مرد عورتوں کے محافظ ہیں قاتل نہیں، سپریم کورٹ نے بیوی کے قاتل منشیات کے عادی شوہر کی اپیل خارج کرنے کا تحریری فیصلہ جاری کردیا۔ وارث مسیح کی سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کا اسلام آباد ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا گیا ہے۔
سپریم کورٹ کے 3 رکنی بینچ کے سربراہ جسٹس ہاشم کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا۔ فیصلے میں قرار دیا گیا ہے کہ خواتین معاشرے کی برابر کی رکن اور تحفظ، احترام و وقار کی حقدار ہیں، خواتین کے ساتھ معمولی باتوں پر جانوروں جیسا سلوک اور بہیمانہ تشدد کیا جاتا ہے، منشیات کی لت خواتین پر ہونے والے وحشیانہ تشدد کی ایک بڑی وجہ ہے، کسی کو ماں، بہن، بیوی اور بیٹی کا مقدس رشتہ خراب کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔
فیصلے کے مطابق ریاست جامع قانون سازی، نفاذ اور معاون پروگراموں کے ذریعے خواتین پر ظلم روکے، فیصلے میں کہا گیا ہے استغاثہ کے مطابق ملزم منشیات کا عادی تھا، بیوی کے ساتھ اکثر جھگڑا کرتا رہتا تھا، ملزم نے 2015 میں آدھی رات کو بیوی اور دو کمسن بچوں کو ڈنڈوں کے وار کرکے شدید زخمی کیا،ملزم کی اپنی بیٹی نےبطورچشم دید اور زخمی گواہ اپنے باپ کے خلاف گواہی دی۔
میڈیکل رپورٹ کے مطابق مقتولہ کی موت کھوپڑی کی ہڈی ٹوٹنے اور دماغی چوٹوں سے ہوئی،ملزم کا وقوعہ کے بعد فرار، تدفین میں عدم شرکت اور پولیس کو اطلاع نہ دینا سنگین شواہد ہیں، ٹرائل کورٹ نے ملزم وارث مسیح کو سزائے موت،ایک سال قید بامشقت اور دیت کا 5 فیصد جرمانہ کیا تھا جبکہ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ملزم وارث مسیح کی سزائے موت کو عمر قید میں تبدیل کردیا تھا۔






















