نیوجرسی کے ڈیموکریٹک سینیٹر کوری بوکر نے امریکی سینیٹ میں 25 گھنٹے طویل خطاب کیا، جس کا مقصد صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے اقدامات کے خلاف احتجاج کرنا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف مؤثر حکمت عملی تلاش کرنے کے دباؤ میں رہنے والی ڈیموکریٹک پارٹی کو بالآخر ایک نیا راستہ مل گیا۔
نیو جرسی سے سینیٹر کوری بوکر نے پیر کی شام واشنگٹن میں سینیٹ کے اجلاس میں تقریر کا آغاز کیا، جس میں انہوں نے ٹرمپ کے اقدامات پر سخت تنقید کی۔ حیران کن طور پر، انہوں نے مسلسل 25 گھنٹے تک تقریر جاری رکھی، سوائے اس کے کہ وہ کبھی کبھار کسی ڈیموکریٹ ساتھی کے سوال کا جواب دیتے۔
کوری بوکر کی تقریر نے امریکی سینیٹ میں طویل ترین مسلسل تقریر کا نیا ریکارڈ قائم کر دیا، جو 1957 میں سینیٹر اسٹرام تھرمنڈ کے 24 گھنٹے طویل خطاب سے بھی زیادہ طویل تھی۔ تھرمنڈ نے یہ تقریر شہری حقوق کے قانون کو روکنے کی کوشش میں کی تھی، مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے تھے۔
فلی بسٹر ایک ایسی تکنیک ہے جس میں سینیٹرز کسی قانون سازی کے خلاف طویل تقریر کر کے ووٹنگ میں تاخیر یا رکاوٹ پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ عام طور پر، جب کسی بل کے منظور ہونے کے امکانات واضح ہوتے ہیں، تب فلپ بسٹر کے ذریعے صرف اپنی مخالفت کا اظہار کیا جاتا ہے۔
کوری بوکر کی تقریر تکنیکی طور پر فلی بسٹر نہیں تھی، کیونکہ وہ کسی مخصوص بل کو روکنے کے لیے نہیں بول رہے تھے، بلکہ وہ سینیٹ میں ڈیموکریٹس کو زیادہ وقت دینے کے لیے تقریر کر رہے تھے تاکہ وہ ٹرمپ کے خلاف اپنی حکمت عملی واضح کر سکیں۔
ٹرمپ کی پالیسیوں اور ایگزیکٹو احکامات کی بھرمار نے ڈیموکریٹس کے لیے ایک بڑا چیلنج پیدا کر دیا ہے۔ چونکہ ان کے پاس کانگریس کے کسی بھی ایوان پر کنٹرول نہیں ہے اور نہ ہی کوئی باضابطہ اپوزیشن لیڈر موجود ہے، اس لیے انہیں متبادل راستے تلاش کرنے پڑ رہے ہیں۔
واضح رہے کہ کوری بکر نے 2020 میں صدارتی انتخاب کے لیے مہم چلائی تھی لیکن جو بائیڈن کے حق میں دستبردار ہو گئے تھے۔ 2028 میں ہونے والے اگلے صدارتی انتخابات میں ان کا دوبارہ امیدوار بننا بعید از قیاس نہیں۔