جے شنکر کو پاکستان مخالف غیرمہذب بیان پربھارت میں کڑی تنقید کا سامنا ہے ، سفارتی زبان اورپالیسی پر سوالات اٹھائے جارہے ہیں،
تفصیلات کے مطابق یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان، امریکہ اور ایران کے درمیان سفارتی رابطوں میں نمایاں کردار ادا کر رہا ہے، بھارتی وزیر خارجہ کے بیان پر بھارتی اپوزیشن رہنماؤں نے بی جے پی اور مودی کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا
ترجمان بھارتی کانگریس ڈاکٹر شمّع محمد نے نازیبا بیان کو سفارتی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے منتخب کیا جانا اور بھارت کا باہر رہنا مودی حکومت کی ناکامی ہے۔
کانگریسی ممبر سپرِیا شری نیتے نے کہا کہ روس یوکرین جنگ میں ثالثی کی پیشکش یا جنگ رکوانے کے بھارتی دعویٰ کو کیا نام دیا جائے؟۔ پون کھیر کا کہناتھا کہ مودی کی روس اور یوکرین کے درمیان ثالثی کی کوشش کے وقت کیا بھارت ایک بروکر ملک نہیں تھا؟
بھارتی تجزیہ نگار اشوک سوائن کا کہناتھا کہ جے شنکر کے نازیبا الفاظ محض سڑک کی زبان ہے، کسی وزیر خارجہ کے شایانِ شان نہیں۔
عالمی ماہرین کے مطابق جے شنکر کا غیر سفارتی بیان ہزیمت چھپانے کا ایک دفاعی ردعمل ہے، حالیہ خلیجی بحران میں بھارت کو مرکزی کردار نہ ملنا بھارت کی سفارتی ناکامی ہے۔
بھارتی وزیر خارجہ کے بیان نےنام نہاد امن کے دعویدار بھارت کی سفارتی ساکھ اور سنجیدگی پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔





















