کرم میں امن معاہدے کے باوجود داخلی و خارجی راستے آج بھی بند ہیں، ڈپٹی کمشنر کُرم پر فائرنگ کے بعد خوراک اور اشیائے ضروریہ سے بھری گاڑیوں کا واپس آنے والا قافلہ آج بھی ٹل میں موجود ہے ۔ پاراچنار پریس کلب کے باہر دھرنا بھی جاری ہے ۔ بگن میں بھی مظاہرین سڑک پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔
امن معاہدے کے باوجود ڈپٹی کمشنر کُرم پر فائرنگ کے بعد ضلع کُرم میں حالات بدستور کشیدہ اور داخلی و خارجی راستے آج بھی بند ہیں۔ پاراچنار پریس کلب کے باہر 18 ویں روز بھی دھرنا جاری ہے جبکہ لوئر کرم بگن میں بھی مظاہرین سڑک پر دھرنا دیے بیٹھے ہیں۔
علاقے میں اشیائے ضروریہ کا شدید فقدان جس سے عوام کو شدید پریشانی کا سامنا ہے،80 گاڑیوں پر مشتمل قافلہ کو روک دیا گیا ہے ضلعی انتظامیہ کے مطابق راستہ کلیئر ہوتے ہی قافلہ روانہ کردیا جائے گا۔
دوسری جانب مشیر اطلاعات خیبرپختونخوا بیرسٹر سیف کہتے ہیں گزشتہ روز کُرم میں پیش آنے والے واقعہ میں ملوث افراد کی نشاندہی ہوگئی ۔ جلد گرفتار کرلیا جائے گا ۔ اس کا امن معاہدے پر اثر نہیں پڑے گا ۔ کہا ۔ کُرم کے راستے کھلے ہیں جلد قافلے راونہ ہونگے ۔
مشیر اطلاعات خیبر پختونخوا بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا ہے کہ سیکورٹی خدشات کے پیش نظر ضلع کرم جانے والے قافلے کو وقتی طور روک دیا گیا ہے، کلیئرنس ملنے کے بعد قافلے کو جلد روانہ کیا جائے گا۔
مشیر اطلاعات بیرسٹر سیف نے کہا کہ گرینڈ جرگے کے معاہدے کے مطابق کرم میں ہر حال میں امن کو یقینی بنایا جائے گا اور امن امن دشمنوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائیگا۔
ضلع کُرم میں ڈپٹی کمشنر پر فائزنگ کے بعد انتظامیہ متحرک ہوگئی ہے، چیف سیکرٹری اور آئی جی کی کوہاٹ آمد۔ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کیں، فائرنگ کے ملزمان کیخلاف مقدمہ درج کرنے پر غور کیا جرہا ہے، گرفتاری کا لائحہ عمل طے لئےجانے کا امکان ہے۔ کُرم میں امن وامان کے قیام پربات چیت بھی ایجنڈے میں شامل ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز بگن میں سرکاری گاڑیوں پر فائرنگ کے نتیجے میں ڈی سی کُرم جاوید محسود سمیت متعدد افراد زخمی ہوگئے،ڈپٹی کمشنر اور دیگر زخمی حالت میں علیزئی اسپتال جبکہ بعد ازاں پشاور منتقل کردیا گیا تھا۔






















