نارووال یونیورسٹی میں آج "نارووال پیس ڈائیلاگ" کا انعقاد کیا گیا، جو وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال پر 6 مئی 2018 کو ہونے والے قاتلانہ حملے کی چھٹی برسی کے موقع پر منعقد ہوا۔ یہ کانفرنس پاکستان میں اتحاد، رواداری اور قومی یکجہتی کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہوئی۔
تقریب میں ممتاز مذہبی اسکالرز، سیاسی قائدین، سول سوسائٹی کے نمائندگان اور امن کے داعی ملک بھر سے شریک ہوئے۔ یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد یونس نے استقبالیہ خطاب میں اس ڈائیلاگ کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور اسے بین المذاہب مکالمے اور قومی ہم آہنگی کے فروغ کا ذریعہ قرار دیا۔
احسن اقبال نے اپنے خطاب میں 6 مئی 2018 کے سانحے کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ صرف میری ذات پر نہیں تھا، بلکہ برداشت، جمہوریت اور پاکستان کے پرامن مستقبل پر حملہ تھا۔ میں نے اس کا جواب انتقام سے نہیں بلکہ دعا اور محبت سے دیا۔ انہوں نے کہا کہ اصل طاقت امن اور انصاف کے قیام میں ہے۔
احسن اقبال نے قائداعظم محمد علی جناح کے پاکستان کے وژن کو دہراتے ہوئے کہا کہ "ہمیں فرقہ واریت کو مسترد کرکے، ایک قوم بن کر، اتحاد، ایمان اور قربانی کے اصولوں پر عمل پیرا ہونا ہوگا۔"
علاقائی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بھارت میں بڑھتی ہوئی مذہبی انتہاپسندی پر تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ "سیکولر بھارت آج مذہبی تعصب اور اقلیتوں پر مظالم کا گڑھ بن چکا ہے۔"
انہوں نے کشمیری عوام سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے آرٹیکل 370 کی منسوخی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کی اور عالمی برادری سے مسئلہ کشمیر پر انصاف کی اپیل کی۔
تقریب کے اختتام پر احسن اقبال نے "اُڑان پاکستان" وژن کے آغاز کا اعلان کیا، جس کا مقصد ایک ترقی پسند، پرامن اور باوقار پاکستان کی تعمیر ہے۔ انہوں نے کہا: "آئیں، نفرت کو رد کریں اور محبت، انصاف اور برداشت کو گلے لگائیں۔ آج نارووال سے قومی امن تحریک کا آغاز کریں!"






















