Live Updates: بجٹ 2026-27، ایف بی آر نے دودھ، گھی ، گھریلو اشیاء پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی
تمام قسم کے جوتے سیلز ٹیکس کے دائرہ کارمیں شامل کر دیئے گئے ہیں
آئندہ سال کے لیے قومی اسمبلی کے بجٹ میں 70 کروڑ روپے کا اضافہ تجویز
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں قومی اسمبلی کے لیے 17 ارب روپےمختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 70 کروڑ روپے زیادہ ہے۔
بجٹ دستاویزات کےمطابق اسپیکرقومی اسمبلی اورڈپٹی اسپیکر کے بجٹ میں کسی قسم کا اضافہ نہیں کیاگیا،اسپیکر،ڈپٹی اسپیکر اور انکے دفاتر کے اخراجات کے لیےمجموعی طور پر 39 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
دستاویزات کےمطابق قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کےملازمین کی تنخواہوں اورالاؤنسز کےلیے 9 ارب 24 کروڑ روپےرکھےگئے ہیں،جبکہ ارکان قومی اسمبلی کی تنخواہوں اورمراعات پر 5 ارب 35 کروڑ روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
اپوزیشن لیڈرمحمود خان اچکزئی اوران کےچیمبر اسٹاف کے لیے 8 کروڑ روپےسے زائد مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے،اسی طرح قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کےچیئرمینوں کےلیے 16 کروڑ 89 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق پاکستانی ادارہ برائے پارلیمانی خدمات کے لیے بھی 50 کروڑ روپے سے زائد رقم مختص کرنے کی تجویز شامل ہے۔
حکومت کا بجٹ 2026-27 میں کسٹمز ٹیرف میں کمی کا اعلان
وفاقی حکومت نےنئے فنانس بل میں کسٹمز ٹیرف میں کمی کا اعلان کر دیاہے، کسٹم ڈیوٹی میں کمی سے مجموعی طور پر 180 ارب روپے ریلیف دیا جائے گا، ساڑھے سات ہزار سے زائد خام مال، پرزہ جات اور مشینری پر ڈیوٹیز کم کر دی گئیں۔
بجٹ دستاویز کے مطابق، ملکی صنعتوں کو فروغ دینے کے لیے آئندہ مالی سال 90 سے زائد ٹیرف لائنز پر کسٹمز ڈیوٹی 20 فیصد سے کم کر کے 10 اور 15 فیصد کر دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ 449 ٹیرف لائنز پر اضافی کسٹمز ڈیوٹی 6 فیصد سے گھٹا کر 4 فیصد، جبکہ دو ہزار سے زائد ٹیرف لائنز پر اسے چار فیصد سے کم کر کے محض دو فیصد کر دیا گیا ۔
کینسر جیسی مہلک بیماری کے علاج کے لیے استعمال ہونے والے تمام خام مال کو کسٹمز ڈیوٹی سے مکمل استثنیٰ دے دیا گیا ہے۔ جبکہ زرعی مشینری پر عائد کسٹمز، اضافی اور ریگولیٹری ڈیوٹیز مکمل طور پر ختم کر دی گئی ہیں۔ خصوصی تعمیراتی گاڑیوں پر کسٹمز ڈیوٹی بیس فیصد سے کم کر کے دس فیصد مقرر کی گئی ہے، جس کا مقصد ملکی معیشت اور صنعتی پہیے کو تیز کرنا ہے۔
بجٹ 2026-27، بیرون ملک فضائی ٹکٹوں کی قیمت میں بڑی کمی
وفاقی بجٹ 2026-27 کے تحت بیرون ملک بزنس کلاس فضائی سفر پر عائد فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) میں نمایاں کمی کی تجویز دی گئی ہے۔
تجویز کے مطابق امریکہ کے لیے بزنس کلاس ٹکٹ پر ایف ای ڈی 3 لاکھ 50 ہزار روپے سے کم کر کے 50 ہزار روپے کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
مشرقِ وسطیٰ اور افریقہ کے لیے بزنس کلاس ٹکٹ پر ڈیوٹی ایک لاکھ 5 ہزار روپے سے کم کر کے 25 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح یورپ جانے والے مسافروں کے لیے ایف ای ڈی 2 لاکھ 10 ہزار روپے سے کم کر کے 40 ہزار روپے جبکہ مشرقِ بعید اور آسٹریلیا کے لیے بھی یہی شرح 2 لاکھ 10 ہزار سے کم کر کے 40 ہزار روپے کرنے کی تجویز شامل ہے۔
ایف بی آر حکام کے مطابق اس اقدام کا مقصد فضائی سفر کے شعبے کو سہارا دینا، ٹکٹوں کی طلب میں اضافہ کرنا اور پاکستان سے بین الاقوامی سفر کو فروغ دینا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ مجوزہ ٹیکس اصلاحات سے ایئرلائنز اور ٹریول انڈسٹری کو ریلیف ملے گا ۔
بجٹ 2026-27، ایف بی آر نے دودھ، گھی ، گھریلو اشیاء پر ٹیکسوں کی بھرمار کر دی
وفاقی بجٹ 2026-27 میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے ٹیکس محصولات بڑھانے کے لیے بڑے پیمانے پر نئے اقدامات تجویز کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق آئندہ مالی سال کے لیے 15 ہزار 264 ارب روپے کا ٹیکس ہدف مقرر کیا گیا ہے جبکہ مجموعی طور پر 650 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات بجٹ کا حصہ ہوں گے۔ ان میں سے تقریباً 150 ارب روپے کے نئے ٹیکس اقدامات بھی شامل ہیں۔
نئے بجٹ کے تحت ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی سینکڑوں اشیاء پر سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔اہم اشیاء میں دودھ، بچوں کا فارمولا ملک اور دودھ سے بنی دیگر مصنوعات بھی شامل ہیں جن پر ٹیکس لگانے کی سفارش کی گئی ہے۔
اس کے علاوہ گھی، خوردنی تیل، مٹھائیاں، پاستا اور مختلف ساسز پر بھی 18 فیصد جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کرنے کی تجویز شامل ہے۔
ری ٹیل پیکنگ والی زرعی ادویات،جراثیم کش مصنوعات ، پلاسٹک کی گھریلو اشیاء، کچن ویئر،اسٹوریج آئٹمز پر ٹیکس لاگو ہوگا ۔ بیگ، سوٹ کیس، ہینڈ بیگ، دیگرسفری سامان بھی مہنگا کر دیا گیا۔
تمام قسم کے جوتے سیلز ٹیکس کے دائرہ کارمیں شامل کر دیئے گئے ہیں،باتھ روم فٹنگز، سینٹری ویئر، واش روم کے لوازمات پر بھی ٹیکس عائد کر دیا گیا، کراکری، گھریلو استعمال کی اشیاء پر بھی سیلز ٹیکس وصول کیا جائےگا۔
گاڑیوں اورآٹو موبائل لوازمات کی ری ٹیل فروخت پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے، 2سے 3 کروڑ والی لگژری ایس یو وی گاڑیوں پر 30 فیصد ٹیکس عائدکر دیا گیا، 3 کروڑ سے مہنگی گاڑیوں پر 40 فیصد ٹیکس عائد کر دیا گیا،غیر رجسٹرڈ سپلائرز سے خریداری پر 5 فیصد ٹیکس دینا ہوگا،ڈسٹری بیوٹرز پر ٹیکس کی شرح 0.25 فیصد سے 0.50 فیصدکر دی گئی ۔
خام مال درآمدکر کے فروخت کرنے والے کمرشل امپورٹرز پر3 فیصد ٹیکس لگایا گیاہے ۔
10کروڑ روپے سے زائد پراپرٹی خریدنے والے کو ذرائع آمدن بتانا ہوں گے
وفاقی بجٹ 2026-27 میں حکومت نے جائیداد، ریٹیل اشیاء اور لگژری مصنوعات پر نئے ٹیکس اقدامات متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
نئے مجوزہ قانون کے مطابق 10 کروڑ روپے سے زائد مالیت کی جائیداد خریدنے والے افراد کے لیے آمدن کے ذرائع بتانا لازمی ہوگا۔ ذرائع آمدن ظاہر نہ کرنے کی صورت میں ایسی جائیداد کی خریداری ممکن نہیں ہوگی۔ یہ قانون یکم جولائی 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔
اسی طرح پراپرٹی کی خرید و فروخت کرنے والے نان فائلرز پر اضافی ٹیکس کی شرح برقرار رکھنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
بجٹ میں ریٹیل پیکنگ میں فروخت ہونے والی اشیاء جیسے جیمز، فروٹ جوسز اور دیگر مشروبات پر جنرل سیلز ٹیکس (GST) عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
نئے بجٹ میں لگژری گاڑیاں مہنگی ہو گئیں جبکہ سولر پینلز پر ٹیکس نہیں لگایا گیا
بجٹ 2026-27، صحت کیلئے 25.1 ارب مختص کرنے کی تجویز
وفاقی ترقیاتی پروگرام 2026-27 کے تحت عوامی صحت کی دیکھ بھال کو ایک اہم قومی ترجیح قرار دیتے ہوئے بجٹ میں صحت کے شعبے کے لیے 25.1 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اس فنڈنگ کے تحت ملک میں ٹرشری ہیلتھ کیئر سہولیات کو وسعت دینے، ہنگامی اور کریٹیکل کیئر نظام کو مضبوط بنانے اور کینسر کے علاج کی جدید سہولیات کو بہتر کرنے کے منصوبے شامل ہیں۔
پروگرام میں بیماریوں کی نگرانی کے مربوط نظام کی بہتری اور تشخیصی و ریگولیٹری ڈھانچے کی جدید کاری کو بھی ترجیح دی گئی ہے تاکہ صحت کے شعبے میں مجموعی کارکردگی اور رسائی کو بہتر بنایا جا سکے۔
اعلیٰ تعلیم کیلئے 46 ارب جبکہ سکول کالج کی تعلیم کیلئے 26.3 ارب مختص کرنے کی تجویز
وفاقی ترقیاتی پروگرام 2026-27 کے تحت اعلیٰ تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی اور تعلیمی شعبے کی بہتری کے لیے اہم فنڈز مختص کیے گئے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم اور تحقیق کے شعبے کو ملک کی معاشی اور سماجی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی قرار دیتے ہوئے اس شعبے کے لیے 46 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جو گزشتہ سال کے 34.9 ارب روپے کے مقابلے میں نمایاں اضافہ ہے۔
اس رقم سے مستحق طلبہ کے لیے وظائف، یونیورسٹیوں کی تحقیقی صلاحیت میں اضافہ، پاکستان ایجوکیشن اینڈ ریسرچ نیٹ ورک کی اپ گریڈیشن، ڈیجیٹل لرننگ کا فروغ اور مصنوعی ذہانت (AI) پر مبنی تعلیمی نظام کو بہتر بنانے جیسے اقدامات شامل ہیں۔
سائنس و ٹیکنالوجی
سائنس اور ٹیکنالوجی کے لیے علیحدہ 3.6 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جن کے ذریعے ٹیکنالوجی کی منتقلی، چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروبار (SMEs)، قابل تجدید توانائی، الیکٹرانکس، زراعت اور صحت کے شعبوں میں تکنیکی ترقی کو فروغ دیا جائے گا۔
بنیادی تعلیم
بنیادی تعلیم، کالج تعلیم اور ہنرمندی کے فروغ کے لیے بھی اہم اقدامات کیے گئے ہیں۔ وزیراعظم کے وژن کے مطابق تعلیم کے مواقع معاشرے کے محروم طبقات تک پہنچانے پر خصوصی توجہ دی جا رہی ہے، جس کی نمایاں مثال دانش اسکولز ہیں، جو باصلاحیت مگر کم وسائل رکھنے والے بچوں کو معیاری تعلیم فراہم کر رہے ہیں۔
وفاقی ترقیاتی بجٹ میں دانش اسکولز کے لیے تقریباً 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔ مجموعی طور پر اسکول اور کالج کی تعلیم کے لیے 26.3 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن سے اساتذہ کی تربیت، داخلوں میں اضافہ، ابتدائی بچپن کی تعلیم کی توسیع اور ڈیجیٹل لرننگ کو فروغ دیا جائے گا۔
اسی طرح نوجوانوں کی ہنرمندی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے NAVTTC کے تحت وزیراعظم یوتھ اسکلز ڈویلپمنٹ پروگرام کے لیے 7.9 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ نوجوانوں کو جدید دور کی معیشت کے مطابق ہنر فراہم کیا جا سکے۔
یہ بجٹ غریب عوام کیلئے بم ہے،اس میں کوئی حکمت عملی نہیں: بیرسٹر علی ظفر
سینیٹ میں پی ٹی آئی کے پارلیمانی لیڈر بیرسٹر علی ظفر نے سماء ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف نہیں ملا،ٹیکسوں کی بنیاد کیسےبنانی ہے کچھ نہیں بتایا گیا۔
بیرسٹرعلی ظفر کا کہناتھا کہ یہ بجٹ غریب عوام کیلئے بم ہے،اس میں کوئی حکمت عملی نہیں،بجٹ مین زراعت کیلئے کوئی پلان ہے اور نہ نوجوان طبقے کو کچھ مل سکا۔
چیئرمین یوسف رضا گیلانی کی زیر صدارت سینیٹ کا اجلاس ہوا لیکن پی ٹی آئی اراکین کی جانب سے شدید احتجاج کیا گیا جبکہ غریب مکاؤ بجٹ نامنظور کے نعرے بھی لگائے گئے ۔
چیئرمین سینیٹ نے اجلاس کے دوران کہا کہ ارکان 15 جون تک بجٹ سفارشات سینیٹ قائمہ کمیٹی خزانہ کو بھیج سکتےہیں۔ اس دوران اپوزیشن ارکان کی جانب سے ڈیسک بجا کر ایوان میں احتجاج کیا گیا ۔
چیئرمین سینیٹ نے بجٹ اجلاس پیر کی دوپہر ساڑھے 12 بجے تک ملتوی کر دیا ہے ۔ اجلاس کے دوران سابق سینیٹرتاج محمد آفریدی سمیت مختلف سانحات کے شہداء کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی ۔
2 کروڑ سے مہنگی لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز
حکومت نے معاشی بوجھ کی منصفانہ تقسیم کے لیے درآمدی گاڑیوں، بڑی SUVs اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق درآمد کی جانے والی کاروں اور 2000cc سے بڑی اور 3000cc تک کی SUVs فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کر رہےہیں۔ 3000cc سے بڑی گاڑیوں پر بھی ڈیوٹی بڑھا رہے ہیں۔ اس ٹیکس کا اطلاق دو (2)کروڑ سے مہنگی لگژری EV پر بھی ہوگا۔
بجٹ دستاویز کے مطابق اس وقت ایک نئی آٹوسیکٹر پالیسی وزیر اعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیر غور ہے جس کی تفصیلات وزیر اعظم اور وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد پارلیمنٹ کے سامنے پیش کی جائیں گی۔ البتہ میں اس چیز کا اعلان کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ الیکٹرک موٹر سائیکل، رکشوں، گاڑیوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام اگلے سال بھی برقرار رہے گا۔ اس سلسلے میں درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر بھی ایک فیصد سیلز ٹیکس کی سہولت فراہم کرنے کی تجویز ہے۔ تاہم حکومت کی کوشش ہے کہ ان سہولیات سے انتہائی مہنگی الیکٹرک گاڑیاں فائدہ نہ اٹھا سکیں۔
فنانس بل: پیٹرولیم سالونٹس پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز
حکومت نے تیل میں ملاوٹ اور جعل سازی کی روک تھام کے لیے پیٹرولیم بیسڈ سالونٹس پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی (FED) عائد کرنے کی تجویز پیش کر دی۔
بجٹ تقریر میں بتایا گیا کہ سفید اسپرٹ (White Spirit)، پیٹرولیم نیفتھا (Petroleum Naphtha) اور منرل ٹارپین آئل (Mineral Turpentine Oil) پر 80 روپے فی لیٹر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی نافذ کی جائے گی۔
حکومت کے مطابق یہ مصنوعات پیٹرولیم ڈیولپمنٹ لیوی (PDL) کے دائرہ کار سے باہر ہیں، تاہم بعض عناصر انہیں پیٹرول اور دیگر تیل میں ملاوٹ کے لیے استعمال کرتے ہیں جس سے صارفین کو نقصان پہنچتا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق تیل میں ملاوٹ کے باعث ہر سال لاکھوں صارفین کی گاڑیاں، انجن اور مشینری متاثر یا خراب ہو جاتی ہیں، جبکہ اس غیرقانونی عمل سے مارکیٹ میں مسابقت کا ماحول بھی متاثر ہوتا ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ ملاوٹ شدہ تیل فروخت کرنے والے عناصر غیرمنصفانہ فائدہ حاصل کرتے ہیں، جس کے باعث دیانت دار کاروباری افراد اور تیل فروشوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔
حکومتی مؤقف کے مطابق مجوزہ فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کے نفاذ سے تیل میں ملاوٹ کی حوصلہ شکنی ہوگی، صارفین کے مفادات کا تحفظ ممکن ہوگا اور پیٹرولیم مصنوعات کی مارکیٹ میں شفافیت اور منصفانہ مقابلے کو فروغ ملے گا۔
فنانس بل2026-27: غیرملکی اثاثوں پر کیپٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنے کی تجویز
حکومت نے فنانس بل میں غیرملکی اثاثوں پر عائد کیپٹل ویلیو ٹیکس (CVT) ختم کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق غیرملکی اثاثوں پر عائد یہ ٹیکس اپنے بنیادی مقاصد حاصل کرنے میں مؤثر ثابت نہیں ہو سکا اور بیرونِ ملک موجود اثاثوں کو ظاہر کرنے کی حوصلہ شکنی کا سبب بن رہا تھا۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ جو غیرملکی اثاثے ظاہر کیے جاتے ہیں وہ پہلے ہی دستاویزی ریکارڈ کا حصہ ہوتے ہیں اور ان پر ٹیکس بھی ادا کیا جاتا ہے، اس لیے کیپٹل ویلیو ٹیکس کا برقرار رہنا اثاثوں کی رضاکارانہ ڈیکلریشن میں رکاوٹ بن رہا تھا۔
فنانس بل کے مطابق اس ٹیکس کے خاتمے سے پاکستانی شہریوں کو اپنے غیرملکی اثاثے اور مالی حیثیت باقاعدہ طور پر ریکارڈ پر لانے کی ترغیب ملے گی، جس سے ٹیکس قوانین کی بہتر پاسداری (کمپلائنس)، دستاویزی معیشت کے فروغ اور حکومتی محصولات میں اضافے کی توقع ہے۔
فنانس بل: تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس سلیبز 6 سے بڑھا کر 8 کردی گئیں
اسلام آباد: فنانس بل کے مطابق تنخواہ دار طبقے کیلئے انکم ٹیکس سلیبز کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کر دی گئی ہے جبکہ مختلف آمدنی کے درجوں کیلئے نئی ٹیکس شرحیں تجویز کی گئی ہیں۔
سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن
سالانہ 6 لاکھ روپے تک آمدن رکھنے والے افراد پر کوئی انکم ٹیکس لاگو نہیں ہوگا۔
6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن
6 لاکھ سے 12 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کیلئے ٹیکس کی شرح ایک فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ ٹیکس 6 لاکھ روپے سے زائد آمدن والے حصے پر لاگو ہوگا۔
12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے سالانہ آمدن
12 لاکھ سے 22 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد پر 11 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 6 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی لاگو ہوگا۔
22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن
22 لاکھ سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کیلئے 20 فیصد ٹیکس کی شرح مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس سلیب میں ایک لاکھ 16 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی شامل ہوگا۔
32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن
32 لاکھ سے 41 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والوں پر 25 فیصد ٹیکس عائد ہوگا جبکہ 3 لاکھ 16 ہزار روپے فکس ٹیکس ادا کرنا ہوگا۔
41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن
41 لاکھ سے 56 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کیلئے 29 فیصد ٹیکس کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ 5 لاکھ 41 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی لاگو ہوگا۔
56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن
