پنجاب اسمبلی کے ینگ پارلیمنٹرینز فورم کی صدر آمنہ حسن شیخ نے بھارت کی جانب سے حالیہ جھوٹے دہشت گرد حملے اور اس کے بعد پاکستان پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے ایک متفقہ قرارداد پنجاب اسمبلی میں جمع کروا دی۔
قرارداد کے متن کے مطابق بھارت کی جانب سے ایک مرتبہ پھر فالس فلیگ آپریشن کے ذریعے جھوٹ کا ایک نیا ڈرامہ رچایا گیا ہے تاکہ اپنی اندرونی ناکامیوں اور سیاسی بحرانوں سے توجہ ہٹائی جا سکے۔ اس طرح کے واقعات اب محض اتفاق نہیں رہے بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا حصہ بن چکے ہیں جس کے ذریعے بھارت نہ صرف پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے بلکہ خطے کے امن کو بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔
آمنہ حسن شیخ نے واضح کیا کہ پاکستان امن چاہتا ہے مگر کمزوری نہیں دکھائے گا۔ اگر بھارت نے پاکستان کے خلاف جارحیت کی کوشش کی تو ہمارا جواب وہ ہوگا جو تاریخ یاد رکھے گی۔ پاکستان کی افواج، ریاستی ادارے، اور عوام مکمل طور پر متحد اور تیار ہیں۔ ہم نہ صرف اپنی سرزمین کا دفاع کریں گے بلکہ ہر اس سازش کو بھی بے نقاب کریں گے جو ہماری خودمختاری کے خلاف ہو۔
قرار داد میں عالمی برادری، اقوام متحدہ، اور دولتِ مشترکہ کے تمام رکن ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کے اس مسلسل رویے کا نوٹس لیں جو نہ صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہے بلکہ خطے میں جنگی ماحول پیدا کرنے کی کھلی کوشش بھی ہے۔
انہوں نے عالمی سطح پر ایک غیر جانبدار اور شفاف تحقیقات کا بھی مطالبہ کیا تاکہ سچ سامنے آ سکے اور بھارت کا جھوٹ بے نقاب ہو۔
قرارداد میں مزید کہا گیا ہے کہ پاکستان کا نوجوان طبقہ خاموش تماشائی نہیں بلکہ اس خطے کے مستقبل کا معمار ہے۔ ہم صرف الفاظ کے نہیں، عمل کے بھی وارث ہیں۔ ہم امن کے داعی ہیں، لیکن اگر جنگ ہم پر مسلط کی گئی تو ہمارا ردعمل دشمن کے غرور کو خاک میں ملا دے گا۔






















