سابق شامی صدر بشار الاسد کا اقتدار سے محرومی کے بعد پہلا بیان سامنے آگیا۔
عرب خبر رساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق شامی صدر کے دفتر کے ٹیلی گرام اکاؤنٹ پر بشار الاسد سے منسوب ایک بیان جاری کیا گیا ہے جس میں انہوں نے اپنی حکمرانی کا دفاع کیا ہے اور شامی باغیوں کی آمد کے بعد دمشق چھوڑنے سے متعلق بتایا۔
بیان کے مطابق بشار الاسد کا کہنا تھا کہ ’’ ان کی شام سے روانگی کا نہ تو پہلے منصوبہ بنایا گیا تھا اور نہ ہی یہ لڑائی کے آخری اوقات میں ہوا بلکہ وہ دمشق میں ہی رہے اور اتوار 8 دسمبر 2024 کی صبح تک اپنے فرائض سرانجام دیتے رہے ‘‘۔
بیان میں کہا گیا کہ ’’ جیسے ہی باغی دارالحکومت میں داخل ہوئے تو وہ جنگی کارروائیوں کی نگرانی کے لیے ساحلی شہر لطاکیہ میں واقع روسی اڈے پر چلے گئے اور بعدازاں، اڈے پر ہونے والے ڈرون حملوں کی وجہ سے انہیں ماسکو منتقل کیا گیا ‘‘۔
الاسد کا کہنا تھا کہ ’’میں ریاست کے تحفظ، اس کے اداروں کا دفاع اور ان کے انتخاب کو آخری لمحے تک برقرار رکھنے کے لیے ان کی مرضی اور صلاحیت پر اٹل یقین رکھتا ہوں لیکن جب ریاست دہشت گردوں کے ہتھے چڑھ جائے اور بامعنی حصہ ڈالنے کی صلاحیت ختم ہو جائے تو کوئی بھی عہدہ بے مقصد ہو جاتا ہے اور اس پر رہنا بے معنی ہوجاتا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’ شام اب دہشتگردوں کے ہاتھوں میں ہے ‘‘۔
واضح رہے کہ بیان کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوئی اور روس کی جانب سے پناہ ملنے کے بعد سے الاسد میڈیا پر نہیں آئے۔






