56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے سالانہ آمدن رکھنے والے افراد پر 32 فیصد ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ 9 لاکھ 76 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی دینا ہوگا۔
70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن
70 لاکھ روپے سے زائد سالانہ آمدن رکھنے والے افراد کیلئے 35 فیصد ٹیکس کی شرح تجویز کی گئی ہے۔ اس سلیب میں 14 لاکھ 24 ہزار روپے فکس ٹیکس بھی نافذ کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ میں ایف بی آرکا ٹیکس ہدف 15264 ارب روپےمقرر
آئندہ مالی سال کیلئے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کر دیا گیا۔ انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس، کسٹم ڈیوٹی اور فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی وصولیوں کیلئے بھی نئے اہداف طے کر دیے گئے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کیلئے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کا مجموعی ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔ دستاویزات کے مطابق انکم ٹیکس کی مد میں 7 ہزار 613 ارب روپے جبکہ ان ڈائریکٹ ٹیکسز سے 7 ہزار 651 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔
بجٹ میں کسٹم ڈیوٹی کی وصولیوں کا ہدف ایک ہزار 651 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے جبکہ سیلز ٹیکس سے چار ہزار 972 بہتر ارب روپے حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔اسی طرح فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں ایک ہزار 73 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
حکومت کا 15 کروڑ سے 50 کروڑ آمدن تک سپر ٹیکس مکمل ختم کرنے کا اعلان
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے کاروباری برادری کے لیے اہم ٹیکس ریلیف کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے 15 کروڑ سے 50 کروڑ روپے تک آمدنی رکھنے والے کاروباروں پر عائد سپر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بجٹ تقریر کے دوران محمد اورنگزیب نے بتایا کہ مذکورہ آمدنی کی چھ سلیبز پر ایک فیصد سے ساڑھے سات فیصد تک سپر ٹیکس عائد تھا، جسے اب ختم کیا جا رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 50 کروڑ روپے سے زائد آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح بھی 10 فیصد سے کم کرکے 8 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیرِ خزانہ کے مطابق اس اقدام کا مقصد چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں اور صنعتوں کو فروغ دینا، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی کرنا اور کاروبار میں آسانیاں پیدا کرنا ہے۔
تاہم انہوں نے واضح کیا کہ بینکوں، تیل و گیس کی تلاش کرنے والی کمپنیوں اور کھاد ساز کمپنیوں پر عائد موجودہ سرچارج بدستور برقرار رہے گا۔
بجٹ میں پیٹرولیم شعبے کیلئے سبسڈی ختم کرنے کی تجویز
آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مختلف شعبوں کیلئے سبسڈی کے حجم میں ردوبدل کی تجویز دے دی گئی۔ پاور سیکٹر کیلئے 830 ارب روپے مختص جبکہ بعض شعبوں کی سبسڈی ختم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا۔
بجٹ 2026،27 کی دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں پاور سیکٹر کیلئے سبسڈی 830 ارب روپے مقرر کی گئی ہے جو رواں مالی سال کے 893 ارب روپے کے مقابلے میں کم ہے۔ گردشی قرضے پر قابو پانے کیلئے 252 ارب روپے جبکہ انٹر ڈسکوز ٹیرف ڈیفرینشل سبسڈی کیلئے 248 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
کے الیکٹرک کے ٹیرف فرق کی مد میں سبسڈی 163 ارب روپے تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ آزاد کشمیر کیلئے 81 ارب روپے اور خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کیلئے 34 ارب روپے سبسڈی مختص کی گئی ہے۔
بلوچستان کے زرعی ٹیوب ویلوں کیلئے تین ارب روپے جبکہ پاکستان انرجی ریوالونگ فنڈ کیلئے 48 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔پاسکو کیلئے گندم ذخائر اور قیمت کے فرق کی مد میں 19 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ یوریا کھاد کی پیداوار اور فراہمی کیلئے پانچ اعشاریہ 8 ارب روپے سبسڈی رکھی گئی ہے۔
الیکٹرک وہیکل اسکیم کیلئے 8 ارب روپے کی سبسڈی برقرار رکھنے اور یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن کے بقایاجات کی ادائیگی کیلئے 23.2 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویزات میں پیٹرولیم شعبے کیلئے سبسڈی آئندہ مالی سال میں ختم کرنے جبکہ آئی پی پیز کو براہ راست ادائیگی کا نظام بھی ختم کرنے کی تجویز شامل ہے۔
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کو ایک اور بڑی خوشخبری سنا دی
حکومت نے بجٹ 2026-27 میں تنخواہ دار طبقے کو خوشخبری سنائی ہے اور اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ کیا گیاہے ۔
وزیر خزانہ نے تقریر کرتے ہوئے کہا کہ تنخواہ پر عائد ٹیکس کی شرحوں میں کی کے علاوہ ہم نے ایک اور اہم ریلیف قدم اٹھاتے ہوئے تنخواہ دار طبقے پر عائد سرچارج کو بھی ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ ایک دیرینہ مطالبہ تھا اور حکومت کو بھی اس امر کا احساس تھا۔ اس لیے ہم نے پچھلے بجٹ میں اس سرچارج کی شرح کو دس فیصد سے نو فیصد کیا اور اب اس سرچارج کو مکمل طور پر ختم کرنے کی تجویز ہے۔ ان اقدامات سے وزیر اعظم شہباز شریف کی حکومت نے تنخواہ دار طبقے پر بوجھ کم کرنے کا اپنا وعدہ پورا کیا ہے۔
حکومت کا خواتین کی صحت اورحفظانِ صحت سے متعلق اہم اشیاء پر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان
حکومت نے خواتین کی صحت اور حفظانِ صحت سے متعلق اہم اشیاء پر ٹیکس مکمل طور پر ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
خواتین کی صحت کے حوالے سے بھی اہم ریلیف کا اعلان کیا گیا ہے،سینیٹری پیڈز اور متعلقہ ضروری اشیاء پر عائد ٹیکس مکمل طور پر ختم کر دیا گیا ہے،جس کا مقصد خواتین کو بنیادی صحت سہولیات تک آسان اور سستی رسائی فراہم کرنا ہے۔
بجٹ دستاویز
دستاویز کےمطابق آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کا حجم 18 ہزار 771 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے،گراس ریونیو کا تخمینہ 20 ہزار 600 ارب روپے لگایا گیا ہے،نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 5 ہزار 336 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آئندہ مالی سال صوبوں کو 8 ہزار 848 ارب روپےمنتقل کیئےجائیں گے،وفاقی حکومت کی خالص آمدن کا تخمینہ 11 ہزار 751 ارب روپےہے،اندرونی ذرائع سے 2034 ارب،بیرونی ذرائع سے 813 ارب کا قرض ملےگا،حکومت ٹی بلز، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز، سکوک سے 4012 ارب حاصل کرے گی۔
دستاویزات کےمطابق اگلےمالی سال سرکاری اداروں کی نجکاری سے 161 ارب روپے حاصل ہوں گے،دفاع کیلئے 3 ہزار ارب روپے،ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1 ہزار ارب مختص کیے گئے،حکومت اگلے مالی سال جاری اخراجات پر 17 ہزار 495 ارب خرچ کرے گی،آئندہ مالی سال قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 8 ہزار 54 ارب خرچ ہوں گے،پنشن ادائیگی کیلئے 1 ہزار 169 ارب، سول حکومت کیلئے 1 ہزار 71 ارب مختص کیے گئے ہیں،جبکہ نئے مالی سال ہنگامی اقدامات کیلئے بجٹ میں 430 ارب روپے مختص ہیں
بجٹ 2026-27: بی آئی ایس پی کے دائرہ کار میں توسیع، مستحق خاندانوں کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ تک پہنچانے کا اعلان
وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں سماجی تحفظ کے شعبے کو مزید مضبوط بنانے کے لیے Benazir Income Support Programme (BISP) کے دائرہ کار میں نمایاں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق حکومت نے مستحق خاندانوں کی کفالت کے لیے بی آئی ایس پی کے تحت شامل خاندانوں کی تعداد ایک کروڑ 20 لاکھ تک بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس توسیع کے نتیجے میں تقریباً 92 لاکھ بچوں کو تعلیمی وظائف پروگرام سے فائدہ پہنچے گا۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے بی آئی ایس پی کے بجٹ میں بھی خاطر خواہ اضافہ تجویز کیا ہے۔ پروگرام کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 17 فیصد زیادہ ہے۔ حکام کے مطابق اضافی وسائل سے سماجی تحفظ کے منصوبوں کو مزید مؤثر بنایا جائے گا اور کم آمدنی والے طبقات کو ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
دوسری جانب حکومت نے آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان کے لیے بھی مالی معاونت میں اضافہ کیا ہے۔ بجٹ کے تحت آزاد جموں و کشمیر کے لیے 146 ارب روپے جبکہ گلگت بلتستان کے لیے 88 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسی طرح خیبر پختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کی ترقی اور انتظامی ضروریات کے لیے 95 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی بجٹ 2026-27: دفاع کو اولین ترجیح، 3 ہزار ارب روپے مختص
وفاقی وزیر خزانہ نے مالی سال 2026-27 کا وفاقی بجٹ پیش کرتے ہوئے قومی دفاع کو حکومت کی اہم ترین ترجیح قرار دیا ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق ملکی دفاع کے لیے 3 ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں تاکہ قومی سلامتی کے تقاضوں کو مؤثر انداز میں پورا کیا جا سکے۔
وزیر خزانہ نے ایوان کو بتایا کہ وفاقی حکومت اور پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) کے لیے مجموعی طور پر 1 ہزار ارب روپے رکھے گئے ہیں، جن کے ذریعے ترقیاتی منصوبوں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔
بجٹ کے مطابق وفاقی حکومت کے مجموعی اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 771 ارب روپے لگایا گیا ہے۔ ان اخراجات میں سب سے بڑا حصہ قرضوں پر مارک اپ کی ادائیگی کا ہے، جس کے لیے 8 ہزار 54 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 1 ہزار 71 ارب روپے رکھے گئے ہیں، جبکہ سرکاری ملازمین کی پنشن کی ادائیگی کے لیے 1 ہزار 169 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
اسی طرح بجلی اور دیگر شعبوں میں عوامی ریلیف اور معاونت کے لیے سبسڈی کی مد میں 1 ہزار 91 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ بجٹ قومی سلامتی، معاشی استحکام اور ترقیاتی اہداف کے حصول کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے، جبکہ مالی نظم و ضبط کو بھی یقینی بنانے کی کوشش کی گئی ہے۔
حکومت کا ڈیبٹ و کریڈٹ کارڈ بین الاقوامی ٹرانزکشن ٹیکس میں بڑی کمی کا اعلان
حکومت نے ڈیبٹ و کریڈٹ کارڈ بین الاقوامی ٹرانزکشن ٹیکس میں بڑی کمی کا اعلان کردیا۔
حکومت کی جانب سے نئے بجٹ میں ڈیبٹ ،کریڈٹ کارڈ کی بین الاقوامی ٹرانزکشن پر ٹیکس 5 فیصد سے 0.5 فیصد مقرر کردیا گیا ہے۔
حکومت نےغیرملکی اثاثوں پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس کا خاتمہ کردیا،وزیرخزانہ کا کہنا ہے کہ اقدام سے پاکستانیوں کو غیر ملکی مالی اثاثے ریکارڈ پر لانے کی حوصلہ افزائی ملے۔
بجٹ دستاویز
دستاویز کےمطابق آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کا حجم 18 ہزار 771 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے،گراس ریونیو کا تخمینہ 20 ہزار 600 ارب روپے لگایا گیا ہے،نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 5 ہزار 336 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آئندہ مالی سال صوبوں کو 8 ہزار 848 ارب روپےمنتقل کیئے جائیں گے،وفاقی حکومت کی خالص آمدن کا تخمینہ 11 ہزار 751 ارب روپےہے،اندرونی ذرائع سے 2034 ارب،بیرونی ذرائع سے 813 ارب کا قرض ملےگا،حکومت ٹی بلز، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز، سکوک سے 4012 ارب حاصل کرے گی۔
دستاویزات کےمطابق اگلےمالی سال سرکاری اداروں کی نجکاری سے 161 ارب روپے حاصل ہوں گے،دفاع کیلئے 3 ہزار ارب روپے،ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1 ہزار ارب مختص کیے گئے،حکومت اگلے مالی سال جاری اخراجات پر 17 ہزار 495 ارب خرچ کرے گی،آئندہ مالی سال قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 8 ہزار 54 ارب خرچ ہوں گے،پنشن ادائیگی کیلئے 1 ہزار 169 ارب، سول حکومت کیلئے 1 ہزار 71 ارب مختص کیے گئے ہیں،جبکہ نئے مالی سال ہنگامی اقدامات کیلئے بجٹ میں 430 ارب روپے مختص ہیں۔
حکومت کا تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف کا اعلان
حکومت نے تنخواہ دار طبقے کیلئے ریلیف کا اعلان کردیا۔
سالانہ 22 سے 32 لاکھ روپے کمانے والوں کیلئے شرح 23 سے کم کر کے 20 فیصد کر دی گئی،جبکہ سالانہ 32 سے 41 لاکھ روپے کمانے والوں کا ٹیکس 30 سے کم کر کے 25 فیصد کر دیا گیا ہے۔
سالانہ 41 سے 56 لاکھ روپےآمدن پرٹیکس 35 سے کم کر کے 29 فیصد کر دیا گیا،سالانہ56 لاکھ سے 70 لاکھ روپے کمانے والوں پر ٹیکس 35 سے کم کر کے 32 کر دیا گیا،اس کے علاوہ حکومت نے تنخواہ دارطبقے پر عائد سرچارج ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دستاویز کےمطابق آئندہ مالی سال کیلئے وفاقی بجٹ کا حجم 18 ہزار 771 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے، ایف بی آر کا سالانہ ٹیکس ہدف 15 ہزار 264 ارب روپے،گراس ریونیو کا تخمینہ 20 ہزار 600 ارب روپے لگایا گیا ہے،نان ٹیکس ریونیو کی مد میں 5 ہزار 336 ارب روپے حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آئندہ مالی سال صوبوں کو 8 ہزار 848 ارب روپےمنتقل کیئے جائیں گے،وفاقی حکومت کی خالص آمدن کا تخمینہ 11 ہزار 751 ارب روپےہے،اندرونی ذرائع سے 2034 ارب،بیرونی ذرائع سے 813 ارب کا قرض ملےگا،حکومت ٹی بلز، پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز، سکوک سے 4012 ارب حاصل کرے گی۔
دستاویزات کےمطابق اگلےمالی سال سرکاری اداروں کی نجکاری سے 161 ارب روپے حاصل ہوں گے،دفاع کیلئے 3 ہزار ارب روپے،ترقیاتی منصوبوں کیلئے 1 ہزار ارب مختص کیے گئے،حکومت اگلے مالی سال جاری اخراجات پر 17 ہزار 495 ارب خرچ کرے گی،آئندہ مالی سال قرضوں پر سود کی ادائیگی کیلئے 8 ہزار 54 ارب خرچ ہوں گے،پنشن ادائیگی کیلئے 1 ہزار 169 ارب، سول حکومت کیلئے 1 ہزار 71 ارب مختص کیے گئے ہیں،جبکہ نئے مالی سال ہنگامی اقدامات کیلئے بجٹ میں 430 ارب روپے مختص ہیں۔
وفاقی بجٹ 27-2026، تنخواہوں میں اضافہ، دفاع کیلئے 3 ہزار ارب مختص، ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے ہوگا
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب 18 ہزار 771 ارب روپے کا وفاقی بجٹ پیش کردیا۔
قومی اسمبلی کے اجلاس میں بجٹ تقریر کے دوران وزیرخزانہ محمداورنگزیب نے کہا کہ پاکستان عالمی سطح پر ایسی اہمیت اختیار کرچکا ہے کہ اُس کی آواز سنی جاتی ہے، گزشتہ سال مئی میں پاکستان نے بھارت کومنہ توڑجواب دیا، مضبوط دفاع ہماری سالمیت کیلئے اہم ہے۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ اسلام آباد ٹاکس کے ذریعے امریکا اور ایران کوایک میز پر لانے میں کامیاب ہوئے، امریکا اور ایران نے پاکستان پراعتماد کیا، تعلقات میں تبدیلی سول اورعسکری قیادت کی بدولت ہے،اُن کے شکر گزار ہیں۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ہم سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہیں، پاک سعودی دفاعی معاہدے کی وجہ سے تعلقات کو مستحکم اور نئی بنیاد ملی، ہماری دفاعی صنعت زرمبادلہ کمانے کا ذریعہ بن چکی ہے، ہمارے فائٹر جیٹس کوکئی ممالک اپنی فضائیہ میں شامل کرنے کیلئے رابطہ کررہے ہیں۔ دنیا پاکستان کی دفاعی قوت کی معترف ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران نے پاکستان پر اعتماد کیا، اسلام آباد ٹاکس کےذریعے امریکا اور ایران کوایک میز پر لانے میں کامیاب ہوئے، پاکستان کی کوشش ہے کہ معاہدہ کامیاب ہو،آبنائے ہرمز سے تیل کی فراہمی بحال ہو، پاکستان نےخطےمیں امن کیلئے ذمہ دارانہ کردارادا کیا،چین کی حمایت حاصل رہی۔
محمداورنگزیب کے مطابق پاک چین تعلقات ہماری خارجہ پالیسی کااہم ستون ہیں، چین پاکستان کاسب سے اہم تجارتی شراکت دار ہے، پاک چین تعلقات صرف حکومتوں تک محدودنہیں، وزیراعظم کے حالیہ دورہ چین نے تعلقات کونئی جہت دی۔
وزیرخزانہ نے کہا کہ امریکا ایران جنگ کی وجہ سےعالمی منڈی میں پیٹرولیم قیمتوں میں اضافہ ہوا، حکومت قیمتوں کا سارا بوجھ عوام پرمنتقل کرتی توقیمتیں زیادہ ہوتیں، حکومت نےپیٹرولیم قیمتوں پرعوام کو128ارب روپے کا ریلیف دیا، حالیہ بحران کے دوران پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کا کوئی مسئلہ نہیں، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں کمی کافائدہ عوام کومنتقل کررہے ہیں۔
وزیرخزانہ محمداورنگزیب نے کہا کہ ہم نے وزیراعظم کی قیادت میں حالات پرقابو پایا، معاشی کامیابیاں حاصل کیں، ہماری معاشی شرح نمو3.7فیصدتک پہنچ چکی ہے۔
وفاقی وزیر خزانہ نے کہا کہ اس مالی سال میں لارج اسکیل مینوفیکچرنگ کی شرح نمو 6.1 فیصد رہی، خدمات شعبے میں 4.1 فیصد شرح نمو سامنےآئی، ہماری معیشت کا حجم 452 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہےجوکہ نیاسنگ میل ہے جبکہ فی کس آمدنی1751 ڈالرسےبڑھ کر1901 ڈالرہوگئی۔
