وزیراعظم کے مشیر رانا ثناءاللہ نے افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں ہونے والی بھارتی اسپانسرڈ دہشتگردی کو آپریشن سندور کا فیز ٹو قرار دے دیا ۔ حکومتی پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں موجود دہشتگردوں کے مکمل خاتمہ تک انہیں نشانہ بنایا جائے گا ۔ رانا ثناءاللہ نے پی ٹی آئی کو اپنی سیاست دہشتگردوں سے الگ رکھنے کا مشورہ بھی دے دیا ۔
سینیٹ میں مولانا عطا الرحمان اور اعظم سواتی کے نکتہ اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے رانا ثناءاللہ نے کہا کہ سات آٹھ ہزار گمراہ لوگ افغانستان کی سرزمین سے دہشتگردی کی تربیت لے رہے ہیں ۔ اس کی فنڈنگ اور تربیت فراہمی میں بھارت اور اسرائیل شامل ہیں ۔ یہ آپریشن سندور کا فیز ٹو ہے ۔
رانا ثناءاللہ نے ایوان کو بتایا کہ دہشتگردی کے واقعات کو روکنے کے لیے سیاسی اور عسکری قیادت نے دو ٹوک اور اٹل فیصلہ کیا ہے ۔ وزیراعظم نے افغانستان پر واضح کر دیا ہے کہ پاکستان اور دہشتگردوں سے کسی ایک کا انتخاب کر لے۔ ہم افغانستان کے عوام سے پیار کرتے ہیں لیکن اگر افغانستان کی سرزمین پاکستان میں دہشتگردی کے لیے استعمال ہوگی تو اس جگہ کو ہدف بنایا جائے گا ۔
رانا ثناءاللہ نے کہا کہ دہشتگردوں کا الیکشن ، کسی کی رہائی اور ملاقات سمیت کوئی مطالبہ نہیں ۔ دہشتگرد، پاکستان کے دشمن اور مودی کے یار ہیں ۔ رانا ثنااللہ نے پی ٹی آئی والوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ کوئی شک نہیں کہ حکومت سے آپ کا سیاسی اختلاف اور مینڈیٹ پر اعتراض ہے ۔ اختلاف کریں لیکن ملک میں ہونے والی دہشتگردی کو سیاست سے نہ جوڑیں ۔۔۔ رانا ثناءاللہ نے کہا کہ مولاناعطاءالرحمٰن نےدہشتگردی کےجن خدشات کا اظہارکیا اس کی تائید کرتا ہوں۔






















