ایرانی صدر مسعود پزشکیان نےکشیدگی کم کرنےکیلئےسفارتی کوششوں کی حمایت کردی۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نےایرانی میڈیا سےگفتگو میں کہاجنگ کسی کےمفاد میں نہیں ہے،دشمن پر عدم اعتماد اور تعلقات میں ہوشیاری سے انکار نہیں کیا جاسکتا،کشیدگی کو کم کرنے کیلئے ہرعقلی اور سفارتی راستہ اپنانا چاہیے۔
ایرانی پارلیمان میں نیشنل سیکیورٹی کمیشن کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے الجزیرہ سےگفتگو میں کہاایران نے اپنی ریڈ لائنز بتا دی ہیں،لیکن مذاکرات جاری رکھےگا،مذاکرات کا یہ مطلب نہیں کہ ایران کسی بھی قیمت پربات چیت کرے،ایران نےحدود واضح کردی ہیں،انکا احترام لازمی ہے،اسلام آبادمذاکرات میں شرکت کا دارومدار امریکی مذاکراتی ٹیم اور مثبت پیغامات پرہے،لبنان جنگ بندی اورمنجمد اثاثوں کی بحالی بنیادی شرائط میں سے ہیں،امریکا اور اسرائیل ان شرائط کا احترام نہ کریں تو اسکےنتائج ہونگے،سابقہ وعدوں کی پاسداری نہ کی گئی تو سمجھیں گے ایرانی شرائط کو تسلیم نہیں کیا گیا۔
ایرانی حکام کےمطابق ایران جنگ میں جاں بحق افراد کی تعداد 3 ہزار 375 ہوگئی،شہدامیں سے 4افراد کی شناخت ابھی تک نہیں ہو سکی،جاں بحق افراد میں 496 خواتین بھی شامل ہیں۔
دوسری جانب روس میں ایرانی سفر نےروسی میڈیا کو انٹرویو میں کہا امریکا اوراسرائیل کے ایران پر کیے گئے حملے ناکام رہے،ہم پہلے سے زیادہ متحد اورپرعزم ہیں،ایران قانونی نظام کے تحت آبنائے ہرمز میں آمد و رفت کو یقینی بناتا ہے،روس کی جانب سے ایران کو خفیہ معلومات فراہم کرنے کی خبریں درست نہیں۔




