ترسیلات زرکا حجم
محمد اورنگزیب نے کہا کہ پچھلے دو سالوں میں پالیسی ریٹ میں تاریخی کمی واقع ہوئی، زرمبادلہ ذخائر 3 سال قبل 4 ارب ڈالرتھے جو بڑھ کر17 ارب ڈالرسے زائد ہوچکے ہیں، زرمبادلہ ذخائر 3 مہینوں کی درآمدات کےلیے کافی ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق ترسیلات زر پچھلے مالی سال 38 ارب ڈالر تھیں، اس مالی سال کے پہلے 11 ماہ میں ترسیلات زرکا حجم 38ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، سال بھر کی ترسیلات زر 41 ارب ڈالر سے تجاوز کر جائیں گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ملکی دفاع حکومت کی اہم ترجیح ہے، اس قومی فرض کے لیے3 ہزار ارب روپے فراہم کیے جائیں گے جبکہ سول انتظامیہ کے اخراجات کےلیے ایک ہزار 71 ارب روپے مختص کیے جارہے ہیں۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ
وفاقی وزیر خزانہ کے مطابق سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے، ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 7 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے جبکہ کم سے کم ماہانہ تنخواہ میں 10 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
اگلے مالی سال بی آئی ایس پی کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، بی آئی ایس پی کے لیے یہ رقم پچھلے سال کےمقابلے میں17فیصد زیادہ ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ جاری اخراجات سے آزاد کشمیر کے لیے 146ارب روپے، گلگت بلتستان کے لیے 88ارب دیے جائیں گے جبکہ خیبرپختونخوا کے ضم شدہ اضلاع کےلیے 95ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایف بی آر کا ٹیکس ٹو جی ڈی پی 10.3 فیصد تک پہنچ چکی ہے، تین سالوں میں ملکی معیشت کے تناسب سے ٹیکسوں کی شرح میں 2 فیصد اضافہ ہوا، مالیاتی خسارہ جون 2023 میں جی ڈی پی کا 7.8 فیصد تھا، مالیاتی خسارہ موجودہ مالی سال کے اختتام تک 4فیصد تک آجائےگا۔
تنخواہ دار افراد کو ریلیف کی تجویز
وزیر خزانہ کے مطابق آمدنی کے 4 سلیبس کے تنخواہ دار افراد کو ریلیف کی تجویز ہے۔ 22 سے 32 لاکھ روپے سالانہ آمدنی پر ٹیکس کی شرح 20 فیصد کرنےکی تجویز ہے جبکہ 32 سے 41 لاکھ تک آمدنی پرٹیکس کی شرح 25 فیصد کرنےکی تجویز ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ 41 لاکھ سے56 لاکھ روپےسالانہ تنخواہ پرانکم ٹیکس کی شرح 29 فیصد کرنےکی تجویز ہے جبکہ 56 سے70 لاکھ روپے سالانہ تنخواہ پرانکم ٹیکس کی شرح 32 فیصد کرنےکی تجویز ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ تنخواہ دارطبقے پرعائد 9 فیصد سرچارج کو ختم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ 15سے50 کروڑ روپے تک آمدنی کی 6 سلیبس پرعائد سپر ٹیکس ختم کرنےکی تجویز ہے، 50کروڑسےزیادہ آمدنی پر سپر ٹیکس کی شرح 10 سےکم کرکے8فیصد کرنےکی تجویز ہے تاہم بینکوں، تیل وگیس تلاش کرنے والی کمپنیوں اور فرٹیلائزرز پر سرچارج برقرار ہے۔
دکانداروں کےلیے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف
محمد اورنگزیب نے کہا کہ چھوٹےدکانداروں کےلیے فکسڈ ٹیکس سسٹم متعارف کرانےکی تجویز ہے، اس سسٹم میں وہ دکاندار آسکتےہیں جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے سے کم ہے، چھوٹے دکارندار اپنی سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس ادا کریں گے، اس ٹیکس میں دکاندار اپنا ودہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹ کراسکیں گے، چھوٹےدکاندار کوگوشوارے جمع کراتے وقت کم ازکم 25 ہزار روپے جمع کرانا ہوگا، ان کا روٹین میں کوئی آڈٹ نہیں ہوگا اور انہیں خریداری پر ودہولڈنگ کی ذمےداری نہیں ہوگی اور پی او ایس مشین رکھنےسے استثنیٰ ہوگا۔
ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی
بجٹ میں جائیدادمنتقلی پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس میں کمی کی تجویز ہے، فائلرز کےلیےجائیداد خریداری پر ودہولڈنگ ٹیکس 2.5 فیصد سےکم کرکے1.25 فیصد کرنےکی تجویز ہے جبکہ نان فائلرز کےلیے جائیداد کی فروخت پرودہولڈنگ ٹیکس 5.5 سےکم کرکے2.75 فیصد کرنےکی تجویز ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ایکسپورٹ پر ایڈوانس انکم ٹیکس اور کم سےکم ٹیکس کی مدد میں مجموعی طورپر2 فیصدٹیکس ہے جسے کم کرکے 1.25 فیصد کرنےکی تجویز ہے جوکہ کم سےکم ٹیکس کی مد میں ہے۔
ڈیبٹ کارڈ کے بیرون ملک استعمال پرودہولڈنگ ٹیکس
وزیر خزانہ کے مطابق کریڈٹ اور ڈیبٹ کارڈکےبیرون ملک استعمال پرودہولڈنگ ٹیکس 0.5 فیصد کرنے، غیرملکی اثاثے رکھنے پر کیپیٹل ویلیو ٹیکس ختم کرنےکی تجویز ہے۔ یہ ٹیکس غیر ملکی اثاثے ظاہر کرنےکی حوصلہ شکنی کا باعث بن رہا تھا۔
گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد
امپورٹ کی جانے والی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کا فیصلہ جبکہ 2 سے 3 ہزار سی سی تک کی ایس یو ویز پربھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد عائد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، 3 ہزارسی سی سے بڑی گاڑیوں پر فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی میں اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ 2کروڑ سے مہنگی الیکٹرک گاڑی پر بھی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی عائد کرنے کی تجویز ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ نئی آٹو پالیسی وزیراعظم کی تشکیل کردہ کمیٹی کے زیرغور ہے، الیکٹرک موٹرسائیکل، رکشوں اور بسوں پر موجودہ رعایتی نظام برقرار رہے گا، درآمد کیے جانے والے الیکٹرک ٹرکوں پر ایک فیصد سیلزٹیکس سہولت کی تجویز ہے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ قومی ترقیاتی پروگرام کے لیے 3ہزار 675 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، وفاق کا ایک ہزارارب روپے، صوبوں کا ترقیاتی پروگرام 2224ارب روپے ہے۔
وزیر خزانہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ریاستی ملکیتی اداروں کی جانب سے سرمایہ کاری کے لیے 451 ارب روپے شامل ہیں، وفاقی ترقیاتی پروگرام میں نقل و حمل کےبنیادی ڈھانچہ کی ترقی کے لیے 365ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ کے مطابق کراچی کو چمن سے جوڑنے والی این 25 شاہراہ پاکستان ایکسپریس وے کو دو رویہ کرنے کے لیے 100ارب روپے، سکھر حیدر آباد موٹروے پر 30 ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جائے گی جبکہ ایم ایل ون کے کراچی تا روہڑی سیکشن پر کام آئندہ سال شروع ہوگا جس کے لیے 25ارب مختص کیے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ صنعتی ترقی کی رفتار تیز کرنے کے لیے خصوصی اقتصادی زونز میں بجلی فراہمی کو ترجیح دی گئی ہے، آزاد کشمیراورجی بی میں 8 پن بجلی منصوبوں کے لیے 13ارب 10کروڑ روپے مختص کیے ہیں جبکہ واپڈا اور نیشنل گرڈ کمپنی اپنے انفرادی وسائل سے 158ارب روپے کی سرمایہ کاری کریں گے۔
بجٹ میں آبی منصوبوں کے لیے103ارب 10کروڑ روپے مختص
محمد اورنگزیب نے بجٹ تقریر میں کہا کہ پاکستان کو پانی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے اسٹوریج کی کم ہوتی ہوئی صلاحیت، گزشتہ سال دریاوں میں سیلاب نے ہماری معیشت کو 822 ارب روپے کا نقصان پہنچایا، بجٹ میں 43 آبی منصوبوں کے لیے103ارب 10کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
دیامر بھاشا ڈیم کے لیے 14ارب، مہمند ڈیم کے لیے 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ داسو پن بجلی منصوبے کے لیے 15 ارب مختص کیے گئے ہیں جبکہ کراچی کے بلک واٹر سپلائی کے فور منصوبے کے لیے 10ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ہاوسنگ شعبے کے لیے 54 ارب60کروڑ روپے مختص
وزیر خزانہ نے کہا کہ 2035 تک ہماری تقریبا نصف ملکی آبادی شہروں میں مقیم ہوگی، اربن سینٹرز ہماری معیشت کا 55 فیصد حصہ ہیں، بجٹ میں دیرپا شہری ترقی اور ہاوسنگ شعبے کے لیے 54 ارب60کروڑ روپے مختص کیے ہیں، اس رقم سے وفاقی اور صوبائی سطح پر ایک لاکھ50ہزار سستے رہائشی یونٹس تعمیر کیے جائیں گے جبکہ 10بڑے شہروں کے لیے ڈیجیٹل ماسٹر پلانز تیار کیے جائیں گے۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ صنعتی ترقی اور برآمدی مسابقت کی رفتار بڑھانے کے لیے بجٹ میں 6 ارب 60کروڑ روپے مختص کیے گئے ہیں۔ بجٹ میں اعلیٰ تعلیم کے لیے بھی 46ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ کراچی، لاہور اور سیالکوٹ میں صنعتی ڈیزائنگ کے آٹومیشن مراکز قائم کیے جارہے ہیں۔ محمد اورنگزیب نے کہا کہ عوامی صحت کی دیکھ بھال ہماری اہم قومی ذمہ داری ہے، ترقیاتی بجٹ میں صحت کے منصوبوں کے لیے 25ارب10کروڑ روپے رکھے ہیں،کینسر کے علاج کی سہولیات میں وسعت بھی شامل ہے۔
خواتین کی صحت سے متعلقہ اشیا پرٹیکس ختم
بجٹ میں سینیٹری پیڈز اور خواتین کی صحت سے متعلقہ اشیا پرٹیکس ختم کرنےکی تجویز ہے جبکہ مانع حمل اشیاء پرعائدٹیکس ختم کرنے کی بھی تجویز ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ٹی برآمدات کی آمدنی پر 0.25 فیصد ایف ٹی آر کی رعایت مزید3 سال تک جاری رکھنےکی تجویز ہے۔
نان ٹیکس ریونیو کا ہدف
بجٹ تقریر کے مطابق وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 5 ہزار 336 ارب روپے ہوگا، وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 11 ہزار 751 ارب روپے ہوگی۔
بجٹ تقریر کے مطابق وفاقی حکومت کے کل اخراجات کا تخمینہ 18ہزار 771 ارب روپے ہے، 8 ہزار 54 ارب روپے سود کی ادائیگی کے لیے مختص ہوں گے، پی ایس ڈی پی کے لیے ایک ہزار ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ وفاقی حکومت کے جاری اخراجات کا تخمینہ 17ہزار 495 ارب روپے ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق پینشن پر مجموعی طور پر 1169ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جس میں ملٹری پینشن پر 822ارب روپے خرچ کرنے جبکہ سول پینشن پر 272ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے۔
اخراجات کا تخمینہ
بجٹ دستاویز کے مطابق سول حکومت پر اخراجات کا تخمینہ 1071ارب روپے خرچ کرنے کا تخمینہ ہے جبکہ ایمرجنسی صورتحال سے نمٹنے کے لیے 430ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے، مجموعی طور پر جاری اخراجات 17ہزار 495ارب روپے مختص کرنے کا تخمینہ ہے۔
بجٹ دستاویز کے مطابق وفاقی ترقیاتی بجٹ کا حجم 1050ارب ہوگا جبکہ ایف بی آر کا ٹیکس وصولی کا ہدف 15ہزار264ارب روپے رہنے کا تخمینہ ہے۔
پاکستان پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس میں عدم شرکت کی خبروں کی تردید کر دی
پاکستان پیپلز پارٹی نے بجٹ اجلاس میں عدم شرکت کی خبروں کی تردید کر دی۔
ترجمان پی پی کا کہنا ہے کہ قومی مفاد کے تحت پی پی پی بجٹ پراسس کا حصہ ہوگی، پیپلزپارٹی نے بجٹ اجلاس کے بائیکاٹ کا فیصلہ نہیں کیا، چیئرمین بلاول بھٹو زرداری بجٹ اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے، بجٹ اجلاس میں کچھ اراکین شریک ہوں گے۔
خیال رہے کہ اس سے قبل پاکستان پیپلزپارٹی کی جانب سے بجٹ کے بائیکاٹ کی خبر سامنے آئی تھی۔
نئے مالی سال میں بی آئی ایس پی سے مستفید خاندانوں کی تعداد میں اضافے کا فیصلہ
آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) کے دائرہ کار میں توسیع کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
دستاویز کےمطابق مستحق خاندانوں کی تعداد 10 ملین سے بڑھا کر 10.2 ملین کرنے کی منظوری دی گئی ہے، جس کے تحت مزید خاندانوں کو مالی معاونت فراہم کی جائے گی۔
حکام کےمطابق بی آئی ایس پی کفالت پروگرام کی کوریج میں اضافہ کیا جارہا ہےجبکہ ہنرمند پروگرام کو بھی توسیع دی جائے گی،اس کےساتھ ساتھ لرننگ پروگرام کو بھی شامل کر کے پروگرام پر عملدرآمد مزید تیز کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
بجٹ دستاویز کےمطابق وزیراعظم روزگار اسکیم کے تحت 36 ہزار 676 گھرانوں کی مدد کی جائے گی، جبکہ 51 ہزار 185 افراد کو مختلف ہنر سکھانے کے منصوبے بھی شامل ہیں۔
وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی
وفاقی کابینہ نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی منظوری دے دی۔
وفاقی کابینہ میں نئے مالی سال کے بجٹ پر وزیر خزانہ نے دوران بریفنگ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافہ کی تجویز سامنے رکھ دی۔
اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی تجویزپر غور کیا گیا، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں دو فیز میں اضافہ کرنے کی تجویز ہے۔
کابینہ اجلاس میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7،7 فیصد اضافے کی تجویز کی منظوری دیدی گئی، وفاقی وزیر رانا تنویر نے تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تصدیق کر دی۔
نئے بجٹ میں پرائمری کے 77 فیصد بچوں کو اسکول میں داخل کرانے کا ہدف مقرر
بجٹ 27-2026 میں تعلیمی شعبے کیلئے اہم اہداف مقرر کردئیے گئے۔
آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں تعلیمی شعبےکےلیے اہم اہداف مقرر کر دیے گئے ہیں جن کا مقصد ملک میں شرح خواندگی اور تعلیمی معیار کو بہتر بنانا ہے۔
دستاویز کے مطابق پرائمری سطح پر 77 فیصد بچوں کو اسکولوں میں داخل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جبکہ مڈل سطح پر 69 فیصد اور سیکنڈری سطح پر 58.8 فیصد انرولمنٹ کا ہدف رکھا گیا ہے۔
اسی طرح اسکولوں سے باہر بچوں کی شرح کو کم کر کے 30.6 فیصد تک لانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا،بالغ افراد میں شرح خواندگی کو بڑھا کر 59.8 فیصد تک لے جانے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔،نئے بجٹ میں اساتذہ کو تربیت دینے کے کئی اہداف بھی مقرر کیے گئے ہیں۔
پاکستان تخفیف غربت پروگرام کے تحت 86 ہزار افراد کو سود سے پاک قرضے دینے کا فیصلہ
آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں حکومت نے غربت میں کمی، نوجوانوں کی فلاح اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے اہم اہداف مقرر کیے ہیں۔
دستاویز کےمطابق پاکستان تخفیف غربت پروگرام کے تحت 86 ہزار افراد کو سود سے پاک قرضے فراہم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کم آمدنی والے طبقے کو معاشی طور پر مستحکم کیا جا سکے۔
موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے انفراسٹرکچر کے 80 منصوبےمکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔اسی طرح وزیراعظم یوتھ اسکل ڈیولپمنٹ پروگرام پرعملدرآمد تیز کرنےکا فیصلہ کیا گیا ہے،جس کے تحت ایک لاکھ 20 ہزار نوجوانوں کو آئی ٹی اور ڈیجیٹل اسکلز کی تربیت دی جائے گی۔
دستاویز کےمطابق اس مقصد کے لیے نئے بجٹ میں 5.29 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، جبکہ وزیراعظم کے بااختیار نوجوان انٹرنشپ پروگرام کے لیے 30 کروڑ روپے رکھے گئے ہیں۔
بجٹ تقریر میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز
ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ تقریر میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافے کی تجویز ہے تاہم سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا حتمی فیصلہ کابینہ میں کیا جائے گا۔
ذرائع کے مطابق وزیرخزانہ کی بجٹ تقریر میں ملازمین کی تنخواہوں میں 7 فیصد اضافہ جبکہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشنز میں بھی 7 فیصد اضافے کی تجویز ہے۔
وفاقی کابینہ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا حتمی فیصلہ کیا جائے گا، کابینہ کے خصوصی اجلاس میں تنخواہوں میں 10 فیصد اضافے کی منظوری متوقع ہے۔ حکومتی اتحادیوں نے بھی کم از کم تنخواہوں میں 10 فیصد اضافہ تجویز کر دیا۔
مالی سال 27-2026 کیلئے وفاقی ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے مختص
مالی سال 27-2026 کیلئے وفاقی ترقیاتی بجٹ ایک ہزار ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
دستاویز کے مطابق وفاقی وزارتوں کیلئے682 ارب 48 کروڑ روپے سے زائد ترقیاتی بجٹ مختص ہوگا، نیشنل ہائی وے اتھارٹی کیلئے 224 ارب 51 کروڑ روپے، آبی وسائل ڈویژن کیلئے 103 ارب 80 کروڑ روپے، پاور ڈویژن این ٹی ڈی سی پیپکو کیلئے 88 ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کی تجویز ہے۔
کابینہ ڈویژن کیلئے 64 ارب 8 کروڑ روپے، ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 46 ارب روپے کا بجٹ مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ آئندہ مالی سال کیلئے ریلوے ڈویژن کیلئے 40 ارب 65 کروڑ روپے مختص ہونے کا امکان ہے۔
وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت ڈویژن کیلئے36 ارب 31 کروڑ روپے، صوبوں اور خصوصی علاقوں کیلئے 233 ارب 33 کروڑ روپے، ضم شدہ اضلاع کیلئے 56 ارب 7 کروڑ روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص ہونے کی سفارش ہے۔
آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کیلئے 85 ارب 2 کروڑ روپے، آئی ٹی و ٹیلی کام ڈویژن کیلئے 19 ارب 58 کروڑ روپے ، قومی صحت خدمات ڈویژن کیلئے 16 ارب 6 کروڑ روپے، داخلہ ڈویژن کیلئے 21 ارب 82 کروڑ روپے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز ہے۔ سی پیک 2 کی نئی اسکیموں کیلئے ایک ارب روپے مختص ہونے کا امکان ہے۔
