سربراہ اقوام متحدہ انسانی حقوق وولکر ترک نے اعلان کیا ہے کہ طلبہ تحریک کے دوران مظاہرین کے قتل کی بہت جلد تحقیقات شروع کی جائیں گی۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کی رپورٹس کے مطابق اقوام متحدہ انسانی حقوق کےسربراہ وولکر ترک نے اعلان کیا ہے کہ اقوام متحدہ کی ایک فیکٹ فائنڈنگ ٹیم جو طلباء کے احتجاجی مظاہروں کے دوران سینکڑوں ہلاکتوں کی تحقیقات کیلئے اگلے ہفتے بنگلہ دیش کا دورہ کرے گی ۔
بنگلہ دیش میں اقوام متحدہ کے ریذیڈنٹ کوآرڈینیٹر گیوین لیوس نے ملک کی عبوری حکومت میں خارجہ پالیسی کے مشیر توحید ہوسائی کے ساتھ دارالحکومت ڈھاکہ میں ملاقات کے بعد کہا کہ ایک آزاد انکوائری کمیشن کو فنڈز فراہم کیے جائیں گے اور اس کی قیادت اقوام متحدہ کرے گا ٹائم فریم اور ایکشن پلان کو جلد ہی حتمی شکل دی جائے گی۔
واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک نے بنگلہ دیش کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کو فون کیا اور کہا کہ مظاہرین کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کی زیر قیادت بہت جلد تحقیقات شروع کی جائیں گی۔
بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر محمد یونس کے پریس آفس کی جانب سے جاری بیان میں وولکر ترک کے حوالے سے بتایا گیا ہےکہ اقوام متحدہ کے ماہرین کی ایک ٹیم تحقیقات کے لیے جلد ہی ملک کا دورہ کرے گی،ملک کی تعمیر نو اور انسانی حقوق کے نظم وضبط میں مدد کے لیے اقوام متحدہ سے تعاون حاصل کیا ہے۔
خیال رہے کہ سابقہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کی حکومت کیخلاف طلباء نے احتجاجی مظاہرہ کیا ، حکومت مخالف مظاہروں کے دباؤ میں پڑوسی ملک بھارت فرار ہو گئی تھیں، نوبل امن انعام یافتہ نوبل انعام یافتہ 84 سالہ محمد یونس کو گزشتہ ہفتے 17 رکنی عبوری انتظامیہ کی قیادت کرنے کے لیےفرانس سے ٹیپ کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ جولائی کے وسط سے سابقہ وزیراعظم شیخ حسینہ واجد کے فرار ہونے تک طلبہ اور شہری بغاوت کے نتیجے میں کم از کم 580 ہلاکتیں ہوئیں۔






















