آج پاکستان سمیت دنیا بھر میں آزادی صحافت کا دن منایا جارہا ہے۔ یہ دن منانے کا مقصد صحافیوں کی زندگیوں کو درپیش خطرات سے متعلق قوم اور دنیا کو آگاہ کرنا ہے۔ اس دن کا مقصد یہ یاد دلانا ہے کہ عوام کو حقائق پر مبنی خبریں فراہم کرنے کے لیے صحافیوں کو کتنی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
صدر مملکت کا اپنے پیغام میں کہنا تھا آئین کا آرٹیکل 19 آزادی اظہار اور آزاد صحافت کی ضمانت دیتا ہے ۔ میڈیا سماجی ، اقتصادی اور ماحولیاتی مسائل اجاگر کرنےکیلئےناگزیر ہے۔ بدعنوانی بےنقاب کرنے، پسماندہ طبقات کیلئے آواز بلند کرنے میں میڈیا کا اہم کردار ہے ۔ جعلی خبروں، غلط معلومات ، سنسنی کے ماحول میں میڈیا کی ذمہ داری بڑھ گئی ہے۔
وزیراعظم نے اپنے پیغام میں کہا دنیا کو حقائق بتانےکی جدوجہد میں صحافیوں کی قربانیاں تاریخ کا سنہری باب ہے انہیں سلام پیش کرتے ہیں ۔ مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی نے میڈیا کی افادیت اور اثر پذیری بڑھا دی ۔ آزادی اظہار کے تحفظ کی ایک اہم ضرورت جھوٹی خبروں کی روک تھام بھی ہے ۔ میڈیا کو جھوٹ ، پروپیگنڈے اور سیاسی مفادات کیلئے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔
شہبازشریف کا کہنا تھا کہ غزہ میں کام کرنے والے 166 صحافی اسرائیلی ظلم کا نشانہ بنے۔بھارت کے زیر تسلط کشمیر میں بھی صحافت پر کڑی پابندیاں ہیں ۔ قومی مفادات کے حوالے سے پاکستانی میڈیا کے ذمہ دارانہ کردار کی تحسین کرتا ہوں ۔ جس نے حالیہ بھارتی آبی جارحیت اور الزام تراشی کا حقائق اور سچ سے مقابلہ کیا ۔ جنگ کی فضا پیدا کرنے کے مزموم بھارتی مقاصد پاکستانی میڈیا نے خاک میں ملا دیئے۔






















