مودی کی اسرائیل نواز پالیسی خفیہ کرپٹ نیٹ ورک کے زیر اثر اور سزا یافتہ مجرم جیفری ایپسٹین کی ہدایات پر بنی۔ امریکی محکمہ انصاف نے اسرائیل کی جانب مودی کے جھکاؤ کا بھانڈا پھوڑ دیا۔
امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی اسرائیل پالیسی میں اسٹریٹجک جھکاؤ کی تجویز جیفری ایپسٹین نے دی تھی۔ تجویز میں وائٹ ہاؤس کی حمایت لینے کیلئے دو ارب ڈالر کا اسلحہ اور انٹیلی جنس خریداری بڑھانا شامل تھا۔ ایپسٹین نے اسرائیل نواز بھارتی پالیسی کو قطری شاہی خاندان کے سامنے اپنے مشوروں کا نتیجہ قرار دیا۔
رپورٹ کے مطابق ایپسٹن ٹرمپ کی کابینہ تقرریوں اور خارجہ پالیسی میں تبدیلیوں کی خفیہ معلومات وقت سے پہلے فراہم کرتا رہا۔ ایپسٹین نے انیل امبانی کو امریکی اثر و رسوخ کے اہم حلقوں تک رسائی دی۔ امبانی نے مبینہ طور پر جیرڈ کشنر سے ملاقاتوں کے لیے یہی نیٹ ورک استعمال کیا۔
امبانی گروپ کو کئی ذمہ داریاں ملیں، 2016 کا رافیل طیارہ معاہدہ بھی اسی تناظر میں ہے۔ مارچ میں منظرعام پر آئے پیغامات کے بعد امبانی کے اثاثے منجمد اور شدید عالمی ردعمل کی اطلاعات ہیں۔
مالیاتی رپورٹس کے مطابق امبانی کی دولت 45 ارب ڈالر سے کم ہو کر ایک ارب 70 کروڑ ڈالر رہ گئی تھی۔ دولت کم ہونے پر ایپسٹین نے مبینہ طور پر دوستی کے طور پر مفت مالی مشورے فراہم کیے۔
انیل امبانی نے بھارتی انتخابات کے نتائج کے موقع پر تئیس مئی 2019 کو ایپسٹین کے مین ہٹن گھر کا دورہ بھی کیا۔ یہ ملاقات ایپسٹین کی جنسی اسمگلنگ کیس میں گرفتاری سے چند ہفتے قبل ہوئی تھی۔






















