وزیراعظم شہبازشریف نے لیسکو میں کرپشن کے الزامات پر معطل افسران کی بحالی کے معاملے کا نوٹس لے لیا۔ چیف ایگزیکٹو لیسکو انجینئرشاہد حیدر کو معاملے کی تحقیقات کا حکم دیدیا۔
وزیراعظم نے کرپٹ افسران کی بحالی کے بعد تعیناتی کی انکوائری کیلئے کمیٹی بنادی، سابق وفاقی سیکریٹری شاہد خان کمیٹی کے چیئرمین ہوں گے۔
کمیٹی کے ارکان میں سیکریٹری پاورڈویژن، لیسکو نمائندہ اور آئی بی کا نمائندہ شامل ہیں، کمیٹی10دنوں میں رپورٹ وزیراعظم کوپیش کرے گی۔
کمیٹی ایف آئی اے افسران کی لیسکو کیسز کو چھپانے کے معاملے کی تحقیقات بھی کرے گی،12 کرپٹ لیسکو افسران کی بحالی کامعاملہ بھی کمیٹی دیکھے گی۔
نجی کمپنی کے بریکرز کی خریداری کاغیرقانونی طریقہ کار اور بے ضابطگیوں کی تحقیقات بھی کمیٹی کرےگی
کمیٹی جون2024میں ہونےوالی اووربلنگ کا بھی کمیٹی جائزہ لے گی، سابق لیسکو چیف محمد امین کی تعیناتی میں رولز پر عملدرآمدکی بھی تحقیقات ہوں گی اور ایک نجی ہاؤسنگ اسکیم کی غیرقانونی الیکٹریفیکیشن اور تنصیبات کا بھی کمیٹی جائزہ لے گی۔






















