ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ امریکا نے پاکستان کے ذریعے ایران کے 14 نکاتی منصوبے کا جواب دیا ہے۔
ایک بیان میں اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کا 14 نکاتی منصوبہ مکمل طور پر جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے، ایران اب امریکی جواب کا جائزہ لے رہا ہے، اس مرحلے پر ایران اور امریکا کے درمیان کوئی جوہری مذاکرات جاری نہیں۔
قبل ازیں پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم نے امریکا سے مذاکرات کےلیے نئی تجاویز پاکستان کے حوالے کرنے کی تصدیق کردی۔
رضا امیری مقدم نے کہا کہ تہران کی مذاکراتی پیشکش کا مقصد مسلط کردہ جنگ کا مستقل خاتمہ ہے، مذاکرات میں پاکستان واحد ثالث ہے، ایران اپنے موقف اور مطالبات پر پہلے کی طرح قائم ہے۔
ایرانی سفیر نے کہا کہ ایران اپنے مؤقف اور مطالبات میں شفاف ہے، مذاکرات کا مکمل انحصار امریکی رویے پر ہے۔ امریکا سنجیدہ ہے تو رویہ بدلنا ہوگا، ایران قومی مفادات اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
عرب میڈیا کے مطابق ایران کا امن منصوبہ تین مرحلوں پر مشتمل ہے، آبنائے ہرمز کو کھولنا اور ناکہ بندی کا خاتمہ پہلا مرحلہ ہوگا، سمندری بارودی سرنگوں کو ہٹانے کی ذمہ داری ایران سنبھالے گا، 30 دن کے اندر جنگ کے مکمل خاتمے کی تجویز دی گئی ہے۔
دوسرے مرحلے میں ایران یورینیم کی افزودگی 3.6 فیصد کی سطح پرلائے گا، ایران کے جوہری ڈھانچے کو ختم یا تنصیبات کو تباہ نہ کرنے کی ضمانت امن منصوبے کا حصہ ہے، منجمد اثاثوں کو ایک مقررہ مدت کے بعد مرحلہ وار جاری کیا جائے۔
تیسرے مرحلے میں تہران کے ہمسایہ ممالک کے ساتھ اسٹریٹجک مذاکرات ہونگے، پورے مشرقِ وسطیٰ پر مشتمل ایک مشترکہ سکیورٹی نظام قائم کیا جائے گا۔




