آئندہ مالی سال کےلیے اہم معاشی اہداف، ترجیح منصوبوں کی تفصیلات سامنے آگئیں
آئندہ مالی سال کےلیے جی ڈی پی کی شرح 4 فیصد، مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہنے کا تخمینیہ ہے۔
آئندہ مالی سال کے سالانہ پلان کے مطابق زرعی شعبے کا ہدف 3.8 فیصد ، صنعت کا ہدف 4.5 فیصد مقرر کردیا گیا۔ آئندہ مالی سال مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد رہے گی۔
دستاویز کے مطابق سرمایہ کاری کا ہدف جی ڈی پی کا 15 فیصد، آئندہ مالی سال کے لیے برآمدات کا ہدف 32.9 ارب ڈالر، خدمات کی برآمدات کا ہدف 11 ارب 30 کروڑ ڈالر مقرر کردیا گیا۔ در آمدات کا ہدف 70 ارب ڈالر ،ترسیلات زر کا ہدف 42 ارب 40 کروڑ ڈالر مقرر کیا گیا ہے۔
آئندہ مالی سال کے لیے بڑے اور ترجیح منصوبوں کی تفصیلات سامنے آگئی۔ دستاویز کے مطابق مہمند ڈیم ہائیڈرو پاور پراجیکٹ کیلئے 26 ارب روپے مختص ہوں گے۔ داسو ہائیڈرو پاور کیلئے 21 ارب،کراچی بلک واٹر سپلائی کیلئے 10 ارب مختص کرنے کی تجویز ہے۔
دانش اسکولز کیلئے 22 ارب مختص وزیراعظم ہیلتھ پروگرام کیلئے 3 ارب، این 25 کوئٹہ کیلئے 100 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ سکھر حیدرآباد موٹروے کے لیے 30 ارب روپے مختص ہوں گے۔
ایم ایل ون ریلوے منصوبے کے لیے 25 ارب مختص ہوں گے، سندھ کوسٹل ہائی وے کے لیے 25 ارب مختص رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ مہران ہائی وے کے لیے 21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
واضح رہے کہ مالی سال 2026،27 کیلئے 17.5 ٹریلین روپے یعنی 17 ہزار 500 ارب روپے سے زائد حجم کا وفاقی بجٹ آج پیش کیا جائے۔ ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے متوقع ہے۔ نان ٹیکس ریونیو کا ہدف دو ہزار 767 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، معاشی شرح نمو 4 فیصد جبکہ مہنگائی کی شرح 8.2 فیصد مقرر کی گئی ہے۔
مالی سال 2026،27 میں پیٹرولیم لیوی سے ایک ہزار 727 ارب روپے وصول کرنے کا پلان ہے۔ قرضوں پر سود کیلئے7 ہزار 824 ارب رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دفاعی شعبے تقریباً 3 ہزار ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے۔
آئندہ مالی سال تجارتی خسارہ 37 ارب ڈالر سے زائد رہنے کا خدشہ ہے کیونکہ برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے جبکہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔ زراعت کی ترقی کا ہدف 3.8 فیصد مقرر۔ صنعتیں 4 فیصد کی شرح سے ترقی کریں گی۔
بڑی صنعتوں کی ترقی کا ہدف 4.5 فیصد جبکہ خدمات کی کارکردگی 4.2 فیصد رہنے کا تخیمنہ ہے۔حکومت روزگار کے 20 لاکھ نئے مواقع پیدا کرنے کیلئے پرعزم۔ خدمات کے شعبے میں 11 لاکھ ،صنعتی شعبے میں 5 لاکھ اورزرعی شعبے میں 4 لاکھ ملازمتوں کا ہدف رکھا گیا ہے۔
قومی اقتصادی کونسل نے آئندہ وفاقی بجٹ کیلئے اہم معاشی اہداف کی منظوری بھی دے دی۔ 3 ہزار 669 ارب روپے کا قومی ترقیاتی پلان منظور کرلیا گیا۔ وفاقی پی ایس ڈی پی کا حجم 1000 ارب روپے۔ چاروں صوبوں کے ترقیاتی منصوبوں کے لئے 2218 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔
وفاق اور صوبے مل کر ترقیاتی بجٹ میں ایک ہزار 46 ارب روپے کی بچت کریں گے۔ پنجاب کے ترقیاتی بجٹ میں 701 ارب، سندھ میں 110 ارب اور خیبرپختونخوا کے فنڈز میں 109 ارب روپے کمی کی گئی ۔ فیصلہ کیا گیا کہ دفاع اور وزارت داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے،انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کی جا سکتی ہے۔
نئے بجٹ میں چھوٹے تاجروں کیلئے فکسڈ ٹیکس اسکیم کا اعلان متوقع
نئے بجٹ میں چھوٹے تاجروں کیلئے فکسڈ ٹیکس اسکیم کا اعلان متوقع ہے،اس اہم اقدام کے ذریعے 35 لاکھ سے زیادہ چھوٹے تاجروں کو ٹیکس نیٹ میں لایا جائے گا۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں مجوزہ فکسڈ ٹیکس اسکیم کے تحت سالانہ بیس کروڑ روپےیا کم سیل پر ایک فیصدفکسڈ ٹیکس اداکرناہوگا،فکسڈ ٹیکس اسکیم میں شمولیت کیلئے 25 ہزار روپےرجسٹریشن فیس ایک صفحے کےآسان ٹیکس گوشوارے کےساتھ جمع کروانا ہوگی۔
حکومت کو اس اسکیم سے 50 ارب روپےآمدن حاصل ہونےکاامکان ہے،سالانہ 20 کروڑ ٹرن اوور یا سیل پر 25 ہزار روپےٹیکس اداکرناہوگا،فائلرتاجرکی دکان پر اس کےنام اوراین ٹی این نمبر پر مبنی سلیٹ آویزاں ہوگی،رضا کارانہ اسکیم یانارمل ٹیکس رجیم میں سےایک کاانتخاب لازمی قراردیاگیا ہے،رجسٹریشن نہ کرانے والےتاجروں کو بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
تنخواہ دار طبقے کو کم از کم 10 فیصد یا زائد ریلیف ملنے کا امکان
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی منظوری دیدی۔
آئی ایم ایف کی منظوری کے بعد تنخواہ دار طبقے کیلئے کم از کم 10 فیصد یا زائد ریلیف متوقع ہے۔
دوسری جانب تنخواہ دار طبقے کے انکم ٹیکس سلیب میں ردوبدل کیا جائےگا، اس حوالےسے مختلف تجاویز وفاقی کابینہ کے سامنے رکھی جائیں گی۔ وزیراعظم آج وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس میں مراعات کی منظوری دیں گے۔
ذرائع کے مطابق ملازمت پیشہ افراد پر ٹیکس ریٹ کم کرنے سے ریونیوپر50 ارب تک اثر پڑسکتا ہے، آئی ایم ایف نے تنخواہ داروں کو ریلیف دینے کیلئے متبادل ذرائع سے ریونیو پیدا کرنے پر زور دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق سالانہ 12 سے 22 لاکھ تنخواہ دار پر ٹیکس میں کمی کا امکان ہے، ماہانہ 1 لاکھ، 2 لاکھ اور 3 لاکھ روپے تنخواہ دار افراد کیلئے ٹیکس میں ریلیف کی تجویز ہے۔
آئی ایم ایف نے بزنس سیکڑ کو بجٹ میں ریلیف دینے پر رضا مندی ظاہر کر دی
آئی ایم ایف بزنس سیکڑ کو بجٹ میں ریلیف دینے پر رضا مندی ظاہر کردی۔
معروف تاجر رہنما عارف حبیب نے سماء سے خصوصی گفتگو میں انکشاف کیا ہےکہ حکومت بزنس سیکٹر کو بجٹ میں ریلیف دینے جارہی ہے اور اس کے لئے آئی ایم ایف بھی مان گیا ہے، آئندہ بجٹ میں پرائمری سرپلس اور ٹیکس وصولی اہداف پر بھی اتفاق ہوگیا،معیشت اور اسٹاک مارکیٹ دونوں کو فائدہ ہوگا۔
عارف حبیب نےکہا آئندہ بجٹ میں آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت کو دیئے گئے معاشی اہداف بھی بتا دیئے ہیں،ٹیکس ریٹس اور انرجی کاسٹ کو نیچے لانے کیلئے اس بار حکومت سنجیدہ ہے،لگ بھگ بارہ سو ارب روپے اس ریلیف کی قیمت بنتی ہےجن کی مالی گنجائش آئی ایم ایف کے دیئے گئےمعاشی اہداف میں با آسانی نکل آئے گی اور اگر ایسا ہوتا ہے تو نا صرف معیشت بلکہ اسٹاک مارکیٹ میں بھی بوم آئے گا۔
بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس سلیبز میں ردوبدل کی تجویز
بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس سلیبز میں ردوبدل کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق سالانہ 12 سے 22 لاکھ تنخواہ دار پر ٹیکس میں کمی کا امکان ہے، ماہانہ 1 لاکھ، 2 لاکھ اور 3 لاکھ روپے تنخواہ دار افراد کیلئے ٹیکس میں ریلیف کی تجویز ہے۔
سالانہ 36 لاکھ روپے کی تنخواہ پر ریلیف دینے کیلئے ورکنگ تیار کرلیا گیا، سالانہ 1 کروڑ روپے یا اس سے زائد تنخواہ پر 10 فیصد سرچارج ختم کرنے کی تجویز ہے۔
تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس سلیز 6 سے بڑھا کر 8 کرنے کی تجویز ہے، تنخواہ دار طبقے کیلئے ٹیکس ریلیف وفاقی کابینہ کی حتمی منظوری سے مشروط ہے۔
آئندہ مالی سال پنشن کے لیے 1100 ارب روپے سے زائد مختص کیے جانے کا امکان ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کےلیے 838 ارب روپے رکھے جانے کی تجویز ہے، بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے تحت مستحقین کا سہ ماہی وظیفہ بڑھانے کی تجویز ہے۔
آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ آج پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، تنخواہ اور پنشن میں اضافہ متوقع
آئندہ مالی سال کا وفاقی بجٹ آج پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، جس کا مجموعی حجم ساڑھے 17 ہزار سے 18 ہزار ارب روپے تک ہوگا۔
ذرائع کے مطابق بجٹ خسارے کا تخمینہ 5.3 سے 5.4 ٹریلین روپے لگایا گیا ہے،جبکہ حکومت نے پیٹرولیم لیوی کی مدمیں 1,727 ارب روپے وصول کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے،دعوے بڑے بڑے لیکن اہداف پورے نہ ہوئے،حکومت بیشتر معاشی ٹارگٹ حاصل کرنے میں ناکام رہی،معاشی ترقی کا خواب بھی ادھورا رہ گیا ۔ اقتصادی سروے نے پول کھول دیا ۔
سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کی تجویز ہے جب کہ ٹیکس ریونیو کا ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ میں سولر پینلز، اسٹیشنری اشیاء اور اسٹاک مارکیٹ پر عائد ٹیکسوں میں کسی قسم کی تبدیلی نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے،درآمدی الیکٹرک گاڑیوں پر سیلز ٹیکس کی شرح 25 فیصد تک بڑھائے جانے کا امکان ہے جبکہ ہائبرڈ گاڑیوں پر موجودہ ٹیکس شرحیں برقرار رکھے جانے کا امکان ہے۔
آئندہ مالی سال کے دوران برآمدات کا ہدف 32.8 ارب ڈالر مقرر کیا گیا ہے جب کہ درآمدات کا تخمینہ 70 ارب ڈالر لگایا گیا ہے،دفاع اور وزارت داخلہ کے سوا کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ شروع نہیں کیا جائے گا۔
وفاقی حکومت نئے مالی سال کے بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو تقریباً 50 ارب روپے تک ٹیکس ریلیف دینے پر غور کر رہی ہے جس کے تحت انکم ٹیکس سلیب کی تعداد 6 سے بڑھا کر 8 کیے جانے کا امکان ہے،بجٹ میں سپرٹیکس میں ایک سے دو فیصد تک کمی کی تجویز ہے۔
پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان مذاکرات کا فائنل راؤنڈ مکمل ہو گیا ہے،آئی ایم ایف نے تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی منظوری دے دی ہے،تاہم اس کے لیےحکومت کو متبادل ذرائع سے ریونیو بڑھانے پر زور دیا گیا۔
ذرائع کےمطابق تنخواہ دار طبقے کے انکم ٹیکس سلیب میں ردوبدل کیا جائے گا،جس سے ریلیف کا براہِ راست فائدہ ملازمین کو پہنچے گا،تاہم اس اقدام سے قومی ریونیو پر تقریباً 50 ارب روپے تک اثر پڑنے کا خدشہ ہے۔
نئے آنے والے بجٹ میں مہنگائی کا ہدف 8 اعشاریہ 2 فیصد اور ٹیکس ریونیو 15 ہزار 267 ارب مقرر کیا گیا ہے,پی ٹی آئی اور اتحادیوں نے بجٹ سیشن کا بائیکاٹ نہ کرنے کا اعلان کردیا لیکن پارلیمنٹ کے اندر اور باہر احتجاج کیا جائے گا۔
بجٹ پیش کرنے کے لیے قومی اسمبلی کا اجلاس سہ پہر 3 بجے شروع ہوگا ا س سے قبل وفاقی کابینہ کا اجلاس آج دوپہر ڈھائی بجے طلب کیا گیا ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں نئے وفاقی بجٹ کی منظوری دی جائے گی، وفاقی وزیرخزانہ محمد اورنگزیب کابینہ کو بجٹ پر بریفنگ دیں گے۔
اکنامک سروے کے مطابق ملک کی 28 اعشاریہ 9 فیصد آبادی غریب،پنجاب میں غربت کی شرح 23 اعشاریہ 3 فیصد،بلوچستان میں سب سے زیادہ 47 فیصد,خیبرپختونخوا میں 35 اعشاریہ 3 اورسندھ میں 32 اعشاریہ 6 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے،ملک میں لیبر فورس کی تعداد 8 کروڑ 31 لاکھ،7کروڑ 72 لاکھ افراد برسر روزگار ہیں، 2025 میں 7 لاکھ 62 ہزار 499 افراد روزگار کیلئے بیرون ملک گئے۔
وفاقی کابینہ کے کل ہونے والے اجلاس کا وقت تبدیل
وفاقی کابینہ کے کل ہونے والے اجلاس کا وقت تبدیل۔۔ وزیراعظم کی زیر صدارت دن ڈھائی بجے بلائے گئے اجلاس میں بجٹ کی حتمی منظوری ہو گی۔
وفاقی کابینہ کا اجلاس قومی اسمبلی اجلاس سے پہلے بلا لیا گیا، وزیراعظم کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس جمعہ کے روز ڈھائی بجے ہوگا۔ وفاقی کابینہ بجٹ کی حتمی منظوری دے گی۔ کابینہ کی منظوری کے بعد وزیر خزانہ قومی اسمبلی میں بجٹ پیش کریں گے۔ قومی اسمبلی کا اجلاس جمعہ کی سہ پہر تین بجے تک ملتوی کیا گیا ہے۔
پی ٹی آئی اور اتحادی جماعتوں کے اراکین کا بجٹ اجلاس کابائیکاٹ نہ کرنے مشورہ
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور اس کی اتحادی جماعتوں کی پارلیمانی پارٹی کا مشترکہ اجلاس منعقد ہوا جس میں آئندہ بجٹ اجلاس میں شرکت یا بائیکاٹ کے معاملے پر تفصیلی غور کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق اپوزیشن جماعتوں کے 99 فیصد ارکان بجٹ اجلاس شرکت کےخواہاں ہیں،اپوزیشن کا کل بجٹ اجلاس میں شرکت کاامکان ہے اور اجلاس کےدوران احتجاج کریں گے ۔
اپوزیشن ارکان کی اکثریت نےبجٹ اجلاس کا بائیکاٹ نہ کرنے کا مشورہ دیدیا ، اپوزیشن اراکین نے رائے دی کہ بطور اپوزیشن بجٹ اجلاس میں شرکت کرنی چاہیے،اپوزیشن ارکان نے حتمی فیصلے کا معاملہ اپوزیشن لیڈر محمود اچکزئی پر چھوڑ دیا۔
نثار جٹ نے کہا کہ بجٹ اجلاس کے دوران عوام دشمن پالیسی کی مخالفت کرنی چائے،عامر ڈوگر کا کہناتھا کہ بجٹ اجلاس میں شرکت ضرور کریں تاہم عوام کی آواز بنیں،ثناء اللہ مستی خیل نے کہا کہ اجلاس کےبائیکاٹ کےحق میں نہیں،اجلاس میں جانا چاہیے ۔
ارکان کی رائے تھی کہ احتجاج ہمارا جمہوری حق ہے،اس پرکوئی مسئلہ نہیں۔
کافی چینز کا حکومت سے کافی بینز پر درآمد ڈیوٹی ختم کرنے کا مطالبہ
وفاقی بجٹ سے پاکستان کی ابھرتی ہوئی کافی انڈسٹری نے بھی توقعات وابستہ کرلی ہیں۔ کافی چینز نے حکومت سے بغیر بھنی ہوئی کافی بینز پرعائد درآمدی ڈیوٹی ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق کافی چین مالک علی چغتائی نے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کافی انڈسٹری تیزی سے ترقی کر رہی ہے، کافی اب محض بیداری کا ذریعہ نہیں بلکہ سماجی روابط کا اہم حصہ بن چکی ہے، بھنی ہوئی اور بغیربھنی کافی بینز پر یکساں ڈیوٹی عائد ہے، پاکستان میں کافی کی درآمد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، بغیربھنی ہوئی کافی بینز پر درآمدی ڈیوٹی ختم کی جانی چاہیے، ڈیوٹی کے خاتمے سے صارفین کو نسبتاً کم قیمت پر کافی فراہم کی جا سکے گی،کافی انڈسٹری روزگار کے نئے مواقع پیدا کر رہی ہے، کافی بینز کی درآمدی کلیئرنس کے عمل میں مزید سہولت اور نرمی ہونی چاہیے۔
خیبرپختونخوا نے وفاق کو 1200ارب روپے کے مالیاتی ہدف میں اپنا حصہ دینے پر آمادگی ظاہر کر دی
خیبرپختونخوا نے وفاق کو 1200ارب روپے کے مالیاتی ہدف میں اپنا حصہ دینے پر آمادگی ظاہر کر دی۔
ذرائع محکمہ خزانہ کےمطابق اگرباقی صوبےوفاق کواپناحصہ دےرہےہیں توپھرہم بھی اپناحصہ دے سکتے ہیں،وفاق کو 12سوارب دینےکاحتمی فیصلہ آج قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں ہوگا،وفاق کی جانب 1200ارب روپے کے مطالبےمیں خیبرپختونخوا کاحصہ180ارب روپےبنتاہے،
وفاق نےاگلےمالی سال کےبجٹ کیلئےتمام صوبوں سے12سوارب روپےمانگےہیں،ابتدائی اطلاعات کےمطابق پنجاب اورسندھ نےاپنااپناحصہ دینےکیلئےرضامندی ظاہرکی ہے،
حتمی فیصلہ آج وزیراعظم کی زیرصدارت قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں متوقع ہے،جہاں خیبرپختونخوا حکومت اپنا مؤقف بھی پیش کرے گی،اجلاس میں مشیرخزانہ آج صوبےکامؤقف پیش کریں گےقومی اقتصادی کونسل کےاجلاس میں شرکت کیلئےخیبرپختونخواکےبڑوں کارات گئےاجلاس ہوا۔
بجٹ 2026-27، قومی اسمبلی اور سینیٹ کے اجلاس کل طلب
نئے مالی سال کے بجٹ کیلئے سینیٹ اور قومی اسمبلی کے اجلاس کل طلب کر لیئے گئے ہیں ۔
تفصیلات کے مطابق صدر مملکت آصف علی زرداری نے اجلاس بلانے کی سمری کی منظوری دیدی ہے سینیٹ کا اجلاس کل شام 4 بجے ہو گا جبکہ قومی اسمبلی کا اجلاس کل شام پانچ بجے شروع ہو گا۔
یاد رہے کہ وفاقی وزیر پارلیمانی امور ڈاکٹر طارق فضل چوہدری نے سماء ٹی وی سے گفتگو میں بتایا تھا کہ قومی اسمبلی اور سینیٹ کے 10 جون کو اجلاسوں کیلئے سمری ارسال کر دی گئی ہے ، وفاقی بجٹ 12 جون کو پیش کیا جائے گا ۔
دوسری جانب قومی اقتصادی کونسل کا اہم اجلاس کل دن ساڑھے 11 بجے طلب کر لیا گیا ہے، جس کی صدارت وزیرِاعظم شہبازشریف کریں گے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ شرکت کریں گے، جبکہ آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں کے نمائندے بھی شریک ہوں گے۔
اجلاس میں وفاق اور صوبوں کے درمیان ترقیاتی فنڈز کی تقسیم سمیت آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام اور معاشی اہداف کا جائزہ لیا جائے گا۔ قومی اقتصادی کونسل نئے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ اور اقتصادی ترجیحات کی منظوری دے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ مالی سال 2026-27 کے لیے مجوزہ قومی ترقیاتی بجٹ کا مجموعی حجم 4 ہزار 715 ارب روپے تجویز کیا گیا ہے، جس میں وفاقی پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کے لیے ایک ہزار 126 ارب روپے جبکہ صوبائی ترقیاتی منصوبوں کے لیے 3 ہزار 138 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق مجوزہ وفاقی پی ایس ڈی پی میں 200 ارب روپے اضافے کا امکان بھی ہے۔
پنجاب حکومت وفاق کو 570 ارب روپے کی مالیاتی رعایت دینے پر آمادہ
پنجاب حکومت نے آئندہ مالی سال کے بجٹ کو حتمی شکل دے دی ہے جس کا مجموعی حجم 5 ہزار 131 ارب روپے مقرر کیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق این ایف سی ایوارڈ کے تحت پنجاب کو قابلِ تقسیم محاصل سے 3 ہزار 793 ارب 70 کروڑ روپے ملنے کا تخمینہ ہے۔
پنجاب فنانس کمیشن کے لیے 800 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ تنخواہوں کے لیے 650 ارب روپے اور پنشن کی مد میں 505 ارب 80 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز شامل ہے۔
