پاکستان کی ثالثی میں ایران اور امریکا کے تاریخ ساز مذاکرات کا پہلا راؤنڈ مکمل ہوگیا ہے۔ فریقین نے مذاکرات جاری رکھنے کا عندیہ دیا ہے۔
امریکی نائب صدر کا بات چیت کو بڑی پیشرفت قرار دینا امید کی واضح بڑی کرن ہے۔ امریکی نائب صدر نے کہا کہ ہم نے 21 گھنٹوں تک بات چیت کی اچھی خبر یہ ہے کہ ہم نے کئی پہلوؤں پر گفتگو کی،فی الحال ہم کسی حتمی نتیجے تک نہ پہنچ سکے۔ ہماری ریڈ لائنز کیا ہیں وہ ہم نے واضح کردی ہے،ان میں سے کون سے معاہدے میں شامل ہونگے کونسے نہیں ،یہ سب ہرممکن حدتک واضح ہوگیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی کئی پیچیدہ نکات پر مفاہمت کی تصدیق کی ہے۔ کہا اتنے بڑے تنازع کا ایک ہی نشست میں حل ہوجانا ممکن نہ تھا۔ مذاکرات کے اہم موضوعات کے مختلف پہلوؤں پربات چیت کی گئی،اکثر نکات پراتفاق ہوگیا،دو سےتین نکات پراختلاف برقرار ہے،پاکستان اور دیگر دوست ملکوں کے ساتھ مشاورت جاری رہی گے۔
امریکا اور ایران کے وفود نے شاندار میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ پاکستان مذاکراتی عمل میں ایک اسٹریٹجک برج بن کر ابھرا ہے۔ وزیراعظم شہبازشریف ۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈاراور فیلڈمارشل سید عاصم منیر کی کاوشوں کا عالمی سطح پر اعتراف کیا جارہا ہے۔
بعد ازاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ مذاکراتی عمل میں شریک ایران اور امریکا کے وفود کا شکر گزار ہوں،دونوں ملکوں نے وزیراعظم شہبازشریف کی درخواست پر مثبت ردعمل دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان دونوں ملکوں کےدرمیان مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کاکردارجاری رکھے گا۔ امید کرتے ہیں دونوں ملک پائیدارامن اورخوشحالی کیلئےمثبت سوچ سے آگے بڑھیں گے،یہ ضروری ہے کہ دونوں ملک سیز فائر کے عزم پر قائم رہیں۔





















