ایران نے صاف کہہ دیا ہے کہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں ہے۔ صدر ٹرمپ مذاکرات کی ٹیبل کو ہتھیار ڈالنے کی میز بنانا چاہتے ہیں۔
ایرانی وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ دھمکیوں کے سائے میں مذاکرات قبول نہیں کریں گے، بات چیت صرف برابری اور احترام کی بنیاد پر ممکن ہے، امریکی دباؤ اور دھمکیاں مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔ ایران نے امریکی مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں نئے آپشنزکا عندیہ بھی دیدیا۔
ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق تجارتی جہاز توسکا پر حملہ سمندری قزاقی اور دہشتگردی ہے، جہاز پر حملہ اور عملے کو حراست میں لینا ناقابلِ قبول ہے، امریکا جہاز پر سوار عملے کو فوری رہا کرے۔ امریکا خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال کا مکمل ذمہ دار ہے، ایران اپنے قومی مفادات اور سلامتی کےلیے تمام صلاحیتیں استعمال کرے گا۔
ایرانی اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی صدر نے ناکہ بندی کرکے معاہدے کی خلاف ورزی کی۔ واضح کردیا کہ گزشتہ دو ہفتوں کے دوران میدانِ جنگ کیلئے نئے اقدامات سامنے لانے کی تیاری کرلی ہے۔
واضح رہے کہ ایران امریکا جنگ بندی ختم ہونے میں صرف 24 گھنٹے باقی ہے۔ امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ممکنہ سفارتی عمل کے سلسلے میں نائب صدر جے ڈی وینس آج اسلام آباد روانہ ہورہے ہیں لیکن ایران کی طرف اب تک گرین سگنل نہیں ملا۔
صدر ٹرمپ معاہدے کیلئے پرامید تو ہیں لیکن مسلسل دھمکیاں بھی دے رہے ہیں۔ امریکی ریڈیو سے گفتگو میں کہا ایران کے ساتھ جنگ بندی کی مدت بدھ کی شام ختم ہورہی ہے اگر کسی معاہدے تک نہ پہنچا گیا تو سیزفائر میں توسیع کا امکان بہت کم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کو ہر صورت مذاکرات کی میز پر آنا ہوگا اور اگر تہران نے انکار کیا تو اسے ایسے سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھے ہوں گے بہت زیادہ بم گریں گے۔





















