مصنوعی ذہانت کی معروف کمپنی اینتھروپک نے اپنے جدید ترین اے آئی ماڈل فَیبل 5 کو عوامی استعمال کے لیے متعارف کرا دیا ہے تاہم کمپنی نے سائبر سیکیورٹی اور حساس انفراسٹرکچر جیسے شعبوں میں ممکنہ غلط استعمال کو روکنے کے لیے متعدد حفاظتی پابندیاں برقرار رکھی ہیں۔
فیبل 5 دراصل اینتھروپک کی جدید ’مِتھوس فیملی کا پہلا ایسا ماڈل ہے جسے عام صارفین کے لیے لانچ کیا گیا ہے۔ یہ ماڈل اپریل میں متعارف کرایا گیا تھا تاہم سیکیورٹی خدشات کے باعث اس کی محدود آزمائشی تعیناتی کی گئی تھی۔
کمپنی کے مطابق فَیبل 5 سافٹ ویئر پروگرامنگ، پیچیدہ تحقیقی کاموں اور تصاویر کے تجزیے میں غیرمعمولی صلاحیت رکھتا ہے۔ تاہم اگر صارفین سائبر سیکیورٹی، حیاتیات یا کیمسٹری سے متعلق حساس نوعیت کی درخواستیں کریں گے تو انہیں نسبتاً کم طاقتور ماڈل کی طرف منتقل کر دیا جائے گا تاکہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔
اینتھروپک نے اس کے ساتھ اپنے زیادہ طاقتور اور کم پابندیوں والے ماڈل کلاڈ ِمتھوس 5 کو بھی محدود پیمانے پر منتخب اداروں کے لیے دستیاب کیا ہے۔ یہ ادارے کمپنی کے ’پروجیکٹ گلاس وِنگ‘ پروگرام کا حصہ ہیں جس میں 15 سے زائد ممالک کے تقریباً 200 سائبر سیکیورٹی اور تحقیقی ادارے شامل ہیں۔
کمپنی کا کہنا ہے کہ ماڈل کی ریلیز سے قبل کئی ماہ تک اس کے حفاظتی نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا، جس میں ’ریڈ ٹیم‘ ٹیسٹنگ اور بگ باؤنٹی پروگرام شامل تھے۔





















