مشرق وسطٰی میں جاری جنگ کےمنفی اثرات،پاکستان میں مہنگائی 19 ماہ کی بلند ترین سطح 7.30 فیصد تک پہنچ گئی،مارچ کےمہینےمیں چکن،پھلوں اورسبزیوں سمیت کھانے پینےکی متعدد اشیا مہنگی ہوئیں،ساتھ ہی موٹر فیول 18 فیصد جبکہ ٹرانسپورٹ کرائے نو فیصد سے زائد بڑھ گئے۔
ادارہ شماریات کےمطابق گزشتہ ماہ چکن کی قیمتیں 13 فیصد بڑھیں،پھل 11.25 اور سبزیاں 5 فیصد تک مہنگی ہوئیں،دال ماش کے دام 2.78 فیصد اورگوشت کے 1.53 فیصدتک بڑھ گئے، بیکری مصنوعات اور خشک میوہ جات بھی مہنگی ہونیوالی اشیا میں شامل ہیں۔
مارچ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 18 فیصد اضافہ ہوا تو ٹرانسپورٹ کرائےبھی 9 فیصد سے زیادہ بڑھ گئے،بجلی 5 فیصد سے زائد مہنگی ہوئی،البتہ اس دوران ٹماٹر 29 فیصد، آلو 12 ،گندم 5.48 اور انڈے 18 فیصد تک سستےہوئے،بیسن،مشروبات، چنے،آٹے، چینی اور پیاز کے دام بھی گرگئے۔
سالانہ بنیاد پرٹرانسپورٹ کرایوں میں 12.49 فیصد تک اضافہ ہوا،بجلی، گیس اور پانی کی قیمتیں 11.50 فیصد تک بڑھیں،خوراک اور مشروبات 3.55 فیصدتک مہنگے ہوئے،البتہ جلدخراب ہونیوالی خوراک کی قیمت میں 6.91 تک کمی ریکارڈ کی گئی۔






















