جنگ بندی کے معاہدے پر اتفاق کیا ہے تاہم، انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کا ہر قیمت پر دفاع کرے گا۔
وزیراعظم نے خطے میں امن کے فروغ کے لیے پاکستان کے مضبوط عزم کا اعادہ کیا اور بھارت کی جانب سے دہشت گردی کے "جھوٹے الزامات" اور جارحانہ رویے کی شدید مذمت کی۔
انہوں نے بھارتی جارحیت کو ایک خطرناک مثال قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ اس کا مناسب نوٹس لے۔
شہباز شریف نے بھارتی قیادت کے مسلسل اشتعال انگیز بیانات پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ یہ بیانات علاقائی امن کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
انہوں نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے منصفانہ حل پر زور دیا اور کہا کہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کے لیے سیکرٹری جنرل کو اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
دوسری جانب سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کا خیرمقدم کیا اور دوران کشیدگی شہریوں کی جانوں کے ضیاع پر تعزیت کا اظہار کیا۔
انہوں نے علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے کے لیے دونوں فریقین کے ساتھ رابطے جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ بین الاقوامی امن کے فروغ کے لیے کام کرنا ان کا فرض ہے۔






















