اسلام آباد ہائیکورٹ نے ون کانسٹیٹیوشن ایونیو کے اپارٹمنٹ مالکان کی انٹرا کورٹ اپیل پر سماعت کا تحریری حکم جاری جاری کر دیا ۔
تحریری حکم میں کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے ڈویژن بینچ نے انٹرا کورٹ اپیل پر سی ڈی اے کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا ، اپارٹمنٹ مالکان کی حکم امتناع کی متفرق درخواست پر بھی مختصر تاریخ کے لیے نوٹس جاری کر دیا گیا۔
جسٹس محمد اعظم خان اور جسٹس انعام امین منہاس نے گزشتہ روز کی سماعت کا دو صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا ۔ جس میں کہا گیا کہ اپیل کنندگان نے 30 اپریل 2026 کو سنگل بینچ کی جانب سے رٹ پٹیشن خارج کرنے کے فیصلے کو چیلنج کر رکھا ہے۔
اپیل کنندگان کے وکیل نے موقف اپنایا کہ موجودہ اپیل صرف فیصلے کے پیراگراف نمبر 30 کی حد تک محدود ہے، وکیل کے مطابق سپریم کورٹ 9 جنوری 2019 کو"ڈوبو یا تیرو" سے متعلق مشاہدات پہلےہی کالعدم قرار دے چکی ہے۔
وکیل کےمطابق سپریم کورٹ نےتھرڈ پارٹی مفادات کےتحفظ کیلئے منصفانہ طریقہ کار وضع کرنے کی ہدایت کر رکھی ہے،درخواستگزار کے مطابق ملازمت، الاٹمنٹ،سرمایہ کاری اعتراف کے باوجود سی ڈی اے نےقانونی طریقہ کار کے بغیرسخت اقدامات شروع کیے۔
وکیل کے مطابق سی ڈی اے کے اقدامات آئین کے آرٹیکل 4، 23 اور 24 کی خلاف ورزی ہیں، کابینہ ڈویژن کے یکم مئی 2026 کے نوٹیفکیشن کے تحت متاثرہ رہائشیوں کیخلاف تادیبی کارروائی سے روکا گیا ہے۔
اپارٹمنٹ مالکان نے سنگل بینچ کے فیصلے کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل دائر کر رکھی ہے۔





















