مشرقِ وسطیٰ سے جنگ کے بادل ہٹانے کےلیے پاکستان نے امن کی شمع تھام لی۔ خطے میں قیام امن کےلئے پاکستان، سعودی عرب، ترکی اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔
اسلام آباد بنا عالمی سفارت کاری کا مرکز بنا گیا۔ مشرقِ وسطیٰ سے جنگ کے بادل ہٹانے کےلیے پاکستان نے امن کی شمع تھام لی ۔ پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان برف پگھلانے کے لیے سفارتی پل بن گیا ہے۔
سعودی عرب، ترکیہ اور مصر کے وزرائے خارجہ کا اسلام آباد میں اہم اجلاس ختم ہوگیا، اجلاس نائب وزیراعظم ووزیرخارجہ اسحاق ڈارکی دعوت پر بلایا گیا۔ وزرائےخارجہ مشاورت میں ابھرتی علاقائی صورتحال کاجائزہ لیاگیا، اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
چاروں ممالک کے وزرائے خارجہ کی اہم ترین ملاقاتیں اور وزیراعظم شہبازشریف کی گذشتہ روز ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے طویل گفتگو اس بات کا ثبوت ہے کہ خطے میں بڑی تبدیلی دستک دے رہی ہے۔
پاکستان کی جانب سے خطے میں امن کے لیے سفارتی کوششوں کے نتیجے میں مصر، ترکیہ اور سعودی عرب کے وزرائے خارجہ دفتر خارجہ آ چکے ہیں جن کا نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے استقبال کیا۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار سے مصری وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر عبدالعاطی نے ملاقات کی، جس میں دو طرفہ تعلقات، خطے کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا، ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان نے بھی اسحاق ڈار سے ملاقات کی، جس میں علاقائی اور عالمی امور پر گفتگو کی گئی، اور تعاون جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔





















