ایران کیخلاف جنگ پر بریفنگ دیتے ہوئے امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ امریکا ایران میں جیت رہا ہے، مزید افواج مشرق وسطیٰ پہنچ رہی ہیں، ایک ہفتے کے اندر ایران کی فضاؤں پر ہمارا کنٹرول ہوگا۔
امریکی وزیر دفاع نے کہا کہ ہم ایران پر بھرپور وار کررہے ہیں، وہ گرنے کے قریب ہے، بحر ہند میں ہم نے ایران کا جنگی بحری جہاز ڈبو دیا ہے، ایرانی لیڈر نے صدر ٹرمپ کو قتل کرنے کی کوشش کی،ایران میں اسکول پر ہونے والی بمباری کی تحقیقات کررہے ہیں۔ایران کا دوبارہ مذاکرات یا ایٹمی معاہدے کا کوئی ارادہ نہیں۔
چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین نے کہا کہ ایران کے جنوبی ساحل پر ہم نے فضائی کنٹرول حاصل کیا ہے،ہم اب ایران کی اندرونی حدود کی جانب بڑھ رہے ہیں، ایران کی جانب سے میزائل اور ڈرونز فائر کرنے میں کمی آئی ہے،ہمارے پاس ہتھیاروں کا ذخیرہ اس جنگ کیلئے کافی ہے، نقصانات کا جائزہ لینے میں مزید وقت لگے گا۔
ان کاکہناتھا کہ امریکا کے اتحادی اپنا بھرپور دفاع کررہے ہیں، ابھی جنگ کی شروعات ہے، ہمارا پلڑا بھاری ہے، آپریشن پیچیدہ اور خطرناک ہے، جلد ختم نہیں ہوگا، اب بھی بہت زیادہ خطرات موجود ہیں، ایران کے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو شدید دھچکا لگا ہے، ترکیہ پر میزائل داغنے سے نیٹو آرٹیکل فائیو لاگو کرے گا یا نہیں معلوم نہیں۔





















