مقبوضہ جموں و کشمیر کے سابق گورنر ستیا پال ملک نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر شدید تنقید کرتے ہوئے انہیں اور "ڈرپوک" قرار دیا ہے۔
اپنے حالیہ انٹرویو میں ستیا پال ملک نے پہلگام حملے کو ایک "فالس فلیگ آپریشن" قرار دیتے ہوئے کہا کہ مودی کو اس واقعے پر قوم سے معافی مانگنی چاہیے۔
ستیا پال ملک نے دعویٰ کیا کہ پہلگام حملہ مودی حکومت کی ناکامیوں اور معاشی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے ایک سازش ہے جیسا کہ ان کے مطابق 2019 کا پلوامہ حملہ بھی ایک "اندرونی کام" تھا۔
انہوں نے کہا کہ مودی میں پاکستان پر حملہ کرنے کی ہمت نہیں کیونکہ وہ ایک بزدل شخص ہیں اور جنگ شروع کرنے یا جاری رکھنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ان کا کہنا تھا کہ مودی نے پہلگام واقعے کی ذمہ داری فوج پر ڈال کر خود کو ذمہ داری سے بچانے کی کوشش کی۔
ستیا پال نے کہا کہ پہلگام حملے سے مودی حکومت سیاسی فائدہ اٹھانا چاہتی ہے لیکن یہ ان کی ناکامیوں کو چھپا نہیں سکتا۔
انہوں نے بھارتی میڈیا اور حکومتی بیانیے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ یہ واقعہ بھارت کی سیاست اور کشمیر کے حالات پر گہرے اثرات مرتب کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ پہلگام حملے پر مودی کو ملک سے معافی مانگنی چاہیے، پہلگام حملہ بہت بڑا سیکیورٹی فیلئیر ہے، میری اطلاعات کے مطابق حکومت کے پاس انٹیلیجنس رپورٹس موجود تھیں مگر انہوں نے کچھ نہیں کیا۔
ان کا کہنا تھا کہ آل پارٹی اجلاس میں شرکت میں مودی کی ناکامی "تکبر" کی علامت ہے، مودی بھارت میں ہندو مسلم تقسیم کو جاری رکھ کر سیاسی فائدہ اٹھاتا ہے، امیت شاہ کی طرف سے پہلگام حملے سے چند دن پہلے کی گئی کشمیر سیکورٹی جائزہ ملاقاتیں سماجی اجتماع سے زیادہ کچھ نہیں تھیں، جموں و کشمیر کے موجودہ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سیکورٹی کے ذمہ دار ہیں اور انہیں فوری استعفیٰ دے دینا چاہیے۔






















