ترجمان ایرانی دفتر خارجہ اسماعیل بقائی کا کہنا ہے کہ ایران کا اب تک امریکا کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے دور میں شرکت کا پلان نہیں ہے، ہم نے پاکستان کو امریکی خلاف ورزیوں سے آگاہ کردیا ہے۔
پریس بریفنگ کے دوران اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا نے شروع دن سے جنگ بندی کی خلاف ورزی ہے، امریکا مثبت اقدامات کے بجائے الزام تراشیوں میں مصروف ہے، مذاکرات کیلئے امریکا سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کرتا۔
اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکا نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا الزام ہم پرڈالنے کی کوشش کی، واشنگٹن کی سفارت کاری غیر مستقل اور الزامات پر مبنی ہے، امریکا اور اسرائیل جنگ شروع کرنا چاہتے ہیں تو ہم تیار ہیں۔
ترجمان ایرانی دفتر خارجہ نے کہا کہ امریکا کا موقف اور مطالبات بدلتے رہتے ہیں، جو بات چیت کی راہ میں رکاوٹ ہیں، آبنائے ہرمز میں جو کچھ ہورہا ہے اس کے ذمہ دار امریکا اور اسرائیل ہیں، امریکی افواج کی جانب سے کسی بھی احماقانہ اقدام کا ایرانی افواج جواب دیں گی۔
اسماعیل بقائی کے مطابق جنگی صورتحال کے باعث آبنائے ہرمز میں آمدورفت کی بحالی ممکن نہیں، آبنائے ہرمزکی صورتحال یکطرفہ پر معمول پر نہیں لاسکتے۔ ایران کے جوہری مواد کو ملک کے اندر ہی محفوظ رکھا جائے گا، افزودہ یورینیم کی منتقلی پر مذاکرات میں کوئی بات نہیں ہوسکتی۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ امریکا اب بھی غیر حقیقی مطالبات پر اصرار کررہا ہے، امریکا نے بحری ناکہ بندی جاری رکھ کر جنگ بندی کی خلاف ورزی کی، امریکا اور اسرائیل کو جرائم کیلئے جوابدہ کرنا عالمی برادری کے مفاد میں ہے۔ غزہ ، لبنان اور ایران میں جنگی جرائم پر یورپ نے کوئی واضح موقف نہیں اپنایا، روس اور چین کے ذمہ دارانہ موقف کیلئے ان کے شکرگزار ہیں۔



















