وفاقی وزیر پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے کہاہے کہ ہمارے فوجی جوان ملک کے دفاع کیلئے لڑ رہے ہیں، ہم اپنے جوانوں اور شہریوں کےجنازے اٹھا رہے ہیں،پاکستان اب مزید یہ سب برداشت نہیں کر سکتا۔
طارق فضل چوہدری نے سینیٹ میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں دہشتگردی میں افغانستان ملوث ہے، افغانستان کے 3صوبوں میں پاکستان نے ایئر اسٹرائیکس کیں، ایئر اسٹرائیکس میں 100 سے زائد فتنہ الخوارج ہلاک ہوئے، ایئر اسٹرائیکس میں فتنہ الخوارج کے تربیتی مراکز کو نشانہ بنایاگیا۔
طارق فضل چوہدری کا کہناتھا کہ باجوڑ اور بنوں میں ہمارے فوجی افسران اور جوانوں کی شہادت ہوئی، دہشتگردی کے تمام واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، افغانستان میں تمام کارروائیاں انٹیلی جنس بنیاد پر تھیں، افغانستان میں سویلینز کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی، افغانستان سے پاکستان میں دہشتگردی کےثبوت طالبان رجیم کے سامنے رکھے تھے۔
طارق فضل کا کہناتھا کہ طالبان رجیم کی دہشتگردی روکنے میں سنجیدہ کوشش دیکھنے میں نہیں آئی، افغانستان کو دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں،تربیت گاہوں کی تفصیل فراہم کی گئی، طالبان حکومت نے پناہ گاہوں،تربیت گاہوں کیخلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔





















