امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں عشایئے کے دوران ہونے والی فائرنگ کے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہاں ایک بڑا محفوظ بال روم کی تعمیر ہوتی تو یہ واقعہ پیش نہیں آتا۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ گزشتہ رات جو واقعہ پیش آیا اس کی اصل وجہ یہی ہے کہ ہماری عظیم فوج، سیکرٹ سروس، قانون نافذ کرنے والے ادارے اور مختلف وجوہات کی بنا پر گزشتہ 150 برس کے دوران ہر صدر نے اس بات پر زور دیا کہ وائٹ ہاؤس کے اندر ایک بڑا، محفوظ اور سیکیور بال روم تعمیر کیا جائے۔
صدر ٹرمپ نے کہا کہ اگر وائٹ ہاؤس میں اس وقت زیرتعمیر ملیٹری ٹاپ سیکرٹ بال روم موجود ہوتا تو یہ واقعہ کبھی پیش نہ آتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کی تعمیر جتنی جلدی ہو سکے مکمل ہونی چاہیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ محفوظ بال روم کی تعمیر کے خلاف دائر کیا گیا مقدمہ مضحکہ خیز ہے، جو ایک خاتون نے دائر کیا ہے، جن کو ایسا مقدمہ دائر کرنے کا کوئی قانونی حق حاصل نہیں ہے اور اس مقدمے کو فوری ختم کردینا چاہیے۔
امریکی صدر نے وائٹ ہاؤس کے اندر محفوظ بال روم کی تعمیر پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کی تعمیر میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ برداشت نہیں ہونی چاہیے حالانکہ یہ منصوبہ بجٹ میں شامل ہے اور مقررہ وقت سے کافی آگے بڑھ چکا ہے۔
واضح رہے کہ واشنگٹن میں وائٹ ہاؤس کے میڈیا نمائندوں کے اعزاز میں عشائیے کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا ہے جس میں صدر ٹرمپ محفوظ رہے جبکہ حملہ آور پکڑا گیا۔ امریکی قائم مقام اٹارنی جنرل کا کہنا ہے کہ شبہ ہے حملہ آور کا ہدف صدر ٹرمپ تھے۔





















