پاکستان نے ڈیجیٹل سماجی تحفظ کا ایک کامیاب اور شفاف ماڈل عالمی سطح پر پیش کر دیا ۔ واشنگٹن میں منعقدہ ورلڈ بینک فورم کے دوران وزیراعظم رمضان پیکیج کی ڈیجیٹل فراہمی پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ عالمی مندوبین نے پاکستان کے اس جدید نظام کو دیگر ممالک کے لیے ایک مثال قرار دیا ۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے واشنگٹن میں ورلڈ بینک فورم کا افتتاح کیا۔ فورم میں گورنر اسٹیٹ بینک اور عالمی ماہرین شریک تھے۔
سیکرٹری بی آئی ایس پی عامر علی احمد نے بتایا کہ پاکستان میں اب اشیاء پر سبسڈی کے بجائے مستحقین کو براہِ راست ڈیجیٹل کیش فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس سے کرپشن کا خاتمہ اور شفافیت یقینی بنی۔
حکام کے مطابق اب تک 38 لاکھ سے زائد ڈیجیٹل ٹرانزیکشنز ہو چکی ہیں، جن میں 18 لاکھ خواتین نے ڈیجیٹل والٹس اور بیس لاکھ نے بینکنگ چینلز کے ذریعے امداد وصول کی۔ اس سسٹم کے تحت 2600 سے زائد معذور افراد کو بھی امداد پہنچائی گئی جبکہ رمضان پیکیج کی تقسیم کی شرح 99 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔
سیکرٹری بی آئی ایس پی نے عزم ظاہر کیا کہ جون 2026 چھبیس تک پاکستان مکمل طور پر ڈیجیٹل والٹ سسٹم پر منتقل ہو جائے گا۔




