سماجی تحفظ کے لیے 25 ارب روپے اور ستھرا پنجاب پروگرام کے لیے 150 ارب روپے مختص کرنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ آپریشنل اخراجات کا تخمینہ 580 ارب 20 کروڑ روپے لگایا گیا ہے۔
ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی بڑے فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ سرمایہ کاری اور دیگر ترقیاتی پروگراموں کے لیے 221 ارب 90 کروڑ روپے جبکہ ترقیاتی و سرمایہ جاتی منصوبوں کے لیے 570 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
محصولات کی آمدن 1330 ارب روپے تک پہنچنے کا امکان ہے جبکہ مجموعی اخراجات 3569 ارب 60 کروڑ روپے رہنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق پنجاب حکومت وفاق کو 570 ارب روپے کی مالیاتی رعایت دینے پر بھی آمادہ ہو گئی ہے، جس سے وفاقی مالیاتی خسارے میں کمی میں مدد ملے گی۔
حکومت کا قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو کل شام 5 بجے بجٹ اجلاس کی تیاریوں کا حکم، ذرائع
حکومت نے قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کو کل شام 5 بجے بجٹ اجلاس کی تیاریوں کا حکم دیدیا۔
حکام قومی اسمبلی کاکہنا ہےکہ ہمیں حکومت نےکل شام 5 بجے بجٹ اجلاس کا پیغام دیا ہے،ایوان صدر کےباضابطہ نوٹیفکیشن کا انتظار ہے،اس سے پہلےبجٹ اجلاس 12 جون کو بلانے کی تجویز تھی۔
اس سےقبل وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے اپنےبیان میں کہاامکان ہےبجٹ 12 جون کو پیش کیاجائےگا،قومی اسمبلی اور سینیٹ کا اجلاس بلانےکیلئے سمری بھیج دی،قومی اسمبلی کا اجلاس 10 جون کو شام پانچ بجے بلانے کی تجویز ہے،سینیٹ کا اجلاس 10 جون کو 4 بجے بلانے کی سمری بھیجی گئی۔
حکومت اور اتحادی پیپلز پارٹی نے بیشتر بجٹ تجاویز پر اتفاق کر لیا
بجٹ تجاویز پر پاکستان پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کرنے کیلئے ایوانِ صدر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہبازشریف کے درمیان اہم ملاقات ہوئی ۔
ذرائع کے مطابق ملاقات میں حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت کے درمیان بجٹ سمیت دیگر اہم سیاسی و معاشی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار ، وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور وزارتِ خزانہ کے اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔
پیپلز پارٹی کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری ، وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ ، نوید قمر اور شیریں رحمان نے شرکت کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت اور پیپلز پارٹی کا ایک دوسرے کی بیشتر بجٹ تجاویز پر اتفاق ہو گیا ہے، جبکہ بعض قابلِ عمل نکات پر تکنیکی کمیٹیاں مشاورت کا عمل جاری رکھیں گی۔
ذرائع کے مطابق وسائل اور درپیش مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں فریق ایک دوسرے کیلئے گنجائش پیدا کریں گے، جبکہ پیپلز پارٹی نے بجٹ کی منظوری میں تعاون کیلئے گرین سگنل بھی دے دیا ہے۔
ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں کامیابی پر صدر آصف علی زرداری کو مبارکباد بھی دی۔
ذرائع کے مطابق ملاقات سے قبل بلاول بھٹو زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان الگ ملاقات بھی ہوئی، جس میں بلاول بھٹو زرداری نے آزاد کشمیر سے متعلق سیاسی صورتحال وزیراعظم کے سامنے رکھی۔
اس موقع پر بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ تمام معاملات بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے حل کیے جانے چاہئیں۔
نئے مالی سال کے ترقیاتی بجٹ میں انفراسٹرکچر کو ترجیح، دفاع کیلئے 2665 ارب روپے رکھنے کی تجویز
نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں دفاعی اور ترقیاتی اخراجات کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کرنے کی تجویز سامنے آگئی ہے۔ ذرائع کے مطابق دفاعی شعبے کیلئے 2665 ارب روپے جبکہ پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) کیلئے 1126 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق مالی سال 2026-27 میں وفاقی ترقیاتی منصوبوں پر مجموعی طور پر 1126 ارب روپے خرچ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ مجوزہ پی ایس ڈی پی میں سب سے زیادہ 730 ارب روپے انفراسٹرکچر منصوبوں کیلئے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
سماجی شعبے کے ترقیاتی بجٹ میں 40 ارب روپے اضافے کے بعد مجموعی طور پر 187 ارب 20 کروڑ روپے خرچ کیے جائیں گے، جبکہ آبی وسائل کے منصوبوں کیلئے 179 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

فزیکل پلاننگ اور ہاؤسنگ کے شعبے کیلئے 45 ارب روپے رکھنے کی تجویز ہے، جبکہ تعلیم کے شعبے پر مجموعی طور پر 77 ارب روپے سے زائد خرچ کیے جائیں گے۔ مجوزہ اعداد و شمار کے مطابق وفاقی وزارتِ تعلیم کیلئے 36 ارب روپے اور ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 41 ارب روپے مختص کیے جانے کی تجویز ہے۔
صحت کے شعبے کیلئے 22 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے تاکہ جاری اور نئے منصوبوں پر کام جاری رکھا جا سکے۔
دوسری جانب مجوزہ بجٹ میں اضافی ٹیکسوں کے باعث ہائبرڈ اور برقی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں، بسوں، ٹرکوں اور سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق برقی پک اپ، ٹریکٹرز اور ڈبل کیبن گاڑیاں بھی نئے ٹیکسوں کی زد میں آسکتی ہیں، جس سے ان کی لاگت میں مزید اضافہ متوقع ہے۔
اسی طرح فارمولا دودھ، کیچ اپ، گھی، کوکنگ آئل اور چائے پتی سمیت مختلف اشیائے صرف پر عمومی فروختی ٹیکس کی وصولی کو یقینی بنانے کیلئے ان مصنوعات پر پرچون قیمت کی طباعت لازمی قرار دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔
بجٹ معاملات پر ڈیڈ لاک، پیپلزپارٹی کا حکومت سے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ
حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان بجٹ پراختلافات ختم کرنے کی کوششیں جاری ہیں تاہم وفاقی بجٹ سےقبل حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان اہم مالیاتی معاملات پر ڈیڈ لاک برقرار ہے۔
تفصیلات کے مطابق پیپلز پارٹی اور حکومت کے درمیان سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور کم از کم اجرت کے معاملے پر اختلافات برقرار ہے، بنیادی پے اسکیل میں اضافے پر حکومت اور پیپلزپارٹی آمنے سامنے ہیں، پیپلزپارٹی نے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 50 فیصد اضافے کا مطالبہ کر دیا ہے۔
حکومت نے 15 فیصد سے زائد اضافے کی صورت میں مشکلات میں اضافے کی وجہ بیان کی تاہم بجٹ منظوری سے قبل حکومت کو اتحادیوں کو اعتماد میں لینا چیلنج ثابت ہو رہاہے لیکن تنخواہوں، ایڈہاک ریلیف اور کم از کم اجرت پر مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔
پیپلزپارٹی نے سرکاری ملازمین اور مزدور طبقے کیلئے بڑے ریلیف پیکج کا مطالبہ کیا جبکہ حکومت نے مالی نظم و ضبط اور آئی ایم ایف کی شرائط کو مد نظر رکھنے پر زور دیا ، پیپلزپارٹی کی جانب سے مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ ناگزیر قرار دیا گیا۔
پیپلز پارٹی نے مطالبہ کیا کہ سرکاری ملازمین کو حقیقی ریلیف دینے کیلئے50 فیصد اضافہ کیا جائے، ایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہ میں ضم کرنےکا معاملہ بھی اختلافی نکات میں شامل ہے، چار سال سے مختلف ایڈہاک ریلیف بنیادی تنخواہ کا حصہ نہیں بن سکا ہے۔
پیپلزپارٹی نے تمام سابقہ ایڈہاک ریلیف بنیادی پے اسکیل میں ضم کرنےکا مطالبہ بھی کیا ، حکومت کا موقف ہے کہ مالی گنجائش محدود ہے، تمام ایڈہاک ریلیف ضم کرنا ممکن نہیں ہے۔
وفاقی حکومت ملازمین کے لیے صرف ایک نیا ایڈہاک ریلیف دینے پر غور کر ہی ہے، کم ازکم اجرت بڑھانے کے معاملے پر بھی حکومت اور پیپلزپارٹی میں اختلاف ہے، پیپلزپارٹی نے کم از کم ماہانہ اجرت 60 ہزار روپے مقرر کرنے کا مطالبہ کر دیا ہے، وفاقی حکومت کی کم از کم اجرت میں محدود اضافہ کرنے کی تجویز ہے، حکومت زیادہ سے زیادہ 45 ہزار روپے تک اجرت کرنے پر آمادہ ہے ۔
وفاقی بجٹ کی تاریخ میں دوسری مرتبہ تبدیلی کا امکان، 12 جون کی تجویز زیر غور
وفاقی بجٹ کی تاریخ میں دوسری مرتبہ ردوبدل کا امکان سامنے آ گیا ہے، حکومتی ذرائع کے مطابق بجٹ 12 جون کو پیش کیے جانے کی تجویز زیر غور ہے، تاہم تاحال وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کرنے کا شیڈول برقرار ہے۔
ذرائع کے مطابق اس سے قبل وفاقی بجٹ پیش کرنے کی تاریخ 5 جون مقرر تھی جسے تبدیل کرکے 10 جون کر دیا گیا تھا، جبکہ اب 12 جون کی نئی تجویز پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کا معاملہ بھی کل تک مؤخر ہو گیا ہے، جبکہ رواں مالی سال کا اقتصادی جائزہ کل شام جاری کرنے کی تیاریاں مکمل کی جا رہی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم اور صدرِ مملکت کے درمیان ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں حکومت اور پیپلز پارٹی کے درمیان موجود تحفظات اور دیگر اہم سیاسی و معاشی امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
مزید تفصیلات کے مطابق بجٹ شیڈول، قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس اور اتحادی جماعتوں کے تحفظات سے متعلق حتمی فیصلے آئندہ چوبیس گھنٹوں میں متوقع ہیں۔
بجٹ میں خواتین کیلئے خوشخبری، بیوٹی مصنوعات پر ٹیکس میں نرمی متوقع
آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 میں درآمدی میک اپ اوربیوٹی مصنوعات پرعائدڈیوٹی میں کمی کی تجاویز زیر غور ہیں،
آئندہ وفاقی بجٹ میں سامان زیبائش پرعائد ڈیوٹی کو 44 فیصدسےکم کر کے 40 فیصد تک لایا جاسکتا ہے، بیوٹی پارلرز اورفٹنس سینٹرزمیں استعمال ہونے والی درآمدی مشینری پرٹیکس میں بھی کمی متوقع ہے۔
ممکنہ ریلیف کی خبروں کےبعد خواتین کا کہنا ہےکہ کاسمیٹکس ان کی روزمرہ ضروریات کا حصہ ہیں، اس لیےصرف ٹیکس میں کمی نہیں بلکہ اسےمکمل طورپرختم کیا جانا چاہیے،خواتین کےمطابق مہنگائی کےدورمیں معیاری درآمدی میک اپ اوربیوٹی مصنوعات کی قیمتیں عام صارف کی پہنچ سےدور ہوچکی ہیں
ماہرین کاکہنا ہےکہ اگربیوٹی مصنوعات اورمتعلقہ مشینری پر ٹیکسوں میں کمی کی جاتی ہے تو اس سےنہ صرف صارفین کو ریلیف ملےگابلکہ بیوٹی انڈسٹری کی ترقی اورکاروباری سرگرمیوں میں بھی اضافہ ہوگا۔
پاکستان میں بچت کی شرح 30 سال کی کم ترین سطح پر پہنچنے کا انکشاف
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) کی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک میں بچت کی شرح گزشتہ 30 سال کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
رپورٹ کےمطابق پاکستانی عوام ہر 100 روپے آمدن میں صرف 6 روپے بچا رہے ہیں، جبکہ مہنگائی اور کم منافع کے باعث عوام کا رجحان بینکوں کے بجائے سونا،جائیداد اور نقدی کی طرف بڑھ رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں کہاگیا ہےکہ کم بچت کی شرح ملک میں سرمایہ کاری کے بحران کو جنم دے سکتی ہے اور معیشت کو بار بار بیرونی قرضوں اور آئی ایم ایف پروگراموں کی طرف دھکیل رہی ہے۔
اعداد و شمار کےمطابق پاکستان کی بچت کی شرح 6.4 فیصد ہے،جبکہ بنگلہ دیش میں یہ 21 فیصد، بھارت میں 28 فیصد اور ویتنام میں تقریباً 30 فیصد کے قریب ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی ہےکہ حکومت کی زیادہ قرض گیری نجی شعبےکی سرمایہ کاری میں رکاوٹ بن رہی ہے،کم بچت سےپاکستان کو بارباربیرونی قرضوں،آئی ایم ایف پروگرام کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
مہنگائی اورکم منافع کے باعث عوام بینکوں کا کم رخ کرتےہیں،لوگ سونا، جائیداد اور نقد رقم کو ترجیح دےرہےہیں،ملک میں سرمایہ کاری کےبحران کا خدشہ ہے
پائیڈ نےبجٹ 27-2026 میں قومی بچت مہم شروع کرنےکا مطالبہ کیا،کہاکہ تجویزدی کہ طویل مدتی بچت اسکیموں پردوبارہ ٹیکس مراعات دی جائیں،خواتین،پینشنرز اورغیر رسمی شعبے کے کارکنوں کیلئے خصوصی بچت مراعات کی بھی تجویز دی،چھوٹےبچت کنندگان کےتحفظ اورقومی بچت مصنوعات کی ڈیجیٹل رسائی بڑھانےکی سفارش کی گئی۔
رپورٹ میں کہاگیاکہ دوسروں کے پیسوں سےمستقبل چلانےکا ماڈل مزید نہیں چل سکتا،بچت کو محفوظ، منافع بخش اورآسان بنایا جائےتو پاکستانی زیادہ بچت کریں گے،پائیڈ نےسالانہ "سیونگز موبلائزیشن ڈیش بورڈ" بنانے کی بھی تجویز دے دی۔
پنجاب میں صحت کی 24 نئی اسکیموں کیلئے81 ارب سے زائد بجٹ مختص کرنے کی تجویز
پنجاب میں صحت کی 24 نئی اسکیموں کیلئے 81 ارب سے زائد بجٹ مختص کرنے کی تجویز دیدی گئی ۔
تفصیلات کے مطابق: 2026-27 مالی سال میں ہیلتھ اسکیموں کیلئے 26 ارب 45 کروڑ مختص کرنے کی تجویز دیدی گئی ہے، باقی ماندہ فنڈز آئندہ برسوں کے دوران جاری کیے جائیں گے، گوجرانوالہ میں مریم نواز انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی قائم ہو گا جس کیلئے 14 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے ۔
میانوالی میں مریم نوازمیڈیکل کالج اورٹیچنگ اسپتال قائم کرنے کی بھی دیدی گئی ہے ، بہاولپور چلڈرن اسپتال کے قیام پر مجموعی طورپر23 ارب 37 کروڑ مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔
ڈیرہ غازی خان میں کلثوم نواز کینسر اسپتال قائم کرنے ، میواسپتال کے اے وی ایچ بلاک کی تعمیرِ نو پر 3 ارب 50 کروڑ مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔
لاہورمیو اسپتال او پی ڈی کی بحالی کیلئے3ارب روپے مختص کرنے ، بہاولپور کے بہاول وکٹوریہ اسپتال کے آنکولوجی یونٹ کیلئے کل 2 ارب 48 کروڑ روپے ، سرگودھا کے اسپتال میں ایمرجنسی تھیٹرز کمپلیکس کے منصوبے کی تجویز دی گئی ہے ۔
راولپنڈی کے اسپتالوں میں فلٹر کلینکس قائم کرنے کی سفارش کی گئی ہے، راولپنڈی ہولی فیملی اور بینظیر بھٹو اسپتال کے ویٹنگ ایریاز کی لاگت 17 کروڑ روپے ہوگی ۔
لاہور چلڈرن اسپتال فارمیسی اسٹور کی تعمیر کے لیے 95 کروڑ 27 لاکھ ، چلڈرن اسپتال پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹ اپ گریڈیشن پر 1 ارب 27 کروڑ روپے ، ملتان چلڈرن اسپتال صحت سہولیات توسیعی منصوبے کے لئے 30 کروڑ 42 روپے، گجرات عزیز بھٹی شہید ہسپتال نیورو آرتھو بلاک بحالی کے لیے 34 کروڑ روپے، ڈی مونٹمورینسی ڈینٹسٹری کالج لاہور کے نئے بلاک کے لیے 30 کروڑ روپے، سروسز ہسپتال لاہور ایمرجنسی و گائنی بلاک لفٹوں کے لیے 7 کروڑ مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے ۔
پنجاب کے ہسپتالوں کے لیے 4 نیورو کیتھ لیبز کی خاطر 1 ارب 75 کروڑ روپے، فیصل آباد کارڈیالوجی ایمرجنسی بلاک نئے آلات کے لیے 1 ارب 65 کروڑ روپے، ٹیرشری کیئر ہسپتالوں کے دیگر ضروری آلات کے لیے 2 ارب روپے ، لاہور اور گجرات ہسپتالوں کی 2 ایم آر آئی مشینوں کے لیے 1 ارب 6 کروڑ روپے، جناح انسٹی ٹیوٹ کارڈیالوجی ہیلتھ مینجمنٹ سسٹم کے لیے 10 کروڑ روپے، راولپنڈی کارڈیالوجی انسٹی ٹیوٹ او پی ڈی سسٹم کے لیے 10 کروڑ روپے، پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز کی جدید مشینوں کے لیے 32 کروڑ 80 لاکھ روپے، ادھورے منصوبوں اور ٹیکس واجبات کی کلیئرنس کے لیے 50 کروڑ مختص کرنے کی سفارش کر دی گئی ۔
بجٹ پر حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان متوقع مذاکرات ملتوی،ذرائع
بجٹ پر حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان مذاکرات کا اگلا دور نہ ہو سکا، اب حکومت اور پیپلز پارٹی میں باضابطہ بیٹھک اتوار کو ہونے کا امکان ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت کو پیپلزپارٹی کے مشاورتی اجلاس کے فیصلوں کا انتظار ہے، پیپلز پارٹی اپنے مشاورتی اجلاس میں معاملات طے کرے گی۔
مشاورتی اجلاس کے فیصلوں سے حکومتی ٹیم کو آگاہ کیا جائے گا۔ حکومت اور پیپلزپارٹی میں باضابطہ بیٹھک اتوار کو ہونے کا امکان ہے، حکومتی ذارئع کا کہنا ہے کہ جب بھی پیپلزپارٹی ملنا چاہے گی بجٹ پر بریفنگ دینے کو تیار ہیں۔
بجٹ پر حکومت اور پیپلز پارٹی میں مشاورت، اہم ملاقات آج رات متوقع
آئندہ وفاقی بجٹ کے حوالے سے حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان مشاورت کا عمل تیز ہو گیا ہے، ذرائع کے مطابق پیپلز پارٹی کے وفد کی آج رات حکومتی وفد سے اہم ملاقات متوقع ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں وفاقی بجٹ اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا جائے گا اور اہم تجاویز کو حتمی شکل دی جائے گی۔
پیپلز پارٹی کے وفد میں بلاول بھٹو زرداری ، مراد علی شاہ ، نوید قمر اور شیریں رحمان شامل ہوں گے۔
ذرائع کے مطابق حکومتی ٹیم کی سربراہی اسحاق ڈار کریں گے۔
دوسری جانب وزیراعظم ہاؤس نے تاحال ملاقات کے شیڈول سے متعلق کسی قسم کی تصدیق یا تردید نہیں کی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اتحادی جماعت کے رہنماؤں کو توقع ہے کہ یہ ملاقات نتیجہ خیز ثابت ہوگی ۔
قومی اقتصادی کونسل کا اہم اجلاس 8جون کو طلب
قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس 8جون کو طلب کر لیا گیا ، اجلاس میں آئندہ مالی سال کے بجٹ کی معاشی ترجیحات کا تعین کیا جائے گا۔ کونسل کے سامنے مجموعی طور پر 4 ہزار 715 ارب روپے کا قومی ترقیاتی بجٹ پیش کیے جانے کا امکان ہے۔
وزیرِاعظم شہباز شریف کی زیرِ صدارت این ای سی اجلاس وفاقی وزرا، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، وزیرِاعظم آزاد کشمیر اور پنجاب کی سینئر وزیر مریم اورنگزیب شریک ہوں گی۔ مالی سال دوہزار چھبیس ستائیس کے سالانہ ترقیاتی پروگرام پر غور کے ساتھ معاشی اشاریوں اورترقیاتی اہداف کی منظوری متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں آئندہ مالی سال کے سالانہ ترقیاتی پروگرام، زرعی، صنعتی و سماجی شعبوں کے ترقیاتی منصوبوں پر بریفنگ دی جائے گی۔ وزیرِ اعظم کی ہدایت پر پی ایس ڈی پی میں اضافے کے بعد اسے 1126 ارب کے بجائے 1326 ارب روپے کیے جانے کا امکان ہے، جس پر آئی ایم ایف کو بھی اعتماد میں لیا جائے گا۔
مختلف مالیاتی اقدامات کے ذریعے دو سو ارب روپے کی ایڈجسٹمنٹ کی کوشش کی جائے گی۔ اجلاس میں صوبوں کے لیے مجموعی طور پر 3148 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ پیش ہوگا۔ پنجاب کے لیے 1450 ارب، سندھ کے لیے 8 سو 16 ارب، خیبر پختونخوا کے لیے 564 ارب اور بلوچستان کے لیے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا گیا ہے۔
بجٹ، بلاول بھٹو کا وزیراعظم سے پہلے صدر مملکت سے مشاورت کا فیصلہ
بجٹ مذاکرات کے حوالے سے ن لیگ اور اتحادی پیپلزپارٹی کے درمیان رابطوں میں تیزی آگئی، چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے صدر آصف زرداری سے مشاورت کا فیصلہ کر لیا۔
ذرائع کے مطابق بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعظم سے ملاقات سے قبل صدر مملکت سے مشاورت کا فیصلہ کیا ہے۔ وہ گلگت بلتستان میں انتخابی مہم ختم کرنے کے بعد کل اسلام آباد پہنچیں گے، تاہم اسی روز ان کی کراچی روانگی بھی متوقع ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری کی اس وقت تک کسی حکومتی شخصیت یا وزیراعظم سے ملاقات شیڈول نہیں ہوئی۔مزید بتایا گیا ہے کہ وہ کراچی میں قیام کے دوران صدر مملکت سے مشاورت کریں گے، جبکہ بجٹ سیشن سے قبل بلاول بھٹو دوبارہ اسلام آباد واپس آئیں گے۔ذرائع کے مطابق بجٹ سیشن سے پہلے وزیراعظم سمیت دیگر حکومتی شخصیات سے ملاقاتوں کا امکان بھی موجود ہے۔
بجٹ سے قبل ای سی سی کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا گیا
بجٹ سے قبل اقصادی رابطہ کمیٹی کا اہم اجلاس کل طلب کر لیا گیاہے جس میں اربوں روپے کے اضافی فنڈز اور ترقیاتی منصوبوں کی منظوری متوقع ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس میں پائیدار ترقیاتی اہداف پروگرام کیلئے 7 ارب روپے سے زائد گرانٹ پر غور ہو گا، پاکستان لینڈ پورٹس اتھارٹی کیلئے 52 کروڑ 80 لاکھ روپے گرانٹ کی تجویز دی گئی ہے ۔نیکٹا کیلئے 15 کروڑ روپے اضافی فنڈز کی منظوری پر بھی غور کیا جائے گا ۔
ریکوڈک منصوبے کی سیکیورٹی ادائیگی کیلئے 41 کروڑ روپے سے زائد گرانٹ ، کراچی اور حیدرآباد پیکج کے ترقیاتی فنڈز کی منتقلی کی تجویز پر بھی غور کیا جائے گا ۔
خیبر پختونخواکے خصوصی پروگرام فنڈز کی منتقلی ایجنڈے کا حصہ ہے۔ پاکستان منٹ کی اپ گریڈیشن کیلئےایک ارب 30 کروڑ روپے گرانٹ کی تجویز پر بھی غور کیا جائے گا۔
اسلام آباد امن مذاکرات کی سیکیورٹی کیلئے69 کروڑ روپے مانگ لئے گئے ہیں، پی ایس او کیلئے سنڈیکیٹڈ فنانسنگ سہولت پر غور کیا جائے گا۔
آئل ریفائنری اپ گریڈیشن منصوبے سے متعلق معاہدہ ایجنڈے میں شامل ہے، مختلف وزارتوں کیلئےضمنی گرانٹس اور اضافی فنڈز کی منظوری بھی متوقع ہے۔
نئے بجٹ 2026-27 کے شیڈول کا اعلان ، اجلاس 10 جون کو ہوگا
حکومت نے مالی سال 2026-27 کے وفاقی بجٹ کا شیڈول جاری کر دیا ہے، جس کے مطابق وفاقی بجٹ 10 جون کو قومی اسمبلی میں پیش کیا جائے گا۔
بجٹ میں نئے مالی سال کی مالی ترجیحات، اقتصادی پالیسیوں اور حکومتی حکمت عملی کا اعلان کیا جائے گا۔شیڈول کے مطابق پاکستان اکنامک سروے 9 جون کو جاری کیا جائے گا، جس میں رواں مالی سال کے دوران قومی معیشت کی مجموعی کارکردگی، مختلف شعبوں کی ترقی، اقتصادی اشاریوں اور حکومتی پالیسیوں کے نتائج کا تفصیلی جائزہ پیش کیا جائے گا۔
وفاقی بجٹ میں حکومت اپنی آمدن، اخراجات، ترقیاتی منصوبوں اور مالی انتظام سے متعلق تفصیلات پارلیمنٹ کے سامنے رکھے گی۔ بجٹ دستاویزات میں آئندہ مالی سال کیلئے وسائل کے استعمال، ترقیاتی ترجیحات اور معاشی اہداف کا تعین بھی کیا جائے گا۔
حکام کے مطابق بجٹ میں ٹیکسوں، سبسڈیز اور عوامی ریلیف سے متعلق مختلف اقدامات متوقع ہیں ۔
حکومت مالی نظم و ضبط کو یقینی بنانے اور ترقیاتی منصوبوں کو آگے بڑھانے کیلئے اپنی ترجیحات اور روڈ میپ بھی پیش کرے گی۔
بجٹ میں 20 پسماندہ ترین اضلاع کیساتھ مذاق، 40 ارب کے منصوبوں کیلئے صرف ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
آئندہ مالی سال 27-2026 کے بجٹ میں ملک کے 20 پسماندہ ترین اضلاع کیلئے 40 ارب روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے صرف ایک ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
سماء کو حاصل ہونے والی بجٹ دستاویزات کے مطابق پسماندہ اضلاع کی ترقی کے منصوبوں کو نظرانداز کرتے ہوئے ارکانِ پارلیمنٹ اور حکومتی اتحادیوں کیلئے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق پارلیمنٹیرینز کیلئے 70 ارب روپے جبکہ اتحادی ارکان کیلئے 87 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
دستاویزات میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ملک کے غریب ترین اضلاع کی ترقی کا منصوبہ 2022 سے مسلسل نظرانداز کیا جا رہا ہے۔
پسماندہ ترین اضلاع میں خضدار، واشک، کوہلو، موسیٰ خیل، ژوب، ڈیرہ بگٹی، قلعہ سیف اللہ، قلات، شیرانی، چاغی، تھرپارکر، بدین، عمرکوٹ، ٹنڈو محمد خان، کوہستان، شمالی وزیرستان، بٹگرام، شانگلہ، ڈیرہ غازی خان اور راجن پور شامل ہیں۔
دستاویزات کے مطابق نئے مالی سال کے بجٹ میں پلاننگ ڈویژن کیلئے 27 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ فنڈز 10 جاری ترقیاتی منصوبوں اور 10 خصوصی اقدامات پر خرچ کیے جائیں گے۔
2022 کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کی بحالی کیلئے سب سے زیادہ 21 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق 45 ارب 78 کروڑ روپے لاگت کے منصوبے پر رواں سال جون تک 23 ارب روپے خرچ کیے جا چکے ہوں گے۔
نیشنل سینٹر فار برانڈ ڈیولپمنٹ کے ایک ارب 85 کروڑ روپے مالیت کے منصوبے کیلئے 40 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزیراعظم انوویشن سپورٹ اینڈ اسٹارٹ اپ گرانٹس پروگرام کیلئے بھی 40 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے، جبکہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 9 ارب 64 کروڑ روپے ہے اور اب تک 63 کروڑ روپے خرچ کیے جا چکے ہیں۔
اسی طرح 2 ارب 45 کروڑ روپے مالیت کے سی پیک سیکرٹریٹ منصوبے کیلئے 30 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سی پیک سینٹر آف ایکسیلنس اکیڈمی کیلئے آئندہ بجٹ میں 10 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش سامنے آئی ہے۔
علی امین گنڈاپور اپنے ساتھ 30لوگ ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں تو نام بتا دیں: شفیع جان
خیبرپختونخوا کے وزیراطلاعات شفیع جان نے کہا کہ کوئی کشیدگی نہیں،سہیل آفریدی کمفرٹ زون میں ہیں،3سے 4 ارکان ہم سے رابطے میں نہیں،علی امین اپنے ساتھ 30لوگ ہونے کا دعویٰ کر رہے ہیں تو نام بتا دیں۔
سماء ٹی وی کے پروگرام ’ ندیم ملک لائیو‘ میں گفتگو کرتے ہوئے شفیع جان کا کہناتھا کہ اپنی پارٹی کے ایم پی ایز سے دوبارہ بات کرنے کی کوشش کریں گے،کوئی اپنی سیاست ختم کرنا چاہتا ہے تو ڈی ٹریک ہو جائے، سہیل آفریدی نے کسی سے کوئی کمٹمنٹ نہیں کی، کے پی کابینہ میں کوئی غیرمنتخب نمائندہ نہیں، پارلیمانی پارٹی اجلاس میں 75 افراد موجودتھے،17نہیں تھے۔
انہوں نے کہا کہ 17میں سے 5 ارکان بیرون ملک،3حج پر ہیں اور2جنوبی افریقامیں ہیں،پہلی بار اتنے خوشگوار انداز میں پارلیمانی پارٹی اجلاس دیکھا،سہیل آفریدی کوکسی کا باپ نہیں ہٹا سکتا، کہا جاتا ہے 28 ارکان کے حلف نامے پڑےہیں،ایک تو سامنے لے آئیں، سینیٹ الیکشن،علی امین کا الیکشن اور سہیل آفریدی کا الیکشن ہوا کوئی ایم پی اےنہیں ہلا، جوبھی ایم پی اے بانی پی ٹی آئی کے ٹریک سے ہلےگا اپنی سیاست ختم کرے گا۔
شفیع جان نے کہا کہ بڑے نام بانی پی ٹی آئی سے الگ ہوئے،سیاست کے منظر نامے سے غائب ہو گئے، جو لوگ بانی کے ساتھ کھڑے ہوئے،آج بھی سیاست کے منظر نامے میں موجود ہیں، شیر افضل مروت پی ٹی آئی میں نہ ہوتے تو ایم این اے نہ ہوتے، شیر افضل مروت اب بھی بانی پی ٹی آئی کو اپنا لیڈر مانتےہیں، کل بھی ہمارے 70 فیصد لوگ موجود تھے، 10جون کو ہمارے 70 فیصد سے زیادہ لوگ ہوں گے،علی امین کو بھی آناچاہیے۔
ان کا کہناتھا کہ علی امین جب سے وزیراعلیٰ کے منصب سے ہٹے پارلیمانی اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے،علی امین صرف ایک دھرنے میں آئےتھے،باقی کسی ایکٹویٹی میں حصہ نہیں لیا،ہمیں بانی پی ٹی آئی کی رہائی کیلئے ووٹ ملاہے،گورننس کیساتھ بانی پی ٹی آئی کی رہائی بھی ترجیح ہے،ہم نے سب کچھ کر لیا،اڈیالہ کے سامنے دھرنا دیا،اسلام آبادلانگ مارچ کیا، ہم ڈی چوک آئے،سنگجانی میں جلسہ کیا،وزیراعظم سے بات کی،چیف جسٹس سے بھی رابطے کئے،ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے بھی دھرنا دیا گیا،کہیں سنوائی نہیں ہوئی۔
شفیع جان نے کہا کہ حکومت جب مشکل میں ہوتی ہے جیل کے دروازے کھولتی ہے،ہیلی کاپٹر بھیجتی ہے،حکومت مشکل سے نکل جاتی ہے توآنکھیں پھیر لیتی ہے، شاہد خٹک سے میری بات ہوئی،ان کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، بانی پی ٹی آئی جیل سے باہرآئیں گے تو ہائبرڈ نظام گر جائے گا، ہم نے پٹیشن جمع کرائی ہے،ہم بجٹ کیلئےبانی پی ٹی آئی سے ملنا چاہتےہیں،بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہیں ملتی تو پارٹی میں معاملہ رکھا جائے گا۔
بجٹ 2026-27: ہاؤسنگ بحران کے باوجود وزارت ہاؤسنگ کے ترقیاتی فنڈز میں 8 ارب روپے سے زائد کمی کی تجویز
ملک میں ایک کروڑ سے زائد گھروں کی کمی اور سالانہ 10 لاکھ نئے ہاؤسنگ یونٹس کی ضرورت کے باوجود آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس پاکستان کے ترقیاتی فنڈز میں نمایاں کمی کی تجویز سامنے آئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 کی دستاویزات کے مطابق وزارت ہاؤسنگ اینڈ ورکس کے جاری ترقیاتی منصوبوں کیلئے صرف 4 ارب 82 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ رواں مالی سال میں یہی رقم 13 ارب 44 کروڑ روپے تھی۔ اس طرح ترقیاتی فنڈز میں 8 ارب 62 کروڑ روپے سے زائد کمی تجویز کی گئی ہے۔
ملک بھر میں ہاؤسنگ یونٹس کی کمی ایک کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ سالانہ کم از کم 10 لاکھ نئے گھروں کی ضرورت بتائی جاتی ہے، تاہم محدود فنڈنگ کے باعث بحران میں کمی کے امکانات مزید محدود ہو گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق وزارت ہاؤسنگ کے جاری منصوبوں کی مجموعی لاگت 40 ارب روپے سے زائد ہے، جبکہ کم فنڈز کے باعث کئی منصوبوں کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب ترقیاتی ترجیحات کا بڑا حصہ کراچی کے شہری انفراسٹرکچر کی طرف جاتا دکھائی دیتا ہے۔ کراچی کے گرین لائن بی آر ٹی منصوبے کیلئے تقریباً 1 ارب 98 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے، جو تمام منصوبوں میں سب سے بڑی ایلوکیشن ہے۔
اسی طرح اورنگی ٹاؤن، ناظم آباد اور لیاقت آباد میں سڑکوں، واٹر سپلائی، سیوریج اور پارکس کی بہتری کیلئے 1 ارب 10 کروڑ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
حیدرآباد اور میرپورخاص ڈویژن میں انفراسٹرکچر اور پانی کی فراہمی کے منصوبوں کیلئے بھی کروڑوں روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے تاکہ شہری سہولیات میں بہتری لائی جا سکے۔
مزید برآں مانسہرہ میں سائرن ندی پر دو بڑے پلوں کی تعمیر کیلئے 68 کروڑ روپے سے زائد رکھنے کی تجویز بھی ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہے۔
بجٹ سے قبل حکومت اور پیپلزپارٹی میں اختلافات برقرار
نئے وفاقی بجٹ سے قبل حکومت اور پاکستان پیپلز پارٹی کے درمیان بجٹ امور پر اختلافات تاحال برقرار ہیں۔
دونوں جماعتوں کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی اندرونی تفصیلات سامنے آگئی ہیں۔ذرائع کے مطابق حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان دوسرے روز ہونے والے مذاکرات میں بجٹ سے متعلق صوبائی امور پر اختلافات ختم نہ ہو سکے۔
مذاکرات سے باخبر ذرائع کا کہنا ہے کہ دونوں جماعتوں کے درمیان بجٹ میں صوبوں کے رضاکارانہ شیئر کے معاملے پر اختلافات موجود ہیں، جبکہ سبسڈی سے متعلق امور پر بھی اتفاق رائے نہیں ہو سکا۔
ذرائع کے مطابق مذاکرات کا اگلا دور بلاول بھٹو زرداری کی گلگت بلتستان سے واپسی کے بعد متوقع ہے۔
اطلاعات کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بھی بلاول بھٹو زرداری کی گلگت بلتستان سے واپسی پر بلائے جانے کا امکان ہے، جہاں بجٹ سے متعلق اہم امور زیر غور آئیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی نے وفاقی بجٹ 10 جون کو پیش کرنے کی تجویز دی ہے، تاہم حکومت کی جانب سے تاحال بجٹ پیش کرنے کی حتمی تاریخ کا باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا۔
پاکستانی برآمدات کے مقابلے غیرملکی درآمدات میں نمایاں اضافہ
پاکستانی برآمدات کے مقابلے میں غیر ملکی درآمدات میں نمایاں اضافے کے باعث رواں مالی سال کے پہلے 11 ماہ کے دوران تجارتی خسارہ 17.48 فیصد بڑھ کر 34 ارب 75 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق جولائی تا مئی ملکی برآمدات 5.61 فیصد کمی کے بعد 27 ارب 90 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئیں۔اس عرصے کے دوران درآمدات میں 6 فیصد اضافہ ہوا اور ان کا حجم 62 ارب 66 کروڑ ڈالر سے تجاوز کر گیا۔
اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ مالی سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تجارتی خسارے میں 5 ارب 17 کروڑ ڈالر کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ماہانہ بنیادوں پر مئی 2026 میں برآمدات میں نمایاں بہتری دیکھی گئی۔ اپریل 2026 کے مقابلے میں برآمدات 9.59 فیصد بڑھ کر 2 ارب 70 کروڑ 50 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئیں، جبکہ اپریل میں برآمدات کا حجم 2 ارب 46 کروڑ ڈالر تھا۔
دوسری جانب مئی 2026 میں درآمدات میں 21.45 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی اور ان کا حجم 5 ارب 28 کروڑ ڈالر رہا۔
سالانہ بنیادوں پر مئی 2025 کے مقابلے میں مئی 2026 کے دوران برآمدات میں 1.26 فیصد اضافہ ہوا۔ گزشتہ سال مئی میں برآمدات کا حجم 2 ارب 67 کروڑ ڈالر تھا۔
رپورٹ کے مطابق اگرچہ مجموعی تجارتی خسارے میں اضافہ ہوا، تاہم مئی 2025 کے مقابلے میں مئی 2026 کے دوران ماہانہ تجارتی خسارے میں 14 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔
بجٹ 2026-27: ماحولیاتی تبدیلی سے نمٹنے کیلئے 2 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز
پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں، تاہم آئندہ مالی سال 2026-27 کے مجوزہ وفاقی بجٹ میں اس اہم چیلنج سے نمٹنے کیلئے صرف 2 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق کلائمیٹ چینج ڈویژن نے نئے مالی سال میں کوئی نیا ترقیاتی منصوبہ پیش نہیں کیا، جبکہ مجوزہ فنڈز پہلے سے جاری تین منصوبوں پر خرچ کیے جائیں گے۔
دستاویزات کے مطابق 123 ارب 51 کروڑ روپے لاگت کے ان تین جاری منصوبوں پر 30 جون 2026 تک صرف 35 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ ہے، جبکہ آئندہ مالی سال کیلئے بھی انہی منصوبوں پر 2 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
مجوزہ بجٹ کے تحت 2 ارب 49 کروڑ 70 لاکھ روپے گرین پاکستان پروگرام پر خرچ کیے جائیں گے، جبکہ تقریباً 29 کروڑ روپے وزارت کی تکنیکی استعداد کار بڑھانے کیلئے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
پائیدار ترقیاتی اہداف کے تحت گرین اسکلز منصوبے کیلئے صرف 16 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
ماحولیاتی تبدیلی کے باعث ملک کو مون سون میں غیر معمولی بارشوں، گلیشیئر جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات، شدید گرمی کی لہروں، جنگلات میں آگ لگنے اور جانی و مالی نقصانات جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ سال سیلاب کے باعث ایک ہزار سے زائد قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ حکومت نے صوبوں کے تعاون سے مون سون سے نمٹنے کیلئے 245 روزہ منصوبہ بھی تیار کیا تھا اور ارلی وارننگ سسٹم کی تنصیب کا اعلان کیا گیا تھا، تاہم متعدد اقدامات تاحال تاخیر کا شکار ہیں۔
بجٹ 2026-27: پاور ڈویژن کے 48 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 91 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں پاور ڈویژن کے ترقیاتی پروگرام کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں، جن کے مطابق 48 منصوبوں کیلئے مجموعی طور پر 91 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق پہلے سے جاری 45 ترقیاتی منصوبوں کیلئے 86 ارب روپے جبکہ 3 نئے منصوبوں کیلئے صرف 4 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
دستاویزات میں قومی گرڈ نظام کی توسیع اور بجلی کی ترسیل کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے متعدد منصوبوں کیلئے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
500 کے وی لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن منصوبے کیلئے 70 کروڑ روپے جبکہ این ٹی ڈی سی کے ٹرانسمیشن سسٹم کی اپ گریڈیشن کیلئے 3 ارب روپے مختص کرنے کا پلان تجویز کیا گیا ہے۔
داسو ہائیڈرو پاور منصوبے سے پیدا ہونے والی بجلی کے انخلا کیلئے 10 ارب 80 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سوکی کناری ہائیڈرو پاور منصوبے کی ٹرانسمیشن لائنوں کیلئے 3 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اسی طرح مہمند ڈیم سے بجلی کو قومی گرڈ میں شامل کرنے کیلئے ترسیلی نظام پر 3 ارب 90 کروڑ روپے خرچ کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق میپکو کے بجلی تقسیم کے نظام میں بہتری کیلئے 3 ارب روپے، جبکہ بجلی کے ترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن کیلئے 2 ارب 41 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اسلام آباد ویسٹ گرڈ اسٹیشن کی تعمیر کیلئے 9 ارب 32 کروڑ روپے سے زائد رقم رکھنے کی تجویز بھی بجٹ کا حصہ ہے۔
مزید برآں سندھ کے 10 اضلاع میں بجلی کی تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کیلئے 2 ارب 91 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ بجلی کے استعمال کی نگرانی اور بہتری کیلئے پاور کنزمپشن ڈیوائسز کی تنصیب پر 3 ارب روپے سے زائد خرچ کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں بجلی کی ترسیل، تقسیم اور قومی گرڈ کے استحکام سے متعلق منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔
نئے وفاقی بجٹ میں کلائمیٹ چینج سے نمٹنے کا کوئی ایک نیا منصوبہ شامل نہیں کیا گیا
پاکستان ماحولیاتی تبدیلی سےسب سےزیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہونے کے باوجود نئے وفاقی بجٹ میں کلائمیٹ چینج سےنمٹنے کے لیےکوئی نیا منصوبہ شامل نہیں کیاگیا،جبکہ تین جاری منصوبوں کیلئے بھی برائے نام فنڈزمختص کیےگئےہیں۔
آئندہ مالی سال کےلیےکلائمیٹ چینج ڈویژن کے ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات سامنےآگئی ہیں،جن کے تحت صرف 2 ارب 78 کروڑ 40 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں،جو پہلے سے جاری منصوبوں پر خرچ ہوں گے۔
دستاویز کےمطابق ماحولیاتی تبدیلی ڈویژن کےجاری منصوبوں کی مجموعی لاگت 123 ارب 51 کروڑ روپے ہے،جن میں سے 30 جون 2026 تک بمشکل 35 ارب روپے خرچ ہونے کی توقع ہے۔
گزشتہ سال اس شعبےکےلیے 2 ارب 30 کروڑروپےمختص کیےگئےتھے،تاہم رواں سال بھی فنڈنگ میں خاطرخواہ اضافہ نہیں کیاگیا،گرین پاکستان پروگرام کےلیے 2 ارب 49 کروڑ 70 لاکھ روپےمختص کرنے کی تجویزدی گئی ہے،جبکہ اس منصوبے کی مجموعی لاگت 122 ارب 14 کروڑ روپے ہے۔
دستاویز کےمطابق وزارتِ ماحولیاتی تبدیلی کی تکنیکی استعدادبڑھانے کے لیے 29 کروڑ روپےسےزائد رقم رکھی گئی ہے،جبکہ پائیدارترقی اہداف کےتحت گرین اسکلزمنصوبے کے لیے صرف 16 لاکھ روپے مختص کیے گئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق پاکستان کو ہر سال سیلاب،ہیٹ ویوز اور دیگر قدرتی آفات کا سامنا رہتا ہے، اس کے باوجود ماحولیاتی تحفظ کے لیے جامع منصوبہ بندی اور نئی سرمایہ کاری سامنے نہیں آ سکی۔
یاد رہےکہ گزشتہ سال سیلاب کے دوران 1000 سے زائد افراد جان کی بازی ہار گئے تھے،تاہم ماہرین کے مطابق ارلی وارننگ سسٹم اور مون سون پلان پر عملدرآمد تاخیر کا شکار ہے۔
بجٹ میں پاور ڈویژن کے 48 منصوبوں کیلئے 91 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
آئندہ مالی سال 2026-27 کے وفاقی ترقیاتی پروگرام میں پاور ڈویژن کے 48 منصوبوں کے لیے 91 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے،جن میں 45 جاری اور 3 نئے منصوبے شامل ہیں۔
دستاویزات کےمطابق جاری منصوبوں کےلیے 86 ارب روپےجبکہ نئےمنصوبوں کے لیے 4 ارب روپے سے زائد فنڈز رکھنےکی تجویزدی گئی،قومی گرڈسسٹم کی توسیع اوربجلی کی ترسیل و تقسیم کے نظام کو بہتر بنانے کے متعدد منصوبے بھی ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہیں۔
500 کے وی لاہور نارتھ گرڈ اسٹیشن منصوبے کے لیے 70 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ این ٹی ڈی سی ٹرانسمیشن سسٹم اپ گریڈیشن کے لیے 3 ارب روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
دستاویز کےمطابق داسو ہائیڈرو پاورمنصوبے کےلیے 10 ارب 80 کروڑ روپےمختص کرنےکی تجویز ہے، جبکہ سُکھی کناری ہائیڈرو پاورمنصوبےکی ٹرانسمیشن لائن کےلیے 3 ارب روپےتجویزکیےگئےہیں،مہمند ڈیم سےپیداہونےوالی بجلی قومی گرڈتک پہنچانے کے منصوبے کے لیے 3 ارب 90 کروڑ روپے رکھنےکی سفارش کی گئی ہے۔
ملتان الیکٹرک پاورکمپنی کےڈسٹری بیوشن سسٹم کی بہتری کے لیے 3 ارب روپےمختص کرنے کی تجویز دی گئی،جبکہ بجلی کےترسیلی نظام کی اپ گریڈیشن کے لیے 2 ارب 41 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
اسلام آبادویسٹ گرڈاسٹیشن کی تعمیر کےلیے 9 ارب 32 کروڑروپےسےزائد مختص کرنےکی تجویز سامنے آئی ہے،اسی طرح سندھ کے 10 اضلاع میں پاورڈسٹری بیوشن سسٹم کی بہتری کے لیے 2 ارب 91 کروڑ روپےاورپاورکنزمپشن ڈیوائسزکی تنصیب کےلیے 3 ارب روپے سےزائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
بجٹ 10جون کو پیش کیا جائے گا: طارق فضل چوہدری
وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے سماء ٹی وی کے پروگرام ’ندیم ملک لائیو ‘میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ 10جون کو پیش کیا جائے گا،بجٹ سے پہلے کوئی قانون سازی نہیں ہو رہی،ہم مداخلت کریں تو سہیل آفریدی کی حکومت 2 دن میں گر جائے گی۔
تفصیلات کے مطابق طارق فضل چوہدری کا کہناتھا کہ ایران امریکا جنگ میں پاکستان کے کردار کو پوری دنیا نے سراہا،صدر ٹرمپ نے کہا وزیراعظم اور فیلڈ مارشل کے کہنے پر جنگ بندی میں توسیع کی،پابندیوں کے باوجود ایران کا کھڑا ہونا قابل ستائش ہے، فیلڈ مارشل کے دورہ ایران میں کافی معاملات طے پا گئے تھے۔
طارق فضل چوہدری نے کہا کہ اُمید ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان معاہدہ ہو جائے گا،پُر امید ہیں امریکا اور ایران مذاکرات کا فائنل راؤنڈ اسلام آباد میں ہو گا،معاہدہ ہو جائے تو وزیراعظم اور فیلڈمارشل ملک کو ٹھیک کرنے کیلئے تیارہیں،سفارتکاری سے پاکستان کو کیا فوائد حاصل ہوں گے،فیصلہ سازوں کو پتا ہے۔
وزیر پارلیمانی امور کا کہناتھا کہ تعلقات پاکستان کے حق میں جائیں گے،ملکی ترقی اور استحکام اولین ترجیح ہے،علی امین اور سہیل آفریدی گروپ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے،بجٹ 10جون کوپیش کیا جائے گا،بجٹ سے پہلےکوئی قانون سازی نہیں ہو رہی،ہم مداخلت کریں تو سہیل آفریدی کی حکومت 2 دن میں گر جائے گی۔
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔
رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔
شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبے بڑی حد تک نظرانداز، بجٹ میں 77 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز
وفاقی بجٹ 2026-27 میں شعبۂ تعلیم کے نئے ترقیاتی منصوبوں کو بڑی حد تک نظرانداز کر دیا گیا ہے، جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اور وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کے صرف 5 نئے ترقیاتی منصوبے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں شامل کیے گئے ہیں۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال کے دوران تعلیم کے شعبے کیلئے مجموعی طور پر 77 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
ہائر ایجوکیشن کمیشن کیلئے 41 ارب 19 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں صرف ایک ارب 71 کروڑ روپے زیادہ ہیں۔ دوسری جانب وفاقی وزارتِ تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کو ترقیاتی منصوبوں کیلئے 36 ارب روپے ملنے کی تجویز دی گئی ہے۔
دستاویزات کے مطابق وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان، چترال اور سندھ میں دانش اسکولوں کیلئے آئندہ مالی سال میں 4 ارب 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
وزیراعظم یوتھ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 3 ارب 29 کروڑ روپے جبکہ پاکستان ایجوکیشن اینڈومنٹ فنڈ کیلئے 3 ارب روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اسکل ڈویلپمنٹ پروگرام کیلئے 2 ارب 61 کروڑ روپے بھی سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام کا حصہ ہوں گے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق ہائر ایجوکیشن کمیشن کے 3 نئے منصوبوں کیلئے صرف 30 کروڑ روپے بطور ٹوکن رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ 41 ارب روپے سے زائد رقم کمیشن کے 135 جاری منصوبوں پر خرچ کی جائے گی۔
وفاقی وزارتِ تعلیم کے 2 نئے منصوبوں میں ڈیجیٹل لرننگ اور رول آؤٹ آف میٹرک ٹیک منصوبے شامل ہیں، جن کیلئے 60، 60 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزارتِ تعلیم اپنے 31 جاری ترقیاتی منصوبوں پر 34 ارب 80 کروڑ روپے خرچ کرے گی، جبکہ مجموعی طور پر تعلیم کے شعبے میں نئے منصوبوں کے مقابلے میں جاری منصوبوں کو زیادہ ترجیح دی گئی ہے۔
وفاقی بجٹ 2026-27: وزارتِ آئی ٹی کے ترقیاتی بجٹ میں تین گنا سے زائد اضافے کی تجویز
وفاقی بجٹ 2026-27 میں وزارتِ انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ترقیاتی بجٹ میں تین گنا سے زائد اضافے کی تجویز دی گئی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق وزارتِ آئی ٹی نے 71 ارب 84 کروڑ روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا ہے۔ سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں وزارت کے 12 جاری اور 8 نئے منصوبے شامل کیے گئے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق وزارتِ آئی ٹی کے جاری منصوبوں کیلئے 32 ارب 13 کروڑ روپے جبکہ نئے منصوبوں کیلئے 39 ارب 71 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
وزارتِ آئی ٹی نے اپنے 5 منصوبوں کیلئے 37 ارب 79 کروڑ روپے کے فنڈز طلب کیے ہیں، جبکہ پاکستان سافٹ ویئر ایکسپورٹ بورڈ کے 7 جاری منصوبوں کیلئے 24 ارب 39 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
اسلام آباد آئی ٹی پارک منصوبہ 72 فیصد مکمل ہو چکا ہے، جس کیلئے آئندہ مالی سال میں 6 ارب 73 کروڑ روپے مختص کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔ کراچی آئی ٹی پارک منصوبے کیلئے سرکاری شعبہ ترقیاتی پروگرام میں ایک کروڑ 15 لاکھ روپے کی تجویز دی گئی ہے۔
اسٹارٹ اپ اور وینچر ایکو سسٹم کے فروغ کیلئے ایک ارب 80 کروڑ 20 لاکھ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ قومی سیمی کنڈکٹر افرادی وسائل ترقیاتی پروگرام کیلئے ایک ارب روپے سے زائد فنڈز مانگے گئے ہیں۔
اسپیشل کمیونیکیشن آرگنائزیشن نے اپنے 4 منصوبوں کیلئے 2 ارب 67 کروڑ روپے تجویز کیے ہیں۔ دور دراز علاقوں میں ٹیلی کمیونیکیشن خدمات کی بہتری کیلئے 2 ارب 50 کروڑ روپے مالیت کا نیا منصوبہ بھی تجویز کیا گیا ہے۔
نیشنل انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے 3 منصوبوں کیلئے 74 کروڑ 30 لاکھ روپے کے فنڈز طلب کیے ہیں، جبکہ اگنائٹ نے نئے منصوبے کیلئے 3 ارب روپے اور قومی انفارمیشن ٹیکنالوجی سیکیورٹی بورڈ نے 3 ارب 24 کروڑ روپے مانگے ہیں۔
چاروں صوبوں کے ترقیاتی بجٹ میں 76 ارب روپے اضافے کی تجویز
نئے مالی سال 2026-27 کیلئے چاروں صوبوں کے مجموعی سالانہ ترقیاتی بجٹ میں 76 ارب روپے اضافے کی تجویز دے دی گئی ہے، جبکہ صوبے مجموعی طور پر 3 ہزار 138 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کریں گے۔
دستاویزات کے مطابق صوبائی سالانہ ترقیاتی پروگراموں میں 2 ہزار 478 ارب روپے مقامی وسائل سے جبکہ 660 ارب روپے بیرونی امداد کے ذریعے فراہم کیے جائیں گے۔
نئے مالی سال میں 1 ہزار 450 ارب روپے کے ترقیاتی بجٹ کے ساتھ پنجاب نے وفاق سمیت تمام اکائیوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ پنجاب رواں مالی سال کے مقابلے میں 95 ارب روپے زیادہ ترقیاتی اخراجات کرے گا۔ صوبہ پنجاب 1 ہزار 306 ارب روپے اپنے مقامی وسائل سے جبکہ 144 ارب روپے غیر ملکی امداد کی مد میں خرچ کرے گا۔
دستاویزات کے مطابق صوبہ سندھ نے 816 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا ہے، جس میں 520 ارب روپے مقامی وسائل اور 296 ارب روپے بیرونی امداد سے حاصل ہوں گے۔
خیبرپختونخوا حکومت نے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 564 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی ہے۔ اس رقم میں 377 ارب روپے مقامی وسائل سے جبکہ 187 ارب روپے غیر ملکی امداد سے فراہم کیے جائیں گے۔
بلوچستان حکومت نے نئے مالی سال کیلئے 308 ارب روپے کا ترقیاتی بجٹ تجویز کیا ہے، جس میں 275 ارب روپے مقامی وسائل اور 33 ارب روپے غیر ملکی امداد شامل ہیں۔
یوں مالی سال 2026-27 میں چاروں صوبے مجموعی طور پر 3 ہزار 138 ارب روپے ترقیاتی منصوبوں پر خرچ کریں گے، جو رواں مالی سال کے مقابلے میں 76 ارب روپے زیادہ ہیں۔
بجٹ ، وزیراعلیٰ کے پی کے نے حکومتی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل شام طلب کر لیا
خیبر پختونخوا کے آئندہ مالی سال کے بجٹ پر ممبران اسمبلی کو اعتماد میں لینے کے لئے وزیر اعلی سہیل خان نے حکومتی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس کل شام طلب کرلیا ۔
تفصیلات کے مطابق اجلاس میں پی ٹی آئی کے ارکان اسمبلی کو شرکت یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے ،وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے واٹس ایپ گروپ میں اجلاس میں شرکت یقینی بنانےکی ہدایت دی،بانی پی ٹی آئی کی رہائی اور آئندہ لائحہ عمل پر بھی غور کیا جائے گا،آئندہ مالی سال کے بجٹ سے متعلق بھی اراکین اسمبلی سے رائے لی جائے گی،ناراض اراکین اسمبلی کی شرکت بھی متوقع ہے،اراکین اسمبلی گلے شکووں اور ترقیاتی کاموں سے متعلق وزیراعلیٰ کو آگاہ کریں گے،صوبے میں امن وامان کے حوالے سے بھی اراکین اسمبلی کوآگاہ کیا جائے گا۔
نئے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے اور پنشنرزکی تنخواہوں میں اضافے کا امکان
نئے بجٹ میں تنخواہ دارطبقے اور پنشنرزکی تنخواہوں میں اضافےکیلئےمختلف تجاویز تیار کرلی گئیں ہیں، تنخواہوں میں اضافہ وفاقی کابینہ اور آئی ایم ایف کی منظوری سے مشروط ہوگا۔
ذرائع کا کہنا ہےکہ آئندہ بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں تقریباً 10 فیصد اضافے کی تجویز زیرغور ہے،اسکے ساتھ ساتھ 2022 سے 2025 کےدوران دیےگئےچارایڈہاک الاؤنسزمیں سےایک کوبنیادی تنخواہ میں ضم کرنے کی بھی تجویز سامنے آئی ہے۔
ذرائع کےمطابق تنخواہ دارطبقےکو ریلیف دینے کےلیےماہانہ ایک سےدو لاکھ روپے آمدن والے طبقے کو ریلیف دینے کی تجویزہے،اس کےعلاوہ گریڈ 20 سے 22 تک افسران کیلئے 50 سے 75 فیصد کنوینس الاؤنس میں اضافے کی تجویز ہے،جبکہ گریڈ 1 سے 16 تک کے ملازمین کیلئے ڈسپیرٹی الاؤنس کی بھی تجویز ہے، پنشنرز کیلئے دو سال کی اوسطا مہنگائی کے تناسب سے 80 فیصد تک اضافے کی تجویز ہے
ذرائع کےمطابق سالانہ 12 لاکھ سے22 لاکھ روپےتنخواہ والے طبقے کیلئے انکم ٹیکس میں کمی متوقع ہے، تنخواہوں میں اضافہ اور ٹیکس ریلیف پر آئی ایم ایف سے مذاکرات جاری ہیں،اس کے علاوہ آئندہ مالی سال سے آرمڈ فورسز کو کنٹری بیوٹری پنشن اسکیم میں شامل کرنے کی تجویز بھی زیرغور ہے، تنخواہوں اور پنشن سےمتعلق تجاویز پروزیراعظم اور وفاقی کابینہ کو اعتمادمیں لیا جائےگا،پیٹرولیم قیمتوں میں اضافے کےباعث گریڈ 1 سے 19 تک کنوینس الاؤنس میں دوگنا اضافےکی تجویز ہے۔
9 ماہ کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 32.19 ارب ڈالر ہو چکا: قائمہ کمیٹی میں بریفنگ
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی خزانہ کا اجلاس ہوا جس دوران معاشی ماہرین نے پری بجٹ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا 9 ماہ کےدوران پاکستان کا تجارتی خسارہ 32 ڈالرسےزیادہ ہے ۔ چیئرمین کمیٹی سید نویدقمرکے ریمارکس بولے ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ نیب اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتےاب ایف بی آر اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے ۔
تفصیلات کے مطابق بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ پہلے نارمل ٹیکس رجیم تھا پھر ایک فیصد سسٹم آیا اب دونوں لاگو ہیں،چیئرمین کمیٹی سید نوید قمر نے کہا کہ ایک وقت تھا جب کہا جاتا تھا کہ نیب اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے،اب ایف بی آر اور پاکستان ساتھ نہیں چل سکتے۔
پالیسی ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف مارکیٹ اکانومی (پرائم) کے ایم ڈی کی علی سلمان نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ 4 سال سے گروتھ ریٹ مثبت سمت میں جارہا ہے، اس وقت ملک کے زر مبادلہ ذخائر 22.58 ارب ڈالر ہیں،اسٹیٹ بینک کے پاس ساڑھے 17 ارب ڈالرز کے ذخائر ہیں،اس وقت ملک کا 324 ملین ڈالرز کا خسارہ ہے، مہنگائی کا پارہ اب ڈبل ڈیجیٹ میں ہے اور یہ بڑھے گا، ایف بی آر کا ٹیکس شارٹ فال اس وقت 610 ارب کا ہے،فی کس آمدن 5 لاکھ 33 ہزار روپے ہے جو 2015 کی نسبت کم ہے،اس سال اب تک 33.86 ارب ڈالرز کی ترسیلات زر آچکی۔
انہو ں نے بتایا کہ اخراجات کنٹرول کرنے میں حکومت نے کچھ بہتری دکھائی ہے،گزشتہ سال کے مقابلے میں ملک کی مالی کارکردگی ملی جلی رہی،مجموعی آمدن کی شرح نمو 10.9 فیصد سے کم ہو کر 10 فیصد رہی، ٹیکس وصولیوں کی شرح 7 فیصد سے کم ہو کر 4 فیصد ریکارڈ کی گئیں، ماہ میں نان ٹیکس آمدن 4 فیصد سے کم ہو کر 3.4 فیصد رہی، جولائی تا مارچ صوبائی منتقلیاں بھی منفی 4 فیصد پر برقرار رہیں، خالص آمدن کی شرح نمو 6.51 فیصد سے کم ہو کر 6 فیصد آگئی،9 ماہ کے دوران مجموعی اخراجات 9 فیصد سے کم ہو کر 8 فیصد رہے،مالی خسارہ 3 فیصد سے بہتر ہو کر 2 فیصد کی منفی سطح پر آگیا،صوبائی سرپلس 1 فیصد سے بڑھ کر 1.3 فیصد ہوگیا،مجموعی خسارہ منفی 2 فیصد سے بہتر ہو کر منفی 0.7 فیصد رہا،پرائمری بیلنس 3.7 فیصد سے کم ہو کر 3.2 فیصد ریکارڈ کیا گیا،گزشتہ ایک سال کے دوران شرح سود میں کمی آئی،2023 میں ڈیٹ سروسنگ ٹو ریونیو 90 فیصد کو بھی عبور کر گیا تھا،اس وقت ڈیٹ سروسنگ ٹو ریونیو 57.36 فیصد پر آچکا ہے۔
بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ فروری 2026 تک گیس اور پاور کا گردشی قرض 5.1 ٹریلین روپے ہوچکا،گیس شعبے کا گردشی قرض تقریبا دوگنا ہوچکا ہے، اب انٹرسٹ ریٹ 10.5 فیصد سے بڑھ کر 11.5 فیصد ہو چکا،نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.5 فیصد تک پہنچ گئی،ملک میں نوجوان خواتین میں بےروزگاری کی شرح 13 فیصد سے زائد ہوگئی، غربت کی شرح 2018 کے 22 فیصد سے بڑھ کر 30 فیصد ہو گئی، ایس پی ڈی سی کے مطابق غربت کی شرح 43.5 فیصد تک پہنچ چکی ہے، ملک میں عدم مساوات کی شرح 33.5 فیصد ریکارڈ کی گئی ہے،غیر قانونی تجارت اور جعلی مصنوعات معیشت کے لیے بڑا خطرہ ہیں، اسمگلنگ اورجعلی مارکیٹس ٹیکس نظام اورمقامی صنعتوں کو نقصان پہنچا رہی ہیں،سیلاب، علاقائی کشیدگی،مہنگےزرعی اخراجات سے غذائی تحفظ کو خطرات لاحق ہیں، خوراک کی بڑھتی قیمتیں اور موسمی چیلنجز غذائی بحران کا سبب بن رہے ہیں۔
بجٹ 2026-27، وزیراعظم نے 7 رکنی کمیٹی قائم کر دی
بجٹ 27-2026 کی تیاریاں جاری ہیں اور اسی سلسلے میں وزیراعظم شہباز شریف نے سات رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے ، جس میں خزانہ، اقتصادی امور، ترقی و منصوبہ بندی اورقانون کے وزرا سمیت دیگر حکام شامل ہیں۔
تفصیلات کے مطابق وزیراعظم آفس نے کمیٹی کے ٹرمز آف ریفرنس بھی طے کر دیئے ہیں ، کمیٹی میں وفاقی وزیر قانون، چیف ٹیکینکل ایڈوائزر مشرف رسول بھی نمائندے مقرر کیئے گئے ہیں جبکہ ایڈیشنل سیکرٹری بجٹ وزارت خزانہ بھی کمیٹی کا حصہ ہوں گے ۔
کمیٹی کو بجٹ سے متعلق اہم امور کا جامع جائزہ لے کر سفارشات وزیراعظم کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔ تجارت،پاور،نجکاری اور دیگر وزارتوں کی مالی ضروریات کا جائزہ لیا جائے گا، مالی سال 27-2026 کیلئے پی ایس ڈی پی کا تعین بھی ٹی او آرز میں شامل ہے۔
کمیٹی میں آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے72 ارب روپے ونڈ فال منافع کی واپسی پر غور کیا جائے گا ، پاور ڈویژن سے متعلق بین الاقوامی مقدمات اور مالی تقاضوں کا تفصیلی جائزہ لینےکا فیصلہ بھی کیا گیاہے ۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آمدن پیدا کرنے والی وزارتوں کو ترقیاتی اخراجات کیلئے آمدن کا حصہ رکھنے کی ہدایت کی ئگی ہے،کلائمیٹ سپورٹ لیوی فنڈز سے گرین انیشی ایٹو پروگرام کے اسٹارٹ اپس کی معاونت کا جائزہ شامل ہے۔
کابینہ کے رائٹ سائزنگ فیصلوں پر عملدرآمد رپورٹ اور اخراجات میں کمی کیلئےبھی تجاویز طلب کر لی گئیں ۔
حکومت نے آئی ایم ایف کو 860 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات کی یقین دہانی کروا دی
وزارت خزانہ اورایف بی آرکی نااہلی کابوجھ غریب عوام پرڈالنےکی تیاری،آئی ایم ایف کو 860ارب روپے کےاضافی ٹیکس اقدامات کی یقین دہانی کروادی گئی،آئی ایم ایف کےدباؤ پرپیٹرول اورڈیزل پر سبسڈی بند کرنے کا بھی فیصلہ کرلیاگیا،نئے بجٹ کا حجم 17 ہزار ارب روپے سے زائد ہونے کا امکان ہے۔
بجٹ27-2026میں بھی وزارت خزانہ اور ایف بی آرکی نالائقیوں کی سزا غریب عوام کو دینے کی تیاری کرلی ہے،آئی ایم ایف کو 860 ارب روپےکےاضافی ٹیکس اقدامات کی یقین دہانی کروا دی گئی،عالمی مالیاتی فنڈ کی ڈکٹیشن پرپیٹرول اورڈیزل پر سبسڈی بند کرنےکا فیصلہ کرلیاگیا ہے،ملک میں توانائی اور ایندھن کی قیمتیں نئی بلندیوں پر جانے کا خدشہ ہے،آئی ایم ایف نے جی ایس ٹی کی مد میں بھی اضافی 2 ہزار ارب روپے جمع کرنے کا ٹارگٹ دیدیا۔
ذرائع کےمطابق نئے وفاقی بجٹ کا حجم 17 ہزار ارب روپے سے زیادہ ہونےکا امکان ہے، اگلے مالی سال کے پہلے 6 ماہ میں 7 ہزار ارب ،جون 2027 تک 15 ہزار 267 ارب روپے ٹیکس وصولی کا ہدف متوقع ہے۔
وزارت خزانہ اورایف بی آرکاعوام پر 430 ارب کا اضافی بوجھ ڈالنےکا پلان ہے،215ارب روپےاضافی ٹیکس اور باقی 215 ارب آڈٹ اور سخت نگرانی سے حاصل کئے جائیں گے،چاروں صوبے بھی 430 ارب کے نئے ٹیکس لگائیں گے ۔
ذرائع نےمزید بتایا ہےکہ پیٹرولیم لیوی کی مد میں 1727 ارب وصول کئے جائیں گے جوموجودہ مالی سال سے 260ارب روپے زیادہ ہیں،کسی شعبے کو ریلیف دینے کیلئے دیگر سیکٹرز پر بوجھ ڈالا جائےگا ۔
آئی ایم ایف سےوعدےکے باوجود حکومت زرعی آمدن پر ٹیکس وصولی میں ناکام رہی،زرعی شعبےکا معیشت میں حصہ تقریباً 25 فیصد جبکہ ٹیکس وصولی صرف 0.3 فیصد ہے۔ مہنگائی پہلےہی ڈبل ڈیجیٹ تک پہنچ چکی،آئندہ مالی سال میں اس کی اونچی اڑان برقرار رہنے کا خدشہ ہے۔
آئی ایم ایف کی پاکستان پر 11 نئی شرائط، نئے بجٹ میں 430 ارب روپے کے ٹیکس لگانے کا منصوبہ
عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) نے پاکستان پر 11 نئی کڑی شرائط عائد کردیں،آئندہ مالی سال کے بجٹ میں عوام پر 430 ارب روپے کے نئے ٹیکس لگانے کا منصوبہ سامنے آگیا۔
ذرائع کےمطابق آئی ایم ایف نے آئندہ مالی سال کے لیے ایف بی آر کا ٹیکس ہدف 15 ہزار 267 ارب روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جبکہ پٹرولیم لیوی کی مد میں عوام سے 1727 ارب روپے وصول کیے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ گیس ٹیرف اور بجلی نرخوں میں اضافے کا پلان بھی زیر غور ہے۔
حکومت نےآئی ایم ایف کو ریونیو بڑھانےاورٹیکس چوری روکنے کےلیےمتعدد یقین دہانیاں کرائی ہیں۔
رپورٹ کےمطابق شوگر،سیمنٹ، تمباکو اورکھاد کےشعبوں میں 160 ارب روپےکی ٹیکس چوری یا ٹیکس گیپ موجود ہے،جس کے بعد ان شعبوں میں نگرانی کا نظام نافذ کردیا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ایف بی آر ٹیکس وصولی بڑھانے کے لیے نیا نظام متعارف کرا رہا ہے، جبکہ بڑے ٹیکس چوروں کی نشاندہی سی آر ایم سسٹم کے ذریعے کی جائے گی۔ ایف بی آر نے 431 نئے آڈیٹرز بھرتی کرلیے ہیں جبکہ مزید 396 افسران جون تک شامل کیے جائیں گے۔
رپورٹ کےمطابق سخت آڈٹ نظام سے 2027 میں 92 ارب روپےاضافی آمدن متوقع ہے،جبکہ تمام سیلز ٹیکس دہندگان کے لیے ڈیجیٹل انوائسنگ لازمی قرار دے دی گئی ہے، جس سے 46 ارب روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کو بتایاگیاکہ ٹیکس چوری روکنے کے لیے ٹیکسٹائل سمیت مختلف شعبوں کی پیداوار کی نگرانی کی جائےگی اور ٹیکسٹائل وبیوریجزسیکٹراکتوبر 2026 تک مکمل نگرانی میں آجائیں گے،ایف بی آر آڈٹ نظام کو عالمی معیار کےمطابق مزیدسخت کیاجائےگاجبکہ ہائی رسک ٹیکس کیسزکی مرکزی سطح پر نگرانی ہوگی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ زرعی آمدن ٹیکس ہدف سےکم رہا کیونکہ نئی شرحوں کےنفاذمیں مشکلات اور تاخیرکاسامنا کرنا پڑا،تاہم ایف بی آر نے صوبوں کو انکم ٹیکس معلومات فراہم کرنا شروع کردی ہیں تاکہ مالی سال 2027 میں صوبے ٹیکس وصولی بہتر بنا سکیں۔
آئی ایم ایف کےمطابق صوبائی ٹیکس آمدن میں جی ڈی پی سے زیادہ رفتار سے اضافہ ہوا جبکہ سروسز پر جی ایس ٹی اور سخت نگرانی سے ٹیکس وصولی میں بہتری آئی ہے۔
دستاویزات کےمطابق آئندہ مالی سال میں ڈائریکٹ ٹیکسز کی مد میں 7413 ارب روپے، فیڈرل ایکسائز ڈیوٹی کی مد میں 1043 ارب روپے، سیلز ٹیکس سے 4727 ارب روپے اور کسٹمز ڈیوٹی سے 1651 ارب روپے حاصل کرنے کا ہدف رکھا جاسکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ آئندہ مالی سال کے دوران سود کی ادائیگیوں پر 7824 ارب روپے خرچ ہونے کا امکان ہے،جن میں 6652 ارب روپے مقامی اور 1107 ارب روپے بیرونی قرضوں کے سود کی ادائیگی پر خرچ ہوں گے۔ دفاعی بجٹ کے لیے 2665 ارب روپے جبکہ پی ایس ڈی پی پروگرام کے تحت 986 ارب روپے مختص کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
آئی ایم ایف کی مفصل جائزہ رپورٹ میں کہاگیا ہےکہ مشرق وسطیٰ کے تنازع نے پاکستان کی معاشی ترقی، سپلائی چین اور قوت خرید کو متاثر کیا، جبکہ تیل کی قیمتوں میں اضافے سے مہنگائی بڑھی۔
رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026 میں پاکستان کی معاشی شرح نمو 3.6 فیصد، مہنگائی کی اوسط شرح 7.2 فیصد اور بیروزگاری کی شرح 6.9 فیصد رہنے کا امکان ہے،پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر 17.5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ظاہر کی گئی ہے۔
آئی ایم ایف نےکہا ہےکہ اسٹیٹ بینک نےافراطِ زرپرقابو پانے کے لیےبروقت سخت مانیٹری پالیسی اپنائی، جبکہ معاشی اصلاحات اور مسابقت کے فروغ سے پاکستان طویل المدتی معاشی گروتھ حاصل کی۔
حکومت کا بجٹ میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم اور اے آئی پر مبنی ٹیکس اصلاحات نافذ کرنے پر غور
حکومت نے آئندہ بجٹ میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم اور اے آئی پر مبنی ٹیکس اصلاحات نافذ کرنے پر غور شروع کر دیاہے۔
ٹیکس اصلاحات کے حوالے سے وفاقی وزیر برائے اقتصادی امور احد چیمہ کی زیرصدارت اجلاس اجلاس ہوا، اجلاس میں آئندہ وفاقی بجٹ کے لیے تجویز کردہ ٹیکس نافذ کرنے والے اقدامات کا جائزہ لیا گیا ،ایف بی آر کی ٹیم نے شرکا کو آئندہ بجٹ کے لیے مختلف تجاویز پر بریفننگ دی۔
انڈر رپورٹنگ،نان رپورٹنگ،انڈرانوائسنگ روکنے کیلئے تجاویز ، ٹیکس چوری اور اسمگلنگ کی روک تھام کیلئے بھی مختلف سفارشات کا جائزہ بھی لیا گیا ۔
شرکا نے ٹیکنالوجی کے ذریعے شفافیت،نفاذ بہتر بنانے سے متعلق متعدد تجاویز ، ٹیکس چوری روکنے کیلئے ڈیجیٹل مانیٹرنگ مکینزم اور اےآئی پر مبنی سسٹم کی تجویزکا جائزہ لیا۔
کسٹمزحکام کی جانب سے ضبط شدہ سامان کی نیلامی میں شفافیت کیلئے ای آکشن سسٹم متعارف کرانے پر بھی غور کیا گیا۔
وفاقی وزیر ای آکشن سسٹم سے ضبط شدہ سامان کی نیلامی کا عمل مزید شفاف بن جائے گا، حکومت معاشی ترقی کو مدنظر رکھتے ہوئے ٹیکس اصلاحات لائےگی، ٹیکس اصلاحات کا مقصد کاروباری ماحول مزید بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ معاشی ترقی کو فروغ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت ایک ایسے ٹیکس نظام کی مکمل حمایت کرتی ہے جس میں انسانی مداخلت کم سے کم ہو،ڈیجیٹل طور پر خودکار نظام اور ٹیکنالوجی پر مبنی حل ایک مثبت قدم ثابت ہوگا۔
کفایت شعاری اقدامات کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز میں بڑی کٹوتی کر دی گئی
کفایت شعاری اقدامات کے تحت ترقیاتی منصوبوں کے فنڈز میں بڑی کٹوتی کردی گئی،وفاقی پی ایس ڈی پی 167 ارب روپےکم ہوکر 833 ارب روپےرہ گیا،بعض وزارتوں کوجاری کردہ 22 ارب 62 کروڑروپے واپس بھی لے لیے گئے،وزارتوں کو نظرثانی شدہ بجٹ کے اندر رہ کر اخراجات کی ہدایت ردی گئی ہے۔
دستاویز کےمطابق ارکان پارلیمنٹ کی مختلف ترقیاتی اسکیموں پر تاحال کوئی کٹ نہیں لگایاگیا،کابینہ ڈویژن کیلئے 63 ارب 23 کروڑروپےکا ترقیاتی بجٹ برقرارہے،جبکہ وزارتوں کو کٹوتی کے بعد اضافی فنڈز واپس فنانس ڈویژن کو جمع کروانے کی ہدایت کردی گئی ہے۔
وفاقی تعلیم کےمنصوبوں پر 2 ارب 31 کروڑ روپےکا کٹ لگا ہےجس کے بعد بجٹ 26 ارب 60 کروڑروپے رہ گیا،صوبوں اورخصوصی علاقوں کا بجٹ 226 ارب سے کم ہوکر 201 ارب روپے تک محدود ہوگیا۔
وزارت داخلہ کابجٹ 12 اعشاریہ پانچ ایک ارب سےکم ہوکر 11 اعشاریہ پانچ ایک ارب روپے کردیاگیا،ریلوے کا ترقیاتی بجٹ 20 اعشاریہ ایک سات ارب سےکم کرکے 18 اعشاریہ پانچ پانچ ارب روپے کر دیا گیا ، جبکہ پاورڈویژن کا ترقیاتی بجٹ 81 اعشاریہ چھ آٹھ ارب سےکم کرکے 75 ارب روپے تک محدود کردیا گیا ہے۔
نئے مالی سال کے بجٹ کی تیاری، تمام وفاقی محکموں کو غیر استعمال شدہ فنڈز واپس کرنے کی ہدایت
نئے مالی سال 27-2026 کے بجٹ کی تیاری،تمام محکموں کو غیر استعمال شدہ فنڈز واپس کرنے کی ہدایت کردی گئی۔
نئے مالی سال 27-2026 کے بجٹ تخمینوں کو حتمی شکل دینے کا عمل تیز کر دیا گیا،جس کے تحت تمام وفاقی محکموں کو غیراستعمال شدہ فنڈزیا بچ جانے والی رقوم واپس کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق تمام وزارتوں اورمحکموں کو کہاگیا ہےکہ وہ متوقع بچتوں کی تفصیلات 10 مئی تک فنانس ڈویژن کو جمع کرائیں،تاکہ بجٹ تخمینوں کو حتمی شکل دی جا سکے
نئے وفاقی بجٹ میں تنخواہ دار طبقے کو ریلیف دینے کی تجویز،بجٹ جون کے پہلے ہفتے میں پیش کیا جائے گا
نئےمالی سال کا وفاقی بجٹ جون کے پہلےہفتےمیں پیش کیا جائے گا،حکومت نےبجٹ آئی ایم ایف کی شرائط کےمطابق تیارکرنےکا فیصلہ کیاہے،تنخواہ دارطبقے کو ریلیف دینےکی تجویز ہے،آئی ایم ایف کی مشاورت سےسپرٹیکس میں بتدریج کمی کی جائے گی،بی آئی ایس پی کے مستحقین کے وظیفے میں پانچ ہزار روپے کا اضافہ بھی کیا جائے گا۔
مالی سال دو ہزار 26-27 کےبجٹ میں مختلف شعبوں کوحاصل انکم ٹیکس اورسیلزٹیکس چھوٹ ختم کرنےکی تجویز ہے،خصوصی اقتصادی زونزسمیت نئی ٹیکس چھوٹ یااستثنی نہیں دیا جائے گا،اسپیشل اکنامک زونزکو پہلے سےحاصل ٹیکس چھوٹ ختم کی جائے گی۔
ایکسپورٹ زونزمیں تیارمصنوعات مقامی مارکیٹ میں بیچنے پرپابندی ہوگی،بجلی اورگیس کی قیمتوں میں باقاعدہ بروقت اضافہ لازمی قراردیاجائے گا،آئی ایم ایف نے قرض پروگرام کےمطابق ٹیرف ایڈجسٹمنٹ سخت کرنے پربھی زوردیا ہے،بی آئی ایس پی کی سہ ماہی رقم ساڑھےچودہ ہزار سے بڑھا کر ساڑھے انیس ہزارروپے کی جائے گی۔
ایف بی آر کےآڈٹ نظام کومضبوط اورمرکزی بنایا جائے گا،وفاقی بجٹ میں نئےاکنامک زونز بنانےپرفی الحال پابندی عائد رہےگی،بجٹ میں زرمبادلہ سےمتعلق پابندیوں میں مرحلہ وارنرمی کی جائے گی،جبکہ پاکستان ریگولیٹری رجسٹری دو ہزار ستائیس تک قائم کی جائے گی۔
نئے بجٹ سے پہلے منی بجٹ نہیں آئے گا، وزیراعظم شہباز شریف کا دوٹوک مؤقف
وزیراعظم شہبازشریف نےنئےبجٹ سے قبل منی بجٹ لانے کی خبروں کو مسترد کردیا,مئی کے آخری ہفتے میں بجٹ پیش کرنےکی تجویزمسترد،نئےمالی سال کا بجٹ جون کےپہلےیا دوسرے ہفتے میں لائے جانےکا امکان ہے۔
حکام ایف بی آر کےمطابق وزیراعظم شہبازشریف نےمنی بجٹ کےذریعے مختلف ٹیکس کی تجاویز مسترد کردیں،وزیراعظم کومشرق وسطی کی کشیدگی کے باعث ٹیکس آمدن بڑھانے کےلیےتجاویز پیش کی گئیں، جس پر انہوں نے کسی بھی نئے ٹیکس لگانے یا ٹیکس ریٹ بڑھانےکی تجویز مسترد کر دی ہیں۔
وزیراعظم کاکہنا ہےکہ تیل کی قیمتوں سےعوام پریشان،مزیدٹیکس لگانے یامنی بجٹ لانےکا مت سوچیں، مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کے باعث بجٹ تجاویز میں مفصل مشاورت کا حکم دیا ہے،آئی ایم ایف کومشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال کےپیش نظراہداف پرنظرثانی کیلئےمنانےکی تجویز سامنے آئی ہے۔
ذرائع کےمطابق آئندہ بجٹ کی ترجیحات حالات کےمطابق تبدیل کیےجانےکاامکان ہے،آئندہ بجٹ میں افراط زر،مالیاتی خسارے سمیت اہم اہداف متاثرہونےکا خدشہ ہے،کرنٹ اکاؤنٹ خسارےکی 3 سالہ بجٹ حکمت عملی سے اہداف بری طرح متاثرہوسکتے ہیں۔
نئے مالی سال کا بجٹ اسٹریٹیجی پیپر 10 مئی تک منظور کرنا لازمی قرار
نئے مالی سال کا بجٹ اسٹریٹیجی پیپر 10 مئی تک منظور کرنا لازم قرار دیدیا گیا، دستاویز میں حکومتی آمدن، اخراجات اور ترجیحات کا تعین ہوگا ، وزارت خزانہ نے ترمیم شدہ، اپ ڈیٹڈ پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ دو ہزار چوبیس بھی جاری کردیا ہے ۔
وفاقی وزارت خزانہ کے مطابق تمام سرکاری اخراجات بجٹ اسٹریٹیجی پیپر کے مطابق ہوں گے، تین سال کا میڈیم ٹرم بجٹ تخمینہ اورپرفارمنس بیسڈ بجٹنگ پلان کا حصہ ہوگا۔ ہنگامی ذمہ داریوں اور مالیاتی رسک کی تفصیلات بھی بجٹ میں شامل ہوں گی ۔۔ ٹیکس اخراجات کی تفصیلات بھی نئے فنانس بل کا حصہ ہوں گی، اضافی یا زائد اخراجات پر ضمنی یا زائد بجٹ منظوری کیلئے اسمبلی میں پیش کرنا لازمی ہوگا ۔
تمام وزارتیں اپنی اپنی متوقع بچت اکتیس مئی تک فنانس ڈویژن کو واپس کریں گی ، دستاویز کے مطابق تمام ترقیاتی منصوبوں کیلئے تکنیکی منظوری لازمی قرار دے دی گئی، کیش منیجمنٹ، ٹریژری سنگل اکاؤنٹ کیلئے نئے قوائد بنائے جائیں گے، وزارت خزانہ کے مطابق ترمیم شدہ پبلک فنانس منیجمنٹ ایکٹ دیگر متضاد قوانین پر فوقیت رکھے گا، ترامیم کا مقصد شفافیت، فنڈزنگرانی اور ریونیو سسٹم مضبوط بنانا ہے ۔












