دادو کی تحصیل میہڑ میں 8 سال قبل دن دیہاڑے مارے گئے 3 افراد کے قاتل انجام کو نہ پہنچ سکے۔ پیپلزپارٹی کے دو ایم پی ایز سمیت ہائی پروفائل کیس کے آٹھ ملزمان کو ماڈل کورٹ نے بری کردیا۔
ہائی پروفائل کیس میں ضلع دادو کی ماڈل کورٹ نے پیپلزپارٹی کے دو اراکین سندھ اسمبلی سمیت 8 ملزموں کو تین افراد کے قتل سے 8 سال بعد بری کردیا ۔ مدعیہ کے وکیل کہتے ہیں عدالت نے شواہد کو نظرانداز کیا ۔ فیصلے کو سندھ ہائیکورٹ میں چیلنج کریں گے۔
تین افراد کا دن دیہاڑے قتل میں عینی شاہد بھی موجود تھے۔ طبی شواہد بھی میز پر لیکن کوئی ایک بھی مجرم نہیں ٹہرا۔ دادو کی ماڈل کرمنل کورٹ نے شک کا فائدہ دیتے ہوئے تمام 8 ملزمان کو بری کردیا۔
واضح رہے کہ 17 جنوری 2018 میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے تمندار کاؤنسل کے چیئرمین مختیار چانڈیو، قابل خان اور کرم اللہ چانڈیو کو قتل کردیا تھا ۔ مقتول کی بیٹی اُم رباب 8 برس تک اپنے باپ دادا اور چچا کے قتل کا مقدمہ لڑتی رہی لیکن عدالت نے قرار دیا کہ پراسیکیوشن جرم ثابت کرنے میں ناکام رہی۔
واقعے کا مقدمہ ابتدائی طور پر سات افراد کیخلاف درج کیا گیا تھا۔ سہولتکاری کے الزام پر ایس ایچ او کریم بخش چانڈیو اور عبدالستار چانڈیو کو بھی نامزد کیا گیا ۔ ایک حملہ آور اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے مارا گیا تھا ۔ نامزد ملزمان میں پیپلزپارٹی کے ایم پی اے سردار چانڈیو اور برہان چانڈیو بھی شامل تھے ۔ مقتولین کے ورثا نے ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ جانے کا اعلان کردیا۔






















