سپریم کورٹ کے آئینی بینچ نے لاپتہ افراد کے معاملے پر اٹارنی جنرل، وزارت داخلہ سمیت تمام فریقین کو نوٹس جاری کرکے رپورٹس طلب کرلیں۔ آئینی بینچ نے لاپتہ افراد کیس کی سماعت آئندہ ہفتے تک ملتوی کردی۔
بینچ کے رکن جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیئے کہ لاپتہ افراد کا مسئلہ پارلیمنٹ نے ہی حل کرنا ہے۔ لاپتہ افراد کے مسئلہ کا حل پارلیمنٹ نے ہی کرنا ہے، لاپتہ افراد کا مسئلہ بیان بازی سے حل نہیں ہوگا۔ میری نظر میں لاپتہ افراد کا کیس انتہائی اہم ہے۔
جسٹس جسن رضوی نے استفسار کیا کہ جو لوگ واپس آئے، کیا انہوں نے بتایا کہ کون اٹھا کر لے گیا تھا؟ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ لاپتہ افراد واپس گھر آنے پر کچھ بھی نہیں بتاتے، لاپتہ افراد واپس آکر کہتے ہیں شمالی علاقہ آرام کے لیے گئے تھے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے لطیف کھوسہ کو سیاسی بات کرنے سے روک دیا، ہدایت کی کھوسہ صاحب عدالت میں سیاسی باتیں نہ کریں، پارلیمنٹ کا عام یا مشترکہ اجلاس بلا کر مسئلہ حل کریں۔
لطیف کھوسہ نے کہا کہ کیا لاپتہ افراد معاملے کو 26ویں ترمیم کی طرح حل کیا جائے؟ جسٹس جمال مندوخیل نے ریمارکس دیے کہ آئینی ترمیم بھی اپنے وقت پر دیکھی جائے گی۔ قوم اور عدالت آپ پارلیمنٹرینز کی طرف دیکھ رہی ہے۔
فیصل صدیقی ایڈووکیٹ نے کہا کہ عدالت نے گذشتہ سماعت پر لاپتہ افراد کے حوالے سے حکم دیا تھا، گذشتہ سماعت کا وہ آرڈر آج بینچ کو بھی نہیں مل رہا، جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ لاپتہ افراد کیس میں عدالت کا آرڈر بھی مسنگ ہوگیا؟
جسٹس نعیم افغان نے کہا کہ بلوچستان میں لاپتہ افراد کے ایک مقدمے میں 25 وکیل پیش ہوئے، بلوچستان ہائیکورٹ کے حکم پر لاپتہ افراد گھر واپس آئے، عدالت نے واپس آنے والے افراد کو پیش ہونے کا حکم دیا۔ بازیاب افراد کسی عدالتی فورم پر بیان کیلئے پیش نہیں ہوئے، لاپتہ افراد کے کسی مقدمہ کو مثال بنانا ہے تو جرات پیدا کریں، گھروں کو واپس آنے والوں میں سے کوئی تو کھڑا ہو۔